شہ سرخیاں
Home / اداریہ / چترال ٹاؤن مسائل کی زد میں!

چترال ٹاؤن مسائل کی زد میں!

چترال ٹاؤن مسائل کی زد میں!
چیف ایڈیٹر عاصم محمد
ضلع چترال رقبے کے لحاظ سے صوبہ خیبرپختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہونے کے باوجود عوامی مسائل سے بھرا پڑا ہے۔چترال کے گردو نواح اور اپر چترال سے پہلے جب چترال ٹاؤن ہی کی بات کریں تو چترال شہر کے ایسے ایسے عوامی مسائل ہیں جنہیں دیکھ ایک عام شہری کا دل تڑپ اٹھے ۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں جو کہ دوران سفرتکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ ندی نالوں کا غیر منظم نظام جس کی بنا پر اکثر و بیشتر اوقات ندی نالوں کا پانی بیچ سڑک بہتا رہتا ہے جس کی وجہ سے عام عوام کو کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بازارمیں غیر معیاری اشیا ء کی کھلے عام خریدوفروخت جن پر دن بھر مکھیاں بنبناتی رہتی ہے جو کہ حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہے۔اور ذمہ دار افراد کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے ایکسپائر چیزیں بھی فروخت ہورہی ہیں۔چترال کا پرانا بازار گندگی اور غلاظت کا دھیر بن چکی ہے۔اب تو اب نیا بائی پاس روڈ بھی پرانے بازار کی بہ نسبت صاف و ستھرا ہونے کے گندگی میں اس سے بھی آگے نکل گئی ہے بائی پاس رو ڈ کی تعمیر کے وقت جتنے بھی عمارتیں یا دوکانات گرائے گئے ان کے باقیات جوں کے توں پڑے ہیں نہ ان کو اٹھانے والا ہے اور نہ ان باقیات کو کوئی ٹھکانے لگانے والا جو کہ عوام کے لیے وبال جان بن گئے ہیں۔

چترال ٹاؤن کے ہسپتال بدبو اوراندھیروں کی نظر ہیں۔بجلی ،گیس اور پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔سڑک کنارے بیچ راہ کولڈڈرنکز کے خالی بوتل ،استعمال شدہ پلاسٹک ، کاغذ کے ڈبے اور نہ جانے کیا کچھ بکھرے پڑے ہیں ۔چترا ل شہر گندگی و غلاظت کا دھیر بن گئی ہے ۔اس قبیح عمل کے پیچھے میونسپل کمیٹی کی غفلت اور غیر ذمہ دارنہ رویہ کارفرما ہے۔محمکہ سی۔این۔ڈبلیو کی غفلت جس کی وجہ سے چترال شہروں کی سڑکیں عام راہگیروں کے لیے غیر محفوظ ہیں ۔

حالیہ دنو ں وزیر اعلی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان صاحب نے چترال کا دورہ ہم عوام کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف سیر وتفریح کی غرض سے کیا تھا ۔اس کا واضح اور منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ باوجود ضلع چترال امن و امان کے لحاظ سے بہتر اور موضوع جگہ ہونے کے بعد کیا عمران خان صاحب گولدور بائی پاس چوک پر اتر کر عام عوام کے مسائل خود ان کے زبانی نہیں سن سکتے تھے ؟ْ

Facebook Comments

ایک تبصرہ

  1. chitral ke awam aman pasand hn is leye hamare sat yehe suluk hota hn kam az kam hamare ye muntakhab numayende ye kam to kar sakte hn salkon ke maramat nalun ke safaye asheya khurdunush k qemato pe nazar sani ye kam to kare khuda k leye is zeya our bale projct ap nhn kar sakte

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے