شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / "عجب ساعت دید”

"عجب ساعت دید”

مجید امجد سدا بہارشخصیت کے مالک استادمحترم پروفیسرڈاکٹر سہیل احمد نے مجید امجد کو اقبال کے بعد اردو نظم کا بڑا شاعر قرار دیاتھا.مطالعہ مجیدامجد کےبعداستادمحترم کےکہےگئےحرف حرف سےاتفاق ہےکہ واقعی فن اورفکر ہردولحاظ سے مجیدامجد ایک نابغہ روزگارادیب ہیں.فکری تنوع تمام شعراء میں یکساں ہوتاہے.مگر فن کے ایسے سانچے جن پر مجیدامجدنے اپنےکلام کوڈھالاہے.فن کی یہ لچک یالوچ کم ہی شعراء کی دسترس میں ہوتے ہیں.

کسی بہت بڑے محقق نے اسی لئے بڑی تخلیقیت کو فاختہ سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہاتھا.”فاختہ اپنی ترنگ میں کسی درخت سے سیدھی اڑتی اور پھراپنےپروں کو پھیلا کردوشِ ہوا پرتیرتی ایک خوبصورت قوس بناتے ہوئےدوسرے درخت پرجابیٹھتی ہے”اس کا سیدھا مفہوم یہ ہے کہ تخلیق(فن) کا حسن اس کی سیدھی پرواز میں نہیں بلکہ لچک،خم،یالُوچ میں ہے.اقلیدس کا عام سااصول ہے کہ جب کوئی خط قوس میں بدلتاہےتووہ زُودیابدیراپنےنقط آغاز تک آپنچتاہے.جس کا ایک خط شاعر کی ذات سے کائنات تک جاتاہےاور دوسرا دوسرا خط ایک خاص مقام کےبعد شاعر کی ذات کی طرف لوٹتاہے..چنانچہ شاعر کا احساس مشترک بن جاتاہے..اس کے احساس سے دوسرے بہت لوگوں کےاحساسات بھی جڑ جاتے ہیں .

اسی لئےاردوغزل میں غالب اور اردو نظم میں اقبال اور مجیدامجد کی حیثیت فلاسفر یارہبرکی نہیں ایک”تماشائی”کی ہے.تماشائی جو مادی طور پر زمین کےساتھ چمٹا ہواہے لیکن جس کےتخیل نے وقت کو اپنی گرفت میں لیاہے.اس لئے ان تینوں کی شاعری ذھنی ورزش کےبجائے داخلی وردات کہلاتی ہے.لیکن اسی داخلی واردات کو مجید امجد نے اپنے متنوع فن سے مزید خوبصورت بنایاہے .

یوں تو اس کی شاعری کی کئی پرتیں ہیں مگر اپنے ایک نظم جس میں معرفت کا انوکھا لمحہ موجود ہے اور نظم لکھتے ہوئے مجیدامجد کو بھی یہ محسوس ہواہوگا کہ یہ لمحہ پھر نہیں آنے والا اسی لئے اس نے اس لمحہ کو نظم میں محفوظ کردیاہے..خاص کر نظم کا یہ بند اپنےپیش نظررکھیں

"اک عمر،اب میں یونہی اپنی طرف دیکھتے دیکھوں گا تجھے

” آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعت دید!

آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو

میری ان تَشنہ نگاہوں کی صدا کوئی بھی سن نہ سکا!

صرف اک تیرےہی دل تک یہ صدا

جاگتی دنیا کےکُہرام سےچپ چاپ گزرکرپہنچی

صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا

مجھےتونے،تجھے میں نے دیکھا

آج تھی میری نگاہوں کےمقدر میں عجب ساعت دید!

کیا خبر،پھر توپلٹ کر مری جانب کبھی دیکھے کہ نہ دیکھے

لیکن اک عمر اب میں یونہی اپنی طرف دیکھتے دیکھوں گا تجھے!

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے