شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / مردانہ معاشرہ،مردانہ سیاست

مردانہ معاشرہ،مردانہ سیاست

اردو افسانے کا بڑا نام پریم چند نے افسانے اور تاریخ کا فرق سمجھاتے ہوئے کہا تھا”تاریخ میں سب کچھ جھوٹ ہوتاہے سوائے کردار کے اور افسانے میں سب کچھ سچ ہوتاہے سوائے کردار کے”میں آج جب اپنے سیاسی منظرنامہ پر نظر ڈالتاہوں تو اس کے حوالے سے جو فسانے مشہور ہیں وہ قابل اعتنا دیکھائی دیتے ہیں.مگر ہمارے ہاں ان فسانوں کے کردار بھی حقیقی نظر آتے ہیں. اردو ادب میں دبستان لکھنؤ کے ادب کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ جب ان کے سیاسی اور تمدنی کلچر کا مطالعہ کرنا شروع کردیں تو آج ہماری ملکی سیاست میں برپا اخلاقی بحران کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے..پاکستانی سیاست اور لکھنوی سیاسی کلچر میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں وہاں کا ادب ان کے زوال آمادہ معاشرے کا عکس تھا تو ہماری سیاست ہمارے زوال کی نمائندگی کررہی ہے.. آج ہماری سیاست دوبارہ سے اس اسٹیج تک پنچ گئی ہے جو ہم ماضی میں دیکھتے رہے ہیں ہمارے ہاں سیاست میں شرافت اور باہمی احترام کے کلچر کو تبھی دفنایا گیا تھا جب محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف جنرل ایوب اور اس کی سیاسی نسل نے ذاتی نوعیت کے رکیک حملہ کئے تھے اس سے پہلے ہمیں سیاست میں اتنی بیہودگی اور گراوٹ کا چلن نظر نہیں آتا..اس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چل نکلا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا.آئے روز ایک سے ایک اسکینڈل مارکیٹ میں لایا جاتاہے اور اس پر پھر وہ گرد اڑائی جاتی ہے کہ جس کی ذد میں آنے سے ہی کوئی بچا ہو.”سیاستدانوں کے معاشقہ” نامی ایک کتاب آپ میں سے ہر کسی نے پڑھ رکھی ہوگی اس موضوع کے حوالے سے ایک مشہور کتاب "پارلیمنٹ ہاؤس سے بازار حسن تک” تو زبان زد عام ہے..میں جنرل فیض علی چشتی کا انٹرویو پڑھ رہا تھا یہ جنرل ضیاء الحق کا معتمد خاص رہاہے مگر بعد میں کسی اختلاف پر ضیاء الحق سے الگ ہوگئے.یہ انٹرویو بھی ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب وہ حج کا فریضہ ادا کرنے مکہ میں تھے.اپنے انٹرویو میں اس نے اس کلچر کے حوالے سے بھی بات کی ہے جس میں بھٹو صاحب اور اس کی کابینہ کے کچھ”ڈیمانڈز”کا بھی ذکر موجود ہے.اور یہ اس وقت کی بات ہے جب بھٹو صاحب کو اسلام آباد سے مری پنچایا گیا تھا ہونا تو یہ چاھئے تھا کہ ماضی کے ان واقعات سے سبق حاصل کیا جاتا.مگر آج بھی ہمارے سیاستدان اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آرہے عورت کو ہی بدچلن ٹھیرایا جاتاہے اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے مشیر رکھے ہوئے ہیں جو اس طرح کی صورتحال پر ان کا خوب دفاع کرتے ہیں نہ صرف دفاع کرتے ہیں بلکہ آگے بڑھ کر متاثرہ خاتوں سمیت اس کے خاندان کی دوسری عورتوں کو رگیدنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں.ماضی قریب میں مشرف کی کابینہ کے کچھ وزراء کے لچھن براہ راست ٹی وی میں بھی دیکھے گئے تھے شیخ رشید صاحب کی رنگیں داستانیں کس کس کو نہیں پتہ..خیر سے مشرف صاحب کی ان دنوں کمر بھی سہی سلامت تھی تو وہ بھی اسی گنگا میں آشنان کرنے کے حوالے سے کافی دل پھینک ثابت ہوئے تھے چنانچہ ہم نے یہ بھی سنا کہ پڑوس ملک سے ایک دوشیزہ کو دورے پہ لائی گئی تھی .نواز شریف کے حوالے سے تو بیرون ملک کی ایک صحافی خاتون نے بہت سنگین الزامات لگائے تھے.پھر اسی حکومت میں ہم نے دیکھا کہ کمرے سے پارٹی کرکن کی لاش اٹھائی جاتی ہے مگر مرد یہاں بھی نردوش ہی ٹھیرتا ہے زرداری صاحب کا ایک پاکستانی ڈالر گرل سے تعلقات کے قصہ بھی چہارسو عالم میں سنے گئے ہیں. پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب کا ماضی بھی اسی طلسمات میں گزرا ہے.اس کے بارے میں امریکی خاتون عدالت تک گئی تھی.اور آج اسی پارٹی کی خاتون لیڈر اس پر سنگیں نوعیت کے الزامات لگا گئی ہے اس سے پہلے باانداز دگر ریحام خان صاحبہ نے بھی کچھ عوامل کی نشاہی کی تھی اور لگے ہاتھوں چوہدری نثار نے بھی اپنی ایک پریس کانفرنس میں خان صاحب کو اشاروں اور کنایوں میں کچھ راز سامنے لانے کی دھمکی بھی دی تھی.آپ پاکستان کے کسی بھی سیاستدان کے سیاسی کیرئیر پر تحقیق کریں آپ کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی عورت سے اس کا سمبندھن جڑا نظر آئے گا.اس صورتحال کو دیکھ کر یہی لگتاہے کہ پاکستان کے ایسے تمام سیاستدان جو اس طرح کے الزامات کی زد میں آئے ہیں ان کا منشور "داغ اچھے ہوتے ہیں”رہاہے..سیاست کا یہ بھیانک رخ ہے جس کو کسی شاعر نے بڑے بلیغ انداز میں بیان کیا ہے داغ چھوٹا نہیں،یہ کس کا لہو ہے قاتل ہاتھ بھی دکھ گئے دامن تیرا دھوتے دھوتے اسلام نے قوموں کے عروج و زوال کے حوالے سے جہاں دوسرے معیار رکھے ہیں وہاں ان میں سے ایک معیار خواص کے متعلق بھی بیان ہوا ہے کہ کسی قوم میں بگاڑ کا آغاز ان کے خواص سے ہو کر جاتاہے.یہ بگاڑ مختلف شکلوں میں آسکتاہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے خواص کردار کے حوالے”ڈھیلے” ہونگے اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ ہم ہمیشہ سے کیوں ایسے لوگوں کو کندھوں پر اٹھاتے ہیں جو بڑے بڑے اخلاقی بحرانوں میں گرے رہتے ہیں.ایسے لوگ ہماری ترجیح کیوں رہے ہیں جنھوں نے ہمیشہ اپنے کردار کے بودے پن کا ثبوت دئیے ہوں؟بحیثیت قوم ہمیں اس پر ضرور سوچنا چاھئے

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے