شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اسیران ختم نبوت کے اعزاز میں عشائیہ تقریب

اسیران ختم نبوت کے اعزاز میں عشائیہ تقریب

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز)ٓآج جمعرات کے روز اسیران ختم نبو ت کے اعزاز میں چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔جس میں اسیران ختم نبوت کے علاوہ علمائے کرام اور کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔سابق تحصیل ناظم جناب سرتاج عزیز اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔جبکہ دوسرے مہمانوں میں مولانا ہدایت الرحمٰن ،قاری عبدالجمال ناصر ،ایڈو کیٹ وقاص احمد،ایڈو کیٹ رحیم اللہ ،قاضی نسیم اور شپیر احمد شامل تھے۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔تقریب کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا سمیع صاحب نے انجام دیا۔مولانا سمیع نے کہا کہ 21اپریل کو شاہی مسجد میں وقوع پذیر ہوئے واقعے کے نتیجے میں ہمارے نوجوانوں کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔کچھ نوجوانوں کو چترال جیل منتقل کردیا گیااور کچھ کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کردیا گیا۔چترال کے علمائے کرام اور عوام کی دعاؤں کی بدولت وہ آخر کار رہا ہوئے۔اس حوالے سے چترال کی وکلاء برادری نے ناموس رسالت کے لیے اسیران ختم نبوت کا ساتھ دیا۔اور اس کے ساتھ سابق تحصیل ناظم سرتاج عزیز نے بھی اسیران کی رہائی میں کردار ادا کیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی سابق تحصیل ناظم سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ جب بات ایمان کی اور ناموس رسالت کی آئے تو ہماری جان ومال سب اس راہ میں قربانی دینے کے لیے حاظر ہے۔جو ظلم اور زیادتی اسیران ختم نبوت کے ساتھ روا رکھا گیا چترال کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔یہاں سی ۔پیک کے ساتھ منسلک ترقیاتی کام ہورہے ہیں اور سازشیں ہو رہی ہیں۔ان چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے علمائے کرام ہماری رہنمائی کریں۔

اس موقعے پر اسیران ختم نبوت کے وکیل ایڈوکیٹ وقاص احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسیران ختم نبوت نے اپنی ذات یا کسی عوامی مسئلے کے لیے احتجاج نہیں کیا تھا بلکہ اپنے نبی اور جھوٹے نبوت کے دعویدار کے خلاف احتجاج کیا تھا۔اور مزید ان کا کہنا تھا کہ میں اس عظیم کام کے لیے یہ کیس فری لڑرہا ہوں جو کہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔جب تک یہ کیس ختم نہیں ہو جاتا اور اسیران پر لگے دفعات ہٹالیے نہیں جاتے تب تک میں یہ کیس فری لڑتا رہوں گا۔موجودہ صورت حال میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو چاہیے کہ مسئلے کی نوعیت کو دیکھے ۔ڈی۔سی۔او ڈسٹرکٹ ایڈمینشٹریشن فورا باقی دفعات اٹھا سکتی ہے۔ہوم سیکرٹری یہ کیس وواپس لے سکتا ہے اگر ہوم سیکرٹری ڈسٹرکٹ ایڈمینسٹریشن کو کو خط لکھے تو چترال پولیس یہ کیس ختم کرسکتا ہے۔اخر میں اہنوں نے کہا کہ اسیران کی قانونی راہنمائی کے لیے کسی بھی وقت تیار ہوں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاضی نسیم صاحب نے کہا ہوم سیکرٹری میں اسیران ختم نبوت کی ضمانت کے حوالے سے جو کردار سرتاج عزیز صاحب نے اد ا کیا ہم اس کے مشکور ہیں۔انہوں نے ایڈوکیٹ وقاص احمد اور ایڈوکیٹ رحیم اللہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔قاضی نسیم صاحب نے دونوں وکلا ء صاحبان سے درخواست کیا کہ وہ نبوت کے جھوٹے دعویدار ملعون شخص کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے میں ان کی راہنمائی کریں۔اور سابق تحصیل ناظم سرتاج عزیز خان سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنا کردار اداکرے سیکرٹری آف ہوم دفعات واپس لے۔

تقریب سے دیگر مہمانوں نے بھی خطاب کیا جن میں قاری عبدالجمال ناصر ،شبیر احمد ،ایڈوکیٹ رحیم اللہ شامل تھے۔تقریب کے آخر میں اسیران ختم نبوت چترال کے علمائے کرام اور دیگر شرکاء نے ڈی۔پی ۔او صاحب سے مشترکہ طور پر درخواست کی کہ وہ اسیران پر لگائے گئے دفعات واپس لے۔اور اہلیان چترال پر احسان کرے۔شرکاء نے سرتاج عزیز اور علماء کا شکریہ ادا کیا ۔اور حکومت سے اپیل کیا کہ جھوٹے ختم نبوت کے دعویدار ملعون کو بھانسی شخص کوفورا بھانسی دی جائے۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے