شہ سرخیاں
Home / آس پاس / سی۔پیک متبادل روٹ سڑکوں کی بجائے رمان گول اور چپلی میں چمرکہن گول میں ٹنل بنا یا جائے ۔جس سے گلگت اور چترال کے درمیان فاصلہ کم رہ جائے گا۔ اعزاز علی شاہ

سی۔پیک متبادل روٹ سڑکوں کی بجائے رمان گول اور چپلی میں چمرکہن گول میں ٹنل بنا یا جائے ۔جس سے گلگت اور چترال کے درمیان فاصلہ کم رہ جائے گا۔ اعزاز علی شاہ

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز) چترال بلچ کے معروف ٹھیکہدار اعزاز علی شاہ نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خیبر پختوانخواہ  اور گلگلت بلتستان کی حکومت کے بہت شکر گزار ہیں ۔ کہ جن کی قراردادوں کی بدولت اور ذاتی دلچسپی کی بناء پر چترالCPEC کے بطور متبادل روٹ کی منظوری ہوئی۔ کیونکہ چترال سے مستوج اور مستوج سے گلگت بلتستان کا راست موسم سرما میں برف باری اور موسم گرما میں سیلاب کی نظر ہوکر بند ہوجاتے ہیں اور آمد ورفت ناگزیر ہوجاتی ہے۔ لہذا وہ چیرمین سی۔پیک احسن اقبال سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جگہوں کا معائنہ کرے اورگولین گول میں ٹنل بنایا جائے ۔ جوکہ مستوج کے علاقے رمان گول سے نکلتا ہے۔ اس طرح یہ تقریبا 11کلو میٹر ٹنل بن جاتا ہے۔ جس سے چترال اور مستوج کےدرمیان کا فاصلہ 45 منٹ تک رہ جاتا ہے ۔ اور پھر مستوج کے علاقے چپلی میں واقع چمرکہن گول میں ایک اور ٹنل بنانے سے جوکہ گلگت بلتستان کے علاقے تیرو کے مقام پر نکلتا ہے ۔ تقریبا 6سے 7 کلو میٹ ٹنل بنتا ہے۔ مزکورہ دو ٹنلوں کی تعمرات سے نہ صرف گلگت بلتستان اور چترال کے درمیان کا فاصلہ کم رہ جائے گا۔ بلکہ آمدورفت میں آسانی ہوگی۔ اور موسم سرما وگرما میں بھی یہ سڑکیں بندش سے بچ جائیں گی۔ اور مزید یہ کہ چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان جو راستہ ہے ان سڑکوں کی تعمیر میں لاگت ان ٹنلوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔کیونکہ چترال میں آراضی اتنی نہیں ہے کہ ہم روڈ بنائیں بلکہ روڈز کو کم سے کم کرکے ٹنل پر زور دیں تو اس سے آراضی کی قلت کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ لہذا ایم ۔این ۔ اے جناب افتخار الدین صاحب ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ صاحب اور ڈی۔سی۔او چترال سے گزارش ہے کہ مزکورہ تجویز چیئرمین سی ۔پیک جناب احسن اقبال صاحب تک پہنچائیں تاکہ چیئرمین سی۔پیک احسن اقبال صاحب اس تجویز پر غور فرمائیں ۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے