شہ سرخیاں
Home / اداریہ / پاورکمیٹی High,High SRSP بجلی Bye,Bye

پاورکمیٹی High,High SRSP بجلی Bye,Bye

تحریر M.T.REHMAN:
روشنی زندگی ہے روشنی کے بنا اندھیرا ہی اندھیرا ہے اندھیروں میں گرا صرف چترال ہی نہیں بلکہ اس مرض میں پورا ملک مبتلا ہے اور یہ مرض گذشتہ دہائی سے تا ہنوز جاری ہے۔ طبیب بہت سارے علاج کوئی نہیں اور مرض انتا موزی ہوگیا کہ ملکی معیشت ، کارخانے اور صنعتیں بند ہوگیں لیکن مرض بدستور جاری ہے ۔ چند صد مذکورہ طبیبوں میں سے پاور کمیٹی چترال سرے فہرست ہے جو پچھلے سات اٹھ سالوں سے مختلف تحقیق ، تشہیر، تجویز اور نتائج میں کتنا کامیاب رہی یہ حقیقت زبان زدعام ہے ۔ اس کڑی آخری کوشش جو گذشتہ ماہ پولو گراونڈ میں جلسہ کی صورت ہوئی جس میں کلمہ طیبہ پڑ ھ کر یہ عہد لیا گیا کہ جب اس موزی مرض سے چھٹکارا نہیں پاتے تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ دوران احتجاج معلوم ہوا کہ مرض کو دور کر نے کا نسخہ ہی نہیں لیکن چترال ٹاؤن کے حدودات پاور کمیٹی نے تعین کئے جو کہ خوش آئیند بات ہے ۔ کام تھا بجلی لانا اور لگے ہیں چترال ٹاؤن کی تعریف کرنے اور ماشاء للہ نئے تعریف کے رو سے چترال شہر اورغوچ سے لیکر کوغذی تک ہے لیکن اس تعریف میں لٹکوہ درہ پیچھے رہ گیا کیونکہ اس کا کوئی حصہ چترال شہر کے نئے تعریف میں نہیں آتا ہے ۔
SRSPُٓاپنے وجود کے برعکس بجلی پیدا کرنے کے کام کا آغا ز کیا ہے اور گولین برموغ 2میگاوٹ بجلی برائے چترال ٹاؤن پروجیکٹ کا آغاز کیا بد قسمتی سے یہ پروجیکٹ ناکامی سے دو چار ہے اس کی وجہ SRSPکے غلط پالیسیاں ہیں ۔ جب بھی دونر سے دونیشن لی جاتی ہے تو اس کیلئے پروپوزل جمع کرنا ہوتاہے اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ پروپوزل میں دو چیزیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں جن کی بنیاد پر دونیشن دی جاتی ہے پہلے نمبر پر کہ پروجیکٹ کو درپیش خطرات کیا ہیں اور دوسری نمبر پر کہ ان خطرات کو کم یا ختم کرنے کیلئے لا ئحہ عمل کیا اختیار کیا گیا۔ موجودہ صورت حال میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ SRSPنے نہ خطرات کا ذکر کیا اور نہ ان کو ختم کرنے کا کوئی لائحہ عمل وضع کیا البتہ 37کڑوڑ روپے کے پاور پروجیکٹ سے مذکورہ ادارے نے مراعات اور فوائد حا صل کیے ہونگے ۔ جس کمیونٹی کے نام پر پروجیکٹ لیا گیا تاہنوز یہ مخصوص کمیونٹی مذکورہ پروجیکٹ کے ثمرات سے محروم ہے اور یہ SRSPکیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ قومی اداروں جیسے NABٰیا SECPسے پرزور اپیل ہے کہ چترال ٹاؤن کے نام پر 37کڑوڑ روپے کا پاور پروجیکٹ لانج کرکے جو بے قاعدگیا ں ہو ئی ہیں ان کی انکوائری کرکے اور چترال ٹاؤن کے عوام کو انکا حق دلایا جائے ۔

Facebook Comments

ایک تبصرہ

  1. محمد اذاں کان

    درجہ بالا آرٹیکل کے جو مندرجات ہیں تو فاضل مضمون نگار کی معلومات اور ان معلومات پر مبنی اس تحریر کی صحت پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ جن دعووں کا ذکر کرکے مصنف صاحب ایک پراجیکٹ یا ڈونیشن کےلئے ان دو عوامل کو ہی لازمی قرار دیتا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی یا مںصوبہ سازی اور اسمیں شامل عوامل کے حوالے سے فاضل مضمون نگار پیدل ہے۔ چترال ایک ایسا خطہ ہے جو کہ شراکتی ترقی کے حوالے سے زرخیز اور مردم خیز ہے اور یہاں پر شائد کوئی بھی فرد یا ادارہ لولی پاپ کے ذریعے کسی کو دھوکہ دے سکتا ہو۔۔۔ پراجیکٹ پروپوزل کسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر ایسے ہی نہیں بنائے جاتے بلکہ اس کے لئے مہینوں بلکہ بسا اوقات سالوں محنت اور تیاری کرنی پڑتی ہے۔ یہ کسی ویب سائٹ کا آرٹیکل نہیں ہو تا کہ ہوائی باتوں کو بنیاد پر جو جی میں آئے بندہ لکھ ڈالے۔
    کبھی بھی کسی چیز کے اوپر مضمون لکھنا ہو تو اس موضوع کی بابت مکمل معلومات اور آگاہی ضروری ہوتی ہے ورنہ مضمون ردی کے زمرے میں آتا ہے۔ اور موجودہ مصنف کا یہ مضمون بھی ہوائی فائر کے سو کچھ نہیں۔ اگر اس آرٹیکل میں زیر بحث لائے معلومات یا شواہد کو لیکر نیب یا کسی دیگر ادارے کے پاس جائیں تو اس درخواست کو دوبارہ آپکے منہ پر ماردیا جائےگا۔ کچھ تیاری کرلو، معلومات اکھٹا کرلو، کہیں سے پراجیکٹ ڈکومنٹ اٹھا کر ایک نظر ڈالو۔۔۔۔ پھر مضمون بھی تحریر کروں اور نیب وغیرہ کو درخواست بھی دو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے