شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال میں فٹ بال کھیل کے فروغ میں عمران خان فاؤنڈیشن کے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔حسین احمد سیکرٹری ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن

چترال میں فٹ بال کھیل کے فروغ میں عمران خان فاؤنڈیشن کے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔حسین احمد سیکرٹری ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن

چترال (نمائندہ چترال آفیرئز)ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جناب حسین احمد صاحب نے ایک اخباری بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے چترال کے اندر کھیل اور کھلاڑی کو یکسرنظر انداز کیا گیا۔ حالانکہ ریاستی دور میں قلیل وسائل کے باوجود کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔سالانہ تحصیل سطح اور ضلعی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد باقا عدگی سے ہوتے تھے۔ کھیل کے میدان کھلاڑیوں کو میسر تھے۔ریاستی حکمران کھیلوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ نامور کھلاڑیوں کو نقد اور جائداد کی شکل میں انعامات دئیے جاتے تھے اور ریاستی حکمرانوں کی نظر میں کھلاڑیوں کا ممتاز مقام ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تا ہنوز چترالی کمیونٹی سپورٹنگ کمیونٹی تسلیم کئے جاتے ہیں اور علاقے میں امن و آشتی ہے۔
لیکن الحاق کے بعد کھیلوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی کھیلوں کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا۔ زمینوں کی بہتات کے باوجود ریاستی دور کے گراونڈز کو عمارتوں میں تبدیل کئے گئے اسی وجہ سے نوجوان نسل سماجی برائیوں کی طرف راغب ہوگئے ۔ 1992میں تقریبا 80فیصد نوجوان ہیروئن اور چرس کے نشے میں مبتلا ہو گئے۔ اس بگڑتی ہوئی صورت حال کو چند درد مند انسانوں نے محسو س کرتے ہوئے ایک اجلاس بلایا جس میں چترال ٹاون کے چیدہ چیدہ اور تعلیمی اداروں سے وابستہ اہم افراد کو دعوت دی گئی اورنشے کی لعنت کی تدارک کے لئے حکمت عملی پر ان کی آراء جاننے کی کوشش کی گئی۔ اجلاس کے آخر میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ نوجوانوں کے دلچسپی سے متعلق متبادل پروگرام ترتیب دیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اس پروگرام میں مصروف رکھ کر نشے کی لعنت سے ان کو دور رکھا جاسکے۔
چترالی نوجوانوں کی فٹ بال کھیل کے ساتھ دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوی اایشن کا قیام عمل لایا گیا۔ ایسوی ایشن کی رجسٹریشن صوبائی اور مرکزی سطح پر کی گئی۔ ایسوی ایشن کی کاوشوں سے فٹ بال تقریبا معدوم ہوچکا تھاپھر ابھرنے لگا۔ کلبز تشکیل دئیے گئے۔ لیکن سرکاری اور عوامی نمائندوں کی طرف سرد مہری بدستور برقرار رہی ۔ جس طرح سے پذیرائی کی توقع تھی وہ حاصل نہ ہو سکی۔لیکن ایسوی ایشن کے اسوقت کے ممتاز شخصیت جن میں نمایان نام فرید الدین شکر گنج گولدور، ریٹائرڈ صوبیدار امین شاہ، خسرو احمد، ریٹائرڈ کیپٹن سریر الدین سینگور، میر حکیم خان سینگور، ریٹائرڈ ڈی۔ایس۔پی ٖفضل الہی، پروفیسر عبدالجمیل، مرحوم صد برگ سینگور، حاجی مراد خان فیض آباد اور ریٹارئرڈ صوبیدار اکبر خان نے ایسوی ایشن کے سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں نمایان کر دار ادا کر تے رہے۔
ہماری عوامی نمائندگان ایم۔این۔اے اور ایم۔پی۔اییز اور گورنمنٹ کی طرف سے گراونڈ کی تعمیر پر توجہ نہ دینے کے باوجود ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوی ایشن کے ذمہ داران اپنی کوشش جاری رکھی اور ملکی سطح پر رابط کاری کے سلسلے جاری رکھے۔
اس کوشش نتیجے میں سال 2016میں ایسوی ایشن کا رابطہ عمران خان فاونڈیشن سے ہوا جس میں نمایاں کردار جناب ریٹائرڈ کرنل مجاہد سابق کپتان پاکستان فٹ بال ٹیم اور سابق سکریٹری جنرل پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا رہا ۔یہ رابط انہی کی کاوشوں سے ہوا۔ پھر عمران خان فاونڈیشن نے کرنل مجاہد کو چترال بھیجا کہ وہ چترال جاکر ایسوی ایشن کے ساتھ مشاورت سے فٹ بال کھیل کو گراس روٹ سطح پر فروغ دینے کے حوالے سے مشاورت اور پروگرام مرتب کریں۔ کرنل مجاہدکا چترال ائیرپورٹ پر 120نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار اور پرتپاک استقبال کیا۔ پھر کرنل مجاہد نے ایسوی ایشن کے اشتراک سے اور عمران خان فاونڈیشن کی مالی معاونت سے وہ کام کئے جو پاکستان بنے کے 70سال بعد چترال کے اندر نہیں ہوئے تھے۔ جن کی تفصیل مختصرا قارئین کے خدمات میں پیش ہیں:
چترال، دروش، ایون،بونی، گرم چشمہ اور مستوج میں الگ الگ کوچنگ کیمپز منعقد کئے گئے ۔ اور ان کوچنگ کیمپزکے لئے پاکستان کے مایہ ناز کوچز کو چترال آنے پر آمادہ کیاگیا اور ان کے زیر نگرانی یہ کوچنگ کیمپز منعقد ہوئے۔جن میں نمایاں جنا ب قاضی آصف ،نجیب اللہ نجمی، اختیار اللہ اور نوجوان کوچ غفار شامل تھے۔ ہر کیمپ ایک ماہ کے دورانیے پر مشتمل تھا۔ نوجوانوں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لئے ٹرائل کا اہتمام کیا گیاتھا ۔ ہر ٹرائل میں اوسطاً 120 نوجوان کھلاڑی گراونڈمیں آئے جن میں سے ٹرائل کے بعد ہر کوچنگ کیمپ سے 35کھلاڑیوں کا منتخب کیا گیا اور کوچنگ کا اغاز اکتوبر 2015 میں شروع ہوکر جون 2016میں اختتام پذیر ہوا۔ دوران کوچنگ بچوں یعنی کھلاڑیوں کو ریفرشمنٹ میں انڈے،سیب، کیلے اور مشروبات باقاعدگی سے دئیے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کو مکمل کٹز یعنی فٹ بال اور فٹ بال کھیل سے متعلق تمام ضروری سامان لاکھوں روپے مالیت کے تقیسم کئے گئے۔ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کوچنگ کے دوران عمران خان فاونڈیشن کے سربراہ مس علیمہ خان خود چترال تشریف لائی اور کوچنگ کیمپز نگرانی کی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ہدایات دیں۔
کوچنگ کے اختتام پر 6 انڈر 14کے اور 6 انڈر 12 کے ٹیمں تشکیل دئیے گئے۔ ہر ٹیم 35کھلاڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس طرح جولائی 2016 میں ایک شاندار انڈر 14اور انڈر 12فٹ بال چمپئن شپ منعقد کیا گیا۔ دروش،ایون،مستوج، گرم چشمہ،بونی سے آنے والے ٹیموں کے لئے ٹرانسپورٹ کا بہترین بندوبست کیا گیا ۔مستوج ٹیم کی رہائشC PTD ہوٹل میں کیا گیا جو کھیل کے آخری دن تک ہوٹل میں رہائش پذیر رہے۔ میچ کے دوران کھلاڑیوں کو پیک لنچ گراونڈ ہی میں دیاجاتا تھا اسی طرح ریفریز کو بھی لنچ اور ریفرشٹ کا باقاعدہ بندوبست کیا گیاتھا۔ اس کے علاوہ کھیل میں شریک تمام کھلاڑیوں کو 2000فی کھلاڑی الاوئنس کے علاوہ مکمل کٹ فراہم کئے گئے۔یہ چیمپئن شپ براہ راست پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے ماہر مینجمنٹ اور ریفریز کے نگرانی میں کرایا گیا جن کی سربراہی قاضی آصف جیسے قدآور بین الاقوامی شخصیت کررہا تھا۔
چمپئن شپ کے دوران جناب قاضی آصف پاکستان کوچ و صدر پاکستان ریفری فیڈریشن اور ان کی ٹیم میرٹ کی بنیا د پر کھلاڑیوں کی سلیکشن کی اور چترال کے 12 سے 14 سال کے کم عمر کھلاڑیوں کی دو فٹ بال ٹیمیں تشکیل دی گئی۔ جس کے بعد جنوری 2017کو چترال سے14سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم لاہور میں منعقد ہونے والے فٹ بال مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے کرنل مجائد اور سید انور ٹیم مینجر کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ چترال ٹیم نے لاہور میں بہترین کاکردگی کا مظاہر ہ کیا۔ اس ٹور کے اختتام پر چترال کے 6نوعمر کھلاڑیوں کو بارسلوانا سپین کے ٹیم کے لئے سلکیت کیا گیا۔ اس طرح چترال کے تاریخ میں پہلی بار چترال کی نو عمر کھلاڑیوں پر مشتمل فٹ بال ٹیم پہلے لاہور اور اس کے بعد بین الاقومی فٹ بال مقابلے جو سپین میں منعقد ہورہے تھے شرکت کی۔جو عمران خان فاونڈیشن کا کارہائے نمایاں کہا جائے بجا ہوگا اور چترال کی تاریخ میں سنہری لفظوں سے لکھا جائے گا۔
چمپئن شپ کے اغاز سے پہلے کھیل کو شفاف بنانے کے لئے عمران خان فاونڈیشن نے ضلعی فٹ بال ایسوی ایشن کی اشتراک سے نوجوان اور تعلیم یافتہ فٹ بال کے لئے Dلائنس ریفریز اور کوچنگ کورس کا اہتمام کیا جو ایک ہفتے کے دورانیے پر مشتمل تھا اور چترال کے 12 تعلیم یافتہ جوانوں کو بطور ریفری اور کوچ تربیت فراہم کیا ۔
عمران خان فاؤنڈیشن کی چترال میں فٹ بال کھیل فروغ کے سلسلے میں خدمات یہاں پر ختم نہیں ہوئے۔ ضلع چترال گراونڈ کے حوالے واحد بدقسمت ضلع ہے جو 70سال بعد بھی گراونڈ سے محروم ہے اس سلسلے میں ضلع فٹ بال ایسوی ایشن نے سرکاری اور غیر سرکاری تمام اداروں پر دستک دی لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔اس چیز کو مدنظر رکھ عمران خان فاونڈیشن نے خصوصی طور لفٹنٹ کرنل اور اعزازی کونسلٹ فرانس جناب عاشق قریشی کو خصوصی طور پر چترال بھیجا تاکہ موجود گراونڈز کو Developکیا جاسکے۔عاشق قریشی نے دروش، کوغذی اور بونی کا دورہ کیا۔ جس کے نتیجے میں دروش میں ا س و قت کے کمانڈینٹ کے ساتھ مشاورت کر کے اوسیک فٹ بال گراونڈ کو Developکروایا۔ کوغذی فٹ بال گراونڈ پر لاکھوں روپے investکر کے مقامی لوگوں سے معاہدہ عمل میں لایا اور ایون فٹ بال گراونڈ کو Developکرنے کے لئے اقدامات کئے۔
دروش میں لاکھوں روپے کے کرکٹ کے سامان موجودہ کرکٹ ایسوی ایشن کے صدرکو عطیہ پر دئیے۔ اسی طرح چترال اور بونی میں ہزاروں روپے کے کرکٹ سامان عطیے پر دئیے۔ اور چترال ٹاون میں قیمتی رولر سنٹیل ماڈل ہائی سکول کو عطیہ پر دئیے۔
میرا عاجزانہ سوال ہے۔ ڈسٹرکٹ فٹ بال اسیوی ایشن کے قیام کے 20سال میں چترال میں کس نمائندے نے یا کس ادارے نے اتنے خدمات نوجوانوں کے دلچسپی سے متعلق کھیل، اور تفریحی مقصد کے لئے کئے ہیں ؟ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ کسی نے نہیں کئے۔تو آئے ہم سب ملکر عمران خان فاونڈیشن کا دل گہر ائیوں سے شکریہ ادا کریں گے اگرچہ الفاظی شکریہ کم ہے لیکن ایک رسم تو ادا ہوگا۔ لیکن عمران خان فاونڈیشن کے یہ خدمات کبھی بھی ہم فراموش نہیں کیے جائیں گے۔ عمران خان فاؤنڈیشن زندہ باد۔ آج چترال کے بچے بچے کی زبان پر عمران خان فاؤنڈیشن نام ہے اور وہ آج عمران خان فاؤنڈیشن کی راہ تک رہے ہیں اور ان کی زبان پر عمران خان فاؤنڈیشن زندہ باد کے تعرے ہنوز گونج رہا ہے۔ صد افرین و صد شکریہ عمران خانفاؤنڈیشن

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!