شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال میں صحافت اور صحافیوں سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا اور تاریخی پروگرام !

چترال میں صحافت اور صحافیوں سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا اور تاریخی پروگرام !

چترال میں صحافت اور صحافیوں سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا اور تاریخی پروگرام !
چترال(نمائندہ چترال آفیئرز) آج 9 جولائی بروز اتوار پامیر ریور سائڈ ان ہوٹل چترال میں چترال ایکسپریس نیوزکی جانب سے مقامی صحافی حضرات کے لیےایک ایوارڈ شو کا اہتیمام کیا گیا۔یہ ایوارڈ شو چترال کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا پراگرام تھا۔ جس کے مہمانان گرامی میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب ،ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری صاحب ،ایم پی اے محترمہ فوزیہ بی بی اور چترال پریس کلب کے صدر جناب ظہیر الدین صاحب اور دوسرے معزز مہمان بھی شامل تھے۔اس ایوارڈ شو کے انعقاد کا مقصد ضلع چترال میں جتنے بھی صحافی حضرات ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور مقامی صحافی حضرات کو یکجا کرنا تھا۔چترال ایکسپریس کے چیف ایڈیٹرجناب بشیر حسین آزاد اور ٹیکنیکل ایڈوائزر جناب محمد نایاب فارانی صاحب نے چترال ایکسپریس سے منسلک صحافیوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ مل بیٹھنے کے لیے اس نوعیت کے پروگرام کو ترتیب دی تھی۔اس موقع پر مہمانوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور زور دیا کہ صحافی حضرات چترال سے متعلق امور کو زیر غور لاکر اپنے قلم کو ان امور نشاندہی کے لے استعمال کریں۔
اس موقع پر منتخب رپورٹرز،کالم نگاروں اور صحافت سے منسلک صحافی حضرات میں ایوارڈ بھی تقسیم ہوئیں۔
جن کی تفصیل کچھ یوں ہیں :


آل ٹائم بسٹ رائٹر کا ایوارڈ جناب ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کو دیا گیا۔
بیسٹ نیوز رپورٹر کا ایوارڈ جناب ظہیر الدین صاحب کو دیا گیا۔
بیسٹ رول پلے کا ایوارڈ جناب محمد جاوید حیات صاحب کو دیا گیا۔
بیسٹ رپورٹر آف کمیونٹی میٹر کا ایوارڈ جناب محکم الدین صاحب کو دیا گیا۔
بیسٹ کلچر اینڈ لینگویج کا ایوارڈ جناب الحاج محمد خان کو دیا گیا ۔
ایمرجینگ بسٹ رائٹر(فیمل) کا ایوارڈ محترمہ ثوبیہ کامران کو دی گئی۔ا

یمرجینگ بسٹ رائٹر (میل) کا ایوارڈ جناب محمد صابر کو دیا گیا۔


بسٹ ویورشپ ایوارڈ جناب شیر جہاں ساحل صاحب کو دیا گیا۔
اور آخر میں بسٹ اسپورٹ رپورٹر کا ایوارڈ جناب جمشید آحمد کو دیا گیا۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے