شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اے پو پھٹے کے دلربا لمحو!گواہی دو

اے پو پھٹے کے دلربا لمحو!گواہی دو

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جدید سائنسی دنیا کی گراں قدر نعمت ہے.دنیا کو گلوبل ویلج میں سمیٹ دینے کاسہرا اسی کے سر جاتاہے.دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی واقعہ رونما ہوجائے وہ خبر کی صورت لمحوں میں ہماری اسکرین میں نمودار ہوتاہے.ریموٹ کنٹرول یا کی بورڈ پر تھرکتی انگلیاں پل بھر میں حالات کی گہرائی جانچ لیتی ہیں.معاملہ کی تہہ تک پہنچنے والے ہمارے نیوز رپورٹر انتہائی ذمہ داری اور جرأت سے واقعے کی تحقیقات عام قارئین و ناظرین تک پنچا کر اپنا کام بخوبی اور احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں.
ایک سپر لیڈ یا عام سی خبر کو عوام تک رسائی دینے کا عمل اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنا کہ وہ آسان دیکھائی دیتاہے.خبر”حاصل”کرنے سے لیکر”بننے”تک مختلف مراحل سے گزر کر ہم تک جو کچھ پنچتی ہے اور ہم ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں اسے پڑھ کر اپنا فرض ادا کردیتے ہیں
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میڈیا کو کیسا ہونا چاھئے.تو میرا جواب بڑا سادہ ہوگا.کہ میڈیا کو”ایلچی”جیسا ہونا چاھئے.عام شہری جو کچھ ارباب اختیار سے کہنا چاھتے ہیں یا اعلی مقتدر طبقہ اپنے منشور اور اہم فیصلہ عوام تک پنچانا چاھتاہے تو میڈیا ان کے درمیان”پُل” کا کردار ادا کرے.میں یہاں اس اصول کا قائل ضرور ہوں کہ سب سے پہلے خبر کو لیک آؤٹ کرنے کے اعزازی”جنون”سے حتی الواسع بچنا چاھئے.خبر پوری تحقیق کے بعد لگا دی جائے تو وہ خبر جس "نوعیت” کی بھی ہو.اس کو لگانے میں کوئی قباحت نہیں.البتہ اس میں اخلاقیات پر کاربند رہنا ہوگا
آپ یقینًا یہ سوچ رہے ہونگے کہ میڈیا کا قبلہ ہے یا نہیں.اس کا جواب قطعیت سے دینا ممکن نہیں.ہاں البتہ یہ میدان”پیشہ ورانہ”مہارت کا متقاضی ضرور ہے.اور اس پیشہ سے جڑے لوگ ہی یہ اصول وضع کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کب کیا کرنا ہے اور کہاں پہ کیا کردار نبھانا ہے.اور یہ بات بڑی واضح ہے کہ یہ اختیار بندر کا استرا نہیں ڈاکٹر کی نشتر ہونا چاھئے
چترال افئیرز کی پالیسی اس حوالے سے شروع سے ہی واضح ہے اور بار بار ادارئیے میں اس کا اعادہ ہوتا رہاہے کہ ہم "پیمرا”کے وضع کردہ اصول و ضوابط پر کاربند رہ کر ہی رپورٹنگ کریں گے.اور یہ کہ ہم خبر کو لیک آؤٹ کرنے سے پہلے مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کرتے ہیں.اور عام ڈگر سے ہٹ کر ہم نے یہ اصول بھی اپنایا ہے کہ خبر دینے والا کا نام صیغہ راز میں نہیں رکھا جائے گا.اگر ضرورت محسوس ہوئی تو رپورٹر کا نام خفیہ رکھے جانےکا مجاز ہے

دوسرا یہ کہ ایک ہی خبر بیک وقت مختلف ویب سائیڈ میں لگائی جاتی ہے.تو یقینًا اس میں زبان و بیان ،طرز اسلوب اور رپورٹنگ کا فرق ہوگا اور ہونا بھی چاھئے.کہ یکسانیت میرے نزدیک صحافت کے لئے زہر ہلاہل سے کم نہیں.لہذا ہم خبر کی پرداخت،کانٹ چھانٹ اور متن کو مختلف اسلوب سے پیش کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں

تیسرا یہ کہ ہم اسلام،پاکستان اور قومی اداروں بشمول معزز عدالتوں کی ساکھ کا پورا خیال رکھتے ہیں.اور یہ پورا اختیار رکھتے ہیں کہ ان کے حوالے سے کوئی بھی خبر چاھے منفی ہو یا مثبت ہر دو صورت میں اس کو حذف کرنے کا مجاز ہیں

چوتھا یہ کہ کالم یا تبصرے کرنے والے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.وہ خود اپنی تحریر کا ذمہ دار ہوگا اور یہ کہ ایسا کوئی کالم شائع نہیں کیا جائے گا جس سے فرقہ واریت پھیلنے یا نقص امن کا خدشہ ہو

پانچواں یہ کہ جو کالم چترال افیئرز میں شائع ہوتے ہیں.وہ اس کی ملکیت متصور ہونگے اور ان کی اجازت کے بغیر کسی دوسری ویب سائیڈ میں شائع نہیں کئے جاسکتے

چھٹا یہ کہ خبر چاھے وہ سماجی ہو یا مذھبی یا دوسری نوعیت کی کوئی خبر ہو.وہ چترال افیئرز کی پالیسی کا غماز نہیں ہوگا بلکہ صرف ایک "خبر” کے حساب سے لیا جائے گا
ساتواں یہ کہ چترال افیئرز بلا تفریق ہر طرح کی تحریر شائع کرنے کا مجاز رکھتاہے.تعریفی اور تنقیدی تمام تحریروں کو شائع کرنے اور نہ کرنے کا پورا حق اسے حاصل ہے..!!!!
جزئیات میں پڑے بغیر یہ چند موٹے اصول اپنے قارئین کے سامنے رکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ کچھ دن پہلے چند خبروں کے بارے میں ہمارے قارئین گومگو کی کیفیت میں مبتلا نظر آئے اور خبروں سے "وہ”کچھ برآمد کرتے دیکھائی دئیے جو اس میں تھے ہی نہیں.ہم آذادنہ مکالمہ پر یقین رکھتے ہیں.اور معاشرے میں پنپنے والے آراء کو کشادہ دلی سے اپنے فورم میں جگہ دینے پر یقین رکھنے والوں میں سے ہیں.معاشرے میں برداشت اور مکالمہ کو پرچار کرنے کا چترال افیئرز نے جو عَلم بلند کیا ہے مل کے اس کو تھام لینے کی کوشش کرتے ہیں
سدرہ سحر عمران صاحبہ کی ایک خوبصورت نظم آپ سب کی نذر
اے پو پھٹے کے دلربا لمحو!…گواہی دو
یونہی کٹتی چلی جائے گی راتیں
اور پھر وہ آفتاب ابھرے گا
جو اپنی شعاعوں سے ابد کو روشنی بخشے گا
پھر کوئی اندھیرا میری دھرتی کو نہ چھو پائے گا
داایان مذھب کے مطابق،حشر آجائے گا
لیکن حشر بھی ایک کرب ہے

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے