شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال پولو ایسوسی ایشن کو رجسٹرڈ کرنے اور ایسوسی ایشن کے صدر سے فلفوراستعفادینے کا مطالبہ۔اسد ولی بونی /قاضی فیصل احمد سعید

چترال پولو ایسوسی ایشن کو رجسٹرڈ کرنے اور ایسوسی ایشن کے صدر سے فلفوراستعفادینے کا مطالبہ۔اسد ولی بونی /قاضی فیصل احمد سعید

 

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز)کھیل کسی بھی معاشرے کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے ایک صحت مند اوراچھے معاشرے کی تشکیل میں کھیل ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔چترال کے لوگ کھیلوں میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ پولو چترال کی ایک قدیم ثقافتی کھیل ہے جو کہ آج بھی چترال میں بڑے ذوق وشوق کے ساتھ کھیلی جاتی ہے ۔اس کھیل کو بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے ۔چترال میں پولو کے بے تحاشا شائقین پائے جاتے ہیں ۔ چترال پولو کی خاصیت یہ ہے کہ چترال میں کھیلی جانے والی پولو میں کوئی قواعد و ضوابد نہیں ہیں اور اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ) There is only one rule, there is no rule ) چترال میں کھیلی جانے والی پولو کو فری اسٹائل پولو کہا جاتا ہے ۔چترال میں پولو کے مختلف ایونٹز منعقد کیے جاتے ہیں جس میں ڈسٹرکٹ کپ ٹورنمنٹ نمایاں و سرفہرست ہے۔جس کی بنیاد پر سال کے سب سے بڑے ایونٹ شندوپولور فیسٹیول کے لیے ضلع چترال کی سطح پر مختلف کیٹیگریز کے ٹیموں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔جو کہ وہاں پر گلگت کے مختلف ٹیموں کے ساتھ مد مقابل ہوتے ہیں۔اور یہ سلسلہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے شندور پولو فیسٹیول میں میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاسی اور سفارشی طور پر منظور نظر کھلاڑیوں کا انتخاب کیاجاتا ہے ۔ڈسٹرکٹ سطح پر بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو شندور کے لیے منتخب ٹیم سے دور رکھا گیا۔

اسی سلسلے میں بونی سے تعلق رکھنے والے پولو کے مشہور و معروف پلیئر اسد ولی نے چترال آفیئرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شندور پولوفیسٹیول کے لیے موجودہ ٹیم کی سلیکشن غیر منصفانہ اور میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ۔اس موقعے پر اسد ولی نے چترال پولو ایسوسی ایشن کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ فلفور چترال پولو ایسوسی ایشن کو تحلیل کیا جائے اور صدر شہزادہ سکندر الملک سے استعفے کا مطالبہ کیا ۔اور ان کامزید کہنا تھا کہ جو کوئی بھی آئے وہ سلیکشن سے نہیں بلکہ الیکشن کے ذریعے صاف وشفاف طریقے سے آئے ۔ چاہے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو ۔ انہوں نے کہاآج تکْ سفارشی افراد کوآگے لایا گیا اور انہیں نوازا گیا اور جنہوں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی ان کو سائد لائن کی گئی ۔ایک بار پھر پولو پلیئر اسد ولی نے صدر سکندر الملک کو چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدارت سے ہٹنے اور الیکشن کے ذریعے الیکٹ ہوکر عہدے پر بحال ہونے کی تجویزدی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چترال پولو ایسوسی ایشن کی ازسر نو تشکیل کی جائے اور منتخب شدہ افراد کو فرائض تحویض کیے جائیں جو آزادنہ الیکشن منتخب کرائیں اور بزریعہ ووٹ نئے صدر کی چناؤ کرے۔ کیونکہ آج تک چترال پولو ایسوسی ایشن نے چترال میں پولو کے فروغ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے اور پولو پلیئزز کے ساتھ نہایت برا برتاؤ ہوتا ہوا آیا ہے۔ اور شہزادہ سکندر الملک ہمیں بتائے کہ چترال میں پولو کے لیے ان کی خدمات کیاکیا ہیں؟سنوغر پولو گراؤنڈ ، چوینچ پولو گراؤنڈ ، ریشن پولو گراؤنڈاور دروش پولو گراؤنڈ کا بہت برا حال ہوا ہے ۔صدر کی کمزوری کی وجہ سے ان پولو گراؤنڈز کا یہ حال ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سہیل اور اکبر خان اپنی مدد آپ کے تحت اس وقت کے وزیر اعلی اکرم خان درانی سے ملاقات کرکے بونی پولو گراؤنڈ کے لیے فندکا مطالبہ کیا جس کی بیناد پر انہوں نے 80 لاکھ روپے کا اعلان کیا جس میں سے 40 لاکھ بونی پولو گراؤنڈ اور40لاکھ چترال پولو گراؤنڈ کو دئیے گئے ۔حالانکہ یہ کام صدرچترال پولو ایسوسی ایشن کا تھا۔مزید ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ایڈمینسٹریشن کی طرف سے اعلان کردہ الاؤنس پچھلے دو سال سے انہیں نہیں دی جارہی ہیں۔اور اس کا ذمہ دار صدر چترال پولو ایسوسی ایشن ہے۔جن موجودہ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ میرٹ پر پورا نہیں اترتے ۔اور پولو کے بہترین پلیئرز جن میں اشفاق ،اکبر،آصف ،اصفر حسین باڈی، شافی ،شجاع الحق،الیاس اور ریاض علی شاہ کے علاوہ اودوسرے بھی کھلاڑی شامل ہیں جن کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ ۔شہزادہ سکند ر الملک کا چترال پولو ایسو سی ایشن کے بحیثیت صدر 20سال ہو گئے ہیں۔آخر میں ان کا کہنا تھا کہ میرا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور نا ہی کسی کھلاڑی کے ساتھ ذاتیات ہیں میں چترال میں پولو کی بہتری اور نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جد وجہدکررہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔

اس موقعے پر سیکیڑی انفارمیشن پی۔پی۔پی قاضی فیصل احمدسعیدچترال آفیئرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوکہ خود بھی پولو کے کھلاڑی ہیں کا کہناتھا کہ پولو اور کیلاش کی وجہ سے ہماری پہچان ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ شندورپولوفیسٹیول کے لیے کھلاڑیوں کی سلیکشن ہونے کے بعد میں نے خود یہ محسوس کی کہ سلیکشن غلط ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہزادہ سکند الملک ہر لحاظ سے لیجنڈپلیئر ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ انہیں ریٹائرمنٹ لینی چاہیے۔اور نوجوان کھلاڑیوں کوآگے آنے کا موقع دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آخر کیوں پولو ایسوسی ایشن ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہے ۔جبکہ باقی کھیلوں مثلا فٹ بال،کرکٹ،ٹیبل ٹینس اور دیگر کھیلوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولو سیاست کی نظر ہو چکی ہے۔کسی بھی کھیل سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے سہولیات موجود ہیں اور صرف پولو پلیئرز کے لیے کوئی بھی سہولیات موجود نہیں۔شہزادہ صاحب کا پولو کے لیے کوئی بھی خدمات نہیں ہیں۔اور ان کا کہنا تھا کہ جلد از جلد صدر سکندر الملک چترال پولو ایسوسی ایشن سے مستعفی ہو جائیں اور الیکشن کی راہ ہموار کریں تاکہ نئے چہروں کو سامنے آنے کا موقع ملے ۔ اگر الیکشن کے تحت شہزادہ سکندر الملک منتخب ہو کر پھر سے صدر منتخب ہوتے ہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ بذریعہ ووٹ منتخب ہونا ایک جمہوری عمل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کہی بھی اس طرح نہیں ہوتا ہے کہ ٹیم پہلے سلیکٹ ہو اور بعد میں ٹیم مینجر اور کوچ کاانتخاب کیا جائے اور یہ بات ان کی غیر ذمہ دارانہ سوچ کی عکاس ہے۔چترال پولو ایسوسی ایشن کو سب سے پہلے تحلیل کرنی چاہیے پھر باقاعدہ طور پر حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ کرنی چاہئے اور باقاعدہ کابینہ تشکیل دینی چاہیے جس میں فائنانس سیکٹری ،جنرل سیکٹری ،انفارمیشن سیکڑی اور دوسرے عہدہ داران شامل ہوں ۔آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی کے ساتھ کسی قسم کا بھی بغض و عناد نہیں ہے ۔ صرف اور صرف چترال میں پولو کی فروغ کے لیے ہر وقت کسی بھی فورم پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

Facebook Comments