شہ سرخیاں
Home / پاکستان / 14آگست کےخوبصورت دن کےنام

14آگست کےخوبصورت دن کےنام

میں اس کے چند لمحوں کا قرض دار تھا اور اس قرض کو اتارنے کے جنون میں آج اپنی پوری زندگی کا سودا کر بیٹھا آج وہ مجھے عشق کے انوکھے روپ سے آشنا کرگیا میرے اندر اس جیسی چاہ کی ایسی طلب پیدا ہوگئی کہ مجھے اپنی زندگی کا یہ پھیلاؤ چھوٹا محسوس ہونے لگا میں اس قدر سیّال نکلا میرا یقین عجیب کشمکش سے دوچار رہا..مجھے پتہ نہیں کہ میرا یہ بدلاؤ کس طرح ممکن ہوا..کچھ عرصہ پہلے جس یاسیت ذدہ ذھنیت میں مبتلا تھا اور وہ جس کوشش میں تھا کہ مجھ کو اس گھٹن ماحول سے باہر لے آئے آج اس کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ سرخرو ٹھیرا ہے..یہ پھولوں سے لدا ایک خوبصورت باغ تھاوہ میرا ہاتھ پکڑ کر ایک بینچ میں بیٹھ گیا اور پھر جب اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگا تو بولی میں وہ تیقن جھلکنے لگا جس پہ رشک کرنا میراحق تھا..وہ کہنے لگا

14 آگست کی صبح اپنے جَلو میں کیا لے کر طلوع نہیں ہوتی ـ سورج کی کرنین افق سے قوس وقزح کی طرح پھوٹتی ہیں..دلوں میں محبتوں کا زم زم بہہ رہاہوتاہے.چہار سُو باد صبا آذادی کا پیغام لئے جب درختوں کو چھو جاتی ہے تو شجر سر مستی میں جھوم اٹھتے اور صبح آذادی کو خوش آمدید کہہ رہے ہوتے ہیں تو کیا پرلطف نظارہ ہوتاہے میں اپنا جشن آذادی ان کے ساتھ مناتاہوں..کیا آپ نے مظاہر فطرت کی یہ خوشی کبھی محسوس کی ہے..اس کے سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا اور میں اس جیسا غوّاص فطرت بھی نہیں تھا..میرے انکار سے پہلے ہی وہ گویا ہوا

امرتا پریتم نے اپنا افسانہ”مونا لیزا نمبر2″میں ایک خوبصورت بات کہی تھی”کہ انسان کے کچھ سپنے ہوتے ہیں جن کے ہر پنکھ میں کئی رنگ ہوتے ہیں”اپنے ملک کے باسیوں اور خود اپنے ملک کے لئے میرے بھی کچھ سپنے ہیں..جس کے ہرپنکھ میں الگ رنگ ضرور ہے مگر ایک رنگ ایسا ہے جو سب میں قدر مشترک ہے..وہ رنگ وطن کی چاہ کا رنگ ہے..وہ رنگ وطن سے محبت کا رنگ ہے..بے لوث محبت کا رنگ..اور میں اپنے ملک پاکستان کے باسیوں کو اسی رنگ میں رنگانا چاھتاہوں تاکہ یہ صوبائی عصبیت یہ مفاداتی جنگ یہ حقوق کی لڑائیاں جس کی آڑ میں مملکت خداد کو کوسا جاتاہے یہ سارے فساد کے رنگ ہیں سب فنا ہوجائیں..اور ایک ہی رنگ باقی رہے سبز ہلالی پرچم کا رنگ..کیا تم اس میں میرا ساتھ دو گے..اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

میں جو اس کے چند لمحوں کا قرض دار تھا آج ان لمحوں کا خراج کس قدر خوبصورت احساس کی صورت میں ادا کیا مجھےاس کا اندازہ اس کے تبسم سے ہوا وہ تبسم جس میں ایک ہی رنگ نمایاں تھا…پاکستان کا رنگ پاکستان سے محبت کا رنگ…دور کہیں سے ملی نغمہ کی خوبصورت لے فضا میں بلند ہوئی اور میں اس دُھن کو اپنے جسم کے رویں رویں میں سماتا محسوس کرنے لگا..یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسبان اس کے ..یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!