شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ہماری گھر والیاں ، بہن بیٹیاں بغیر محرم کے اور بغیر پوچھے بازاروں میں نامحرم دکانداروں سے خریداری کر رہی ہیں ۔ ایسی خریدار خواتین اور دکانداراللہ پاک کے غضب سے نہیں بچ سکتے ۔ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین

ہماری گھر والیاں ، بہن بیٹیاں بغیر محرم کے اور بغیر پوچھے بازاروں میں نامحرم دکانداروں سے خریداری کر رہی ہیں ۔ ایسی خریدار خواتین اور دکانداراللہ پاک کے غضب سے نہیں بچ سکتے ۔ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز) ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین نے چترال کے تمام مسلمانوں سے کہا ہے ۔ کہ اللہ پاک کی نعمتوں کے اسراف سے باز رہیں ۔ اللہ نے جس طرح اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیے ہیں ، اُس پر اُن کا شکر ادا کرنے کی بجائے ہم نے با لکل اُلٹ راستہ اختیار کیا ہے ۔ اورجس طرح اللہ کی نعمتوں کا اسراف کر رہے ہیں ۔ اُس کی مثال دُنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔وہ عیدالاضحی کے موقع پر ایون عید گاہ میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کر رہے تھے ۔

 

مولانا نے نماز پڑھائی ۔ اور خطبہ دیتے ہوئے کہا ۔ کہ ہم اسلامی اُصولوں سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اور ظلم کی انتہا یہ ہے ۔ کہ ہم اس کو خلاف اسلام قرار دینے کیلئے بھی تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جس طرح ہم کھانے اور پہنے میں اسراف سے کام لے رہے ہیں ۔ اگر یورپی ممالک اور غیر مسلم ہماری طرح اسراف سے کام لیں ۔ تو وہ دیوالیہ ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اسلام اعتدال میں زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے ۔ انہوں نے گذشتہ دو تین سالوں سے چترال شہر اور اطراف میں خواتین کی طرف سے بازراوں میں خریداری کیلئے آنے کے عمل کو انتہائی ناپسند قرار دیا ۔ اور مسلمانان چترال سے اسے کنٹرول کرنے میں کردار اداکرنے کی اپیل کی ۔ اور کہا ۔ کہ ایسی خریدار خواتین اور دکانداراللہ پاک کے غضب سے نہیں بچ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں خواتین کی حیا اور شرافت پورے ملک میں مسلمہ تھی ۔ ریاستی دور میں انگریز ڈاکٹر جب اپنی بیوی کے ہمراہ شاہی بازار چترال میں خریداری کیلئے آئی ۔ تو مقامی لوگوں کو یہ بات اتنی بُری لگی ۔ کہ انگریز کے اس عمل کے خلاف تمام لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا۔ آج عالم یہ ہے ۔ کہ ہماری گھر والیاں ، بہن بیٹیاں بغیر محرم کے اور بغیر پوچھے بازاروں میں نامحرم دکانداروں سے خریداری کر رہی ہیں ۔ اور ہم اس کا احساس ہی نہیں کرتے ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا ۔ کہ جن کی حج کرنے کی استطاعت ہے ۔ وہ جوانی میں یہ فرض ادا کریں ۔ ضعیف العمری میں حج کیلئے جانا دوسرے حاجیوں کیلئے پریشانی کا سبب بنتا ہے ۔ اگرچہ ضعیف العمری میں حج پر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ سلام کی قربانی کو اسلام کی عظیم قربانی سے تعبیر کیا ۔ اور کہا ۔ کہ یہ قربانی اللہ رب العزت کو ایسی پسند آئی کہ رہتی دُنیا تک اسے زندہ رکھنے کا حکم دیا گیا ۔ اور نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے خودبجا لایا ۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے