شہ سرخیاں

اداریہ:ظفر اللہ
اردو سفرنامہ کا بڑا نام مستنصر حسین تارڑ اپنے سفرنامہ”چترال داستان”میں لکھتے ہیں”ہرنسل کا حق ہے کہ وہ اپنی سوچیں بزرگوں سے مخفی رکھے کہ بزرگ ان سوچوں کی تاب نہیں لاسکتے.ان کا ادراک نہیں رکھتے.نہیں رکھ سکتے کہ ان کی مٹی مختلف ہوتی ہے.وہ کسی اور بھٹی کے پکے ہوتے ہیں ہر نسل اپنی بھٹی میں اپنی آگ اور تجربوں میں پکتی ہے.اور وہ اپنے تجربے اپنے نتائج کو آئندہ نسل پر لاگو نہیں کرسکتی.اسی کو ارتقا کہتے ہیں” لا ریب کہ چترالی معاشرہ بھی ایک ارتقائی مرحلہ طے کررہاہے.سماجی اقدار انگشت نمائی کی زد میں ہیں اور مروجہ اخلاقی نظام لرزہ براندم ہے کہ اب گرا تب گرا..سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور جوابات دینے والے جواب پورا کرنے سے پہلے ایک نئے سوال کا سامنا کررہے ہوتے ہیں..اس ارتقا کے چلن پر بات ہو سکتی ہے مگر اس کو مکمل نظر انداز کرنا گھاٹے کا سودا ہوگا.ہمارا آج کا معاشرہ برقی ذرائع ابلاغ کی گود سے پھوٹ پڑا ہے..کل تک ہم جس طرح ایک سرکاری نشریاتی ادارے کو سننے اور سہنے پر مجبور تھے اب ایسا نہیں رہا..اور یقینًا وہ زمانہ بھی لد گیا جب ذرائع ابلاغ پر ایک سرکاری نشریاتی ادارے کی اجارہ داری چلتی تھی کہ وہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید پوش ثابت کرنے پر قادر تھا. ہم آنکھیں بند کرکے اس ارتقائی چلن کے پیچھے بھی نہیں چل سکتے..ایک معیار ایک پرکھ کے بغیر اس کو ہاتھوں ہاتھ لینا میرے نزدیک گھاٹے کا سودا ہوگا..چنانچہ چترال افئیرز پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں پنپنے والے مختلف نظریات کو زیر بحث لائے اور تاکہ معاشرے کو ہر دو انتہا پسندی سے دور رکھا جا سکے. آج تو سوشل میڈیا نے آکے اور بھی کہرام مچادیاہے..کل تک جو باتیں دھیمی لہجے میں اور کبھی سات پردوں میں چھپا کے پیش کی جاتی تھیں آج وہ سب چلاتے اور چیختے ہوئے پیش کی جارہی ہیں.خبروں ،تجزیوں اور تبصروں کا ایک ریلا ہے جو سب کو اپنے ساتھ بہا کے لے جارہایے..جب چترال افئیرز نیوز ویب سائیٹ کی بنا ڈالی گئی تو میرے ذھن میں ایسے کئی سوالات اٹھے.!!!چترال افئیرز سوشل ویب سائیٹ کے اس انبوہ میں کس طرح اپنی انفرادیت منوائے گا؟ ریٹنگ کے چکر میں آج کل خبروں میں ہیجان پیدا کرنے کو ذیادہ فوکس کیا جاتاہے اس لئے خبر کی قبولیت سے عنوانات سجانے تک ہمیں احتیاط سے کام لینا ہوگا..ہمارے تمام تحرک کا مقصد محض ہیجان برپا کرنا نہ ہو بلکہ مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل پیش کرنا ہو ضروری ہے کہ چترال افئیرز اپنے قارئین کو ایک ایسا فورم مہیا کرے جس میں قدیم اور جدید کا حسین امتزاج پایا جاتاہو..معاشرے کے حقیقی مسائل کو اجاگر کیا جائے..اپنے قارئین کے ذوق کی ابیاری کا بھی خوب اہتمام کرے..خود کو محض سیاست دوراں تک محدود نہ کرے بلکہ ادبی تخلیقی فن پاروں کو بھی خصوصی اہتمام کے اپنے صفحہ کی زینت بنائے رکھے… الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے حوالے سے جو تاثر مضبوط ہوا ہے کہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ..اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرنی چاھئے ہمارا مطمح نظر صرف معیار ہونا چاھئے..مجھے امید ہے کہ ارتقا کے اس چلن میں چترال افئیرز کی حیثیت محض تماشائی کی نہیں بادہ نما کی ہوگی..جس سے دوسرے نیوزویب سائیٹ اپنی سمت کا تعین کرنے پر مجبور ہوجائیں گے.
Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے