شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ہمارے نام پر سیاست کھیلنے سے باز آئیں ۔جوڈیشنل انکوئری کا مطالبہ مسترد۔پریس کانفرنس اسیران ختم نبوت

ہمارے نام پر سیاست کھیلنے سے باز آئیں ۔جوڈیشنل انکوئری کا مطالبہ مسترد۔پریس کانفرنس اسیران ختم نبوت

چترال(بشیر حسین آزاد)اسیران ختم نبوت چترال شبیر احمد،اکرام اللہ،فخراعظم،انضمام الحق،اعزازالرحمن،ظاہر خان،عبدالسلام،عباد الرحمن،سہیل احمد،ندیم،نوراسلام،فہیم الدین نے ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن،مولانا عطاء الرحمن،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او چترال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اسیران ختم نبوت کی رہائی کے لئے ذاتی دلچسپی لی اور اس سلسلے میں اہم کردار اداکیا۔جس کے تحریری ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلع ناظم مغفرت شاہ،مولانا عبدالشکور،مولانا حسین احمد اور مولانا جمشید احمد ہمارے نام پر سیاست کھیلنے سے باز آئیں ،ورنہ حقائق عوام کے سامنے لائیں جائیں گے۔اسیران ختم نبوت کے خلاف 6\7\ATAاور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات ضلع ناظم کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں لہذا ہمارے ساتھ جو بھی ہوا یہ سب کچھ ضلع ناظم کی مشاورت سے ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی پولیس اہلکاروں کو قتل یا زخمی کرنے کی کوشش کی،ہم نے صرف ملعون کے خلاف احتجاج کیا تھا جو کہ ہمارا حق تھا۔ہم جوڈیشنل انکوائری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہیں یہ ہمارا مطالبہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے ساتھ ماروائے قانون زیادتی نہیں ہوئی ۔

اُنہوں نے کہا کہ اسیران ختم نبوت کو ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے ڈی آئی خان جیل سے چترال جیل تبدیل کیا جارہا تھا جبکہ مولانا عبدالاکبر چترالی اور اُن کے ساتھیوں کی طرف سے مردان جیل منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس کے لئے میڈیا کو بھی پریس ریلیز جاری کیا گیا تھا جوکہ ہمارے ساتھ انتہائی زیادتی تھی جسے ڈی سی اور ڈی پی او چترال نے ناکام بنایا۔اُنہوں نے کہا کہ دوران قید جیل میں تقریباً سبھی سیاسی قائدین نے اسیران ختم نبوت سے ملاقات کی لیکن ضلع ناظم واحد شخصیت ہے جس نے اسیران ختم نبوت سے ملاقات کرنے کی جرات نہیں کی یا گوارہ نہیں کیا اور انہوں نے ہمارے لئے یزیدی کردار ادا کیا جو کہ قابل مذمت ہے۔اُنہوں نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولو ٹورنامنٹ کے خاتمے کے لئے دفعہ 144کے باوجود جلوس نکال کر پولو گراونڈ جاکر جھنڈیاں اُتار کر بینرز پھاڑ کر خوف وہراس پھیلانا اورآیف ائی آر سے بچ نکل جانا کیا معنی رکھتاہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس ضلع ناظم کی مشاورت کے بے غیر کچھ نہیں کرسکتی ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔اسیران ختم نبوت نے کہا کہ ضلع چترال میں شب وروز محنت کرکے اور ہمارے سرپرستوں کو ہمراہ لے کر جرگے کی حیثیت سے ڈی سی آفس میں حکام بالا سے ملاقات کرکے ہمارا مسئلہ حل کرنے ، ہمیں رہائی دلانے اور جیل سے باہر ہمارا استقبال کرنے پرہم سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن، مولانا قاری جمال عبدالناصر،تحصیل ناظم مولانا محمدالیاس ،مولانا فتح الباری ،مولانا عبدالسمیع،مولاناقاضی نسیم،،مولانا فدا محمد ،نصرت الہیٰ اور ایڈوکیٹ وقاص احمد ودیگر کا تاحیات شکرگزار رہیں گے۔اُنہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ،آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ اور ہوم سیکرٹری کا رہائی کو یقینی بنانے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ فدا حسن ڈی آئی جی ڈیرہ اسمعیل خان اور ڈی آئی خان کے علماء کرام کا بھی اُن کے ساتھ مکمل تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا.

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے