شہ سرخیاں
Home / اداریہ / انسانی جانوں کی قدر و قیمت اور ہمارے ادارے!

انسانی جانوں کی قدر و قیمت اور ہمارے ادارے!

 

چیف ایڈیٹر عاصم محمد

ضلع چترال سنگلاخ پہارڑوں کے درمیان واقع ہے جس کے زیادہ تر حصے کو پہاڑوں اور دریا نے سمیٹ لیا ہے ۔اورضلع چترال میں رہائشی اور زرعی اراضی کم ہے۔اپر چترال کے عوام اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے چترال شہر کا رخ کرتے ہیں جن کا زیادہ ترانحصار چترال شہر پرہے ۔اپر چترال کے عوام سفرکے لیے عموما جیپ گاڑی کو ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ چترال میں اکثر بیشتر سڑک کے ساتھ ساتھ دریا بھی بہتی ہے ۔بہتی دریا کے ساتھ سڑک پر سفر کرنا کسی بھی خطرناک صورت حال سے کم نہیں۔اپر چترال سے قبل چترال شہر کی بات کریں تو دریا چترال شہر کے وسط میں سے گزرتی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک اور شہروں میں عوام کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے جاتے ہیں۔

ہمارے چترال میں آج بھی سڑکوں کے ساتھ بنے ہوئے سیمنٹ کے سیفٹی بلاکز قدیم چترال کی یاد دلاتی ہیں ۔ جو کہ ٹھیکہ دار حضرات کی غبن اور کرپشن کی وجہ سے محض بجری کے ایک ٹھیلے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حکومت کثیر رقوم خرچ کرکے یہ پشت حادثاتی لمحات میں گاڑیوں کی حفاظت کے لیے بناتی ہے۔

گزشتہ دنوں وادی ارکاری سے مسافر جیپ چترال آتے ہوئے انہی سییفٹی بلاکز کو مسمار کرتے ہوئے دریا میں جاگری اور جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اور یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے پہلے بھی اس جیسے کئی حادثات اسی مقام پر رونما ہوئے ہیں اور ان میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکیں ہیں

مگر ہمارے متعلقہ ادارے کی کان میں جوئے تک نہیں رینگتی ہے ۔یہ حفاظتی پشتیں ایک خانہ پوری کے سوا کچھ بھی نہیں ان کی جگہ لوہے کے جنگلے دریا کے ساتھ ساتھ لگائے جائیں تو عوام کی حفاظت یقینی ہوجائے گی۔

کیا حکومت کو نہیں چاہیے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات کریں اور کم از کم روڈ او ر سڑکوں کی حالات ٹھیک کریں اورسیمنٹ کے سیفٹی بلاکز کو پتھر کی جگہ سریا لگا کر مضبوط کیا جائے یا ان کی جگہ دریاسائیڈ لوہے کے جنگلے لگائیں جائیں۔۔۔
حالیہ واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ماتحت اور ذمہ دار ادارے اس اہم مسئلے پر نظر ثانی کریں اور مزید اپنی نا اہلی کی وجہ سے قیمتی جانوں کو ضائع نہ کریں۔۔۔ٍ

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے