شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال ایک پُر امن علاقہ ہے اور سارے لوگوں کی نظریں اس علاقے پر ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اس علاقے کی مثالی امن کو کسی طرح نقصان پہنچے ہم اس علاقے کے امن کو بحال رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریع نہیں کرینگے ۔ایس ڈی پی او بونی ، ایس ڈی پی او موڑکھو ،تورکھو

چترال ایک پُر امن علاقہ ہے اور سارے لوگوں کی نظریں اس علاقے پر ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اس علاقے کی مثالی امن کو کسی طرح نقصان پہنچے ہم اس علاقے کے امن کو بحال رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریع نہیں کرینگے ۔ایس ڈی پی او بونی ، ایس ڈی پی او موڑکھو ،تورکھو

بونی ( نمائندہ چترال آفیئرز)چند روز قبل۴اور ۵ ستمبر کی درمیان سب تحصیل تور کھو گاوں اجنو میں رات کی تاریکی میں اجنو اور ریچ کو ملانے والی واحد جیب ایبل پُل کو کسی نامعلوم فرد یا افراد نے جلاکے خاکستر کر دی تھی ۔جس کے نیتجے ریچ کا پورا علاقہ اور اجنوکے ہائی سکول علاقے سے منقطع ہو کے رہ گئی ہے ۔واقعہ رونما ہوتے ہی اسے دہشتگردی سے تعبیر کرتے ہوئے کسی نادان اسے شوشل میڈیا کی زینت بنا دی ۔جسے بعد میں بے غیر تحقیق کے الیکٹرونکس میڈیا،شوشل میڈیا اور پاکستان کے باہر کے میڈیا تک اسی رنگ سے پہنچا دیا گیا۔ حق تو یہ تھا کہ زمہ داری اور غیر زمہ داری کا احساس ہونا چاہیے تھا غیر زمہ دار فرد اگر نہ جانتے ہوئے اسے دہشتگردی سے تعبیر کی ہو تو زمہ داری کا مظاہرہ یہ ہی ہوتا کہ بات کو مکمل تحقیق کرکے،چھان بین کرکے حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حقیقت کو واضح کردیتے۔تاکہ کسی صحافی اور رپورٹر کی اس عمل سے غیر ضروری تناو پیدا نہ ہوتا۔۔ مگر افسوس کہ اس واقعہ کو حقیقت کے بالکل برعکس اچھالا گیا تو قانون کواپنے گرفت مضبوط کرنے کے لیے حرکت میں انا لازمی بات تھی ۔نتیجتاً علاقائی پولیس حرکت میں اگئی ۔ اور بغرضِ تفتیش کئی ایک افراد کو اپنے تحویل میں لیکر تفتیش کا اغاز کر دیا۔ تفتیش میں پولیس کے سنئیر اور اپنے پیشے کے ماہر افسران جن میں ایس۔ڈی۔پی۔او بونی زمان ،ایس۔ڈی۔پی۔او موڑکھو،تورکھو عطا اللہ۔ایس۔ایچ۔او تورکھو اور دیگر افسران معاملے کی اہمیت اور حساسیت کے مطابق مختلف سمت تحقیقات شروع کر دی ۔گرفتار افراد میں اکثریت ڈرئیور برادری کی تھی ۔ایس۔ڈی۔پی۔اور بونی اور ایس۔ڈی۔پی۔او موڑکھو،تورکھو اپنے فرائضِ منصبی کے لحاظ سے اعلیٰ آفیسر اور پیشہ وارنہ امور کے ماہر آفیسر سمجھے جاتے ہیں۔جب کیس کو مختلف زاویے سے پرکھتے ہوئے اورہدف تک پہنچنے کے لیے جب مخلتف افراد کو شاملِ تفتیش کی تو علاقے میں خوف و حراس اور بے چینی پھیلنے لگی۔کیونکہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ علاقے میں ہوا تھا اور خوف کا ہونا لازمی بات تھی ۔ اس صورتحال کے پیش نظر علاقے کے معتبرات اور خصوصاً ایم۔پی۔اے اپر چترال جناب سردار حسین شاہ،صدر اے۔ پی۔ ایم۔ ایل چترال سابق کمشنر سلطان وزیر، اور پی ٹی ائی راہنما شہزادہ سکندر الملک مسلے کو افہام و تفہیم سے حل میں اہم کردار ادا کیا ۔جس کے نتیجے میں ڈی ۔پی۔ او چترال سے رابطہ کر کے گرفتار افراد کی رہائی ممکن بنانے کی کوشش کی گئی۔


اس سلسلے پولیس کانفرنس حال بونی میں ایس ۔ڈی۔ پی۔ او بونی و ایس ۔ڈی۔ پی ۔او موڑکھو،تورکھو کی سربراہی میں ایک نشست منعقد ہوئی جس میں صوبائی اسمبلی کے ممبر سید سردار حسین شاہ، صدر اے۔ پی۔ ایم۔ ایل سلطان وزیر،تحصیل ناظم مولانا یوسف، تورکھو کے ضلع و تحصیل ممبران، وی سی ناظمین و کونسلرز ،بونی کے ناظمین و کونسلرز ،سیاسی پارٹی کا قائدین اور علاقے کے معززین وغیرہ شریک ہوئے ۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی اور بونی اور ایس ڈی پی او موڑکھو ،تورکھو فرمایا کہ ہمارے کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہمیں اس علاقے میں زمہ داری سونپی گئی ہے ۔اس علاقے کا امن قائم رکھنا ہمیں سب سے عزیز ہے چترال ایک پُر امن علاقہ ہے اور سارے لوگوں کی نظریں اس علاقے پر ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اس علاقے کی مثالی امن کو کسی طرح نقصان پہنچے ہم اس علاقے کے امن کو بحال رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریع نہیں کرینگے ۔اجنو پُل جلانے کا واوقعہ کوئی معمولی نہیں اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس قسم کے واقعات سے چشم پوشی سے بہت بڑے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کسی کے دوست نہیں ہو سکتے یہ علاقے اور وطن کے دشمن ہیں۔ اس لیے علاقے کے ناظمین اور معتبرات کو چاہیے کہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور ایسے عناصر کوکیفر کردار تک پہنچانا عوام اور پولیس دونوں کی زمہ داری ہے تاکہ ائیندہ اس قسم کی کوئی واقعہ رونما ہونے کی نوبت پیش نہ ائیے پولیس ہر وقت عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے مستعید ہے لیکن اکیلے پولیس سب کچھ نہیں اس میں عوام کی تعاون سب سے زیادہ اہمیت ک ے حامل ہے لہذا عوام اپنے حصے کا کردار اداکریں۔ پولیس اس کیس میں جو کاروائی کی ہے وہ صرف اور صرف عوام کے بہتر مفاد کے خاطر کی ہے۔جواب میں صدر اے۔ پی ۔ایم۔ ایل سابق کمشنر سلطان وزیر نے پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہم اس کیس میں بہترین تعاون کرنے پر ڈی ۔پی ۔او صاحب چترال، ایس ۔ڈی۔ پی۔ اوبونی ،ایس۔ ڈی۔ پی۔ او موڑکھو،تورکھو ،ایس ایچ اور توکھو اور جملہ پولیس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اپ کے بہترین تعاون سے گرفتار لوگوں کی رہائی ممکن ہورہی ہے اپ نے اس کیس کو دہشتگری سے جوڑ کر اچھالنے والوں کی شدید الفاظ میں مزمت کی کہ اس طرح کے غیر زمہ درانہ خبروں سے علاقے کے پُر امن ماحول تباہ ہوکے رہ جائے گی ۔اپ نے اس کیس میں مزید تفتیش میں اپنے اور عوام کے طرف سے پولیس کے ساتھ بھر پور تعاون کرنے کی یقین دہانی کی ۔ایم۔پی۔اے اپر چترال سید سردار حسین شاہ اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ چترال اور علاقے کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت چترال پولیس میں ایسے آفیسر موجود ہیں جو چترال کے امن امان کو برقراررکھنے کے بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔مثالی امن کو برقرار رکھنے میں ڈی پی او چترال اور ان کے اسٹاف کے کردار قابل تحسین ہے۔موجودہ صورت حال میں ڈی پی او اور پولیس کی بہترین تعاون پر ہم ان کے شکریہ ادا کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ چترال ایک پُر امن علاقہ یہاں دہشتگردعناصرکا نام و نشان بھی نہیں جو لوگ پُل جلانے کے واقعے کو دہشتگردی سے مربوط کرتے ہیں اس میں کوئی حقیقت نہیں یہ کسی فرد کا انفرادی عمل ضرور ہوسکتا ہے ۔لیکن پھیر بھی ہم اس قبیح فعل کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ اس کو قانون کے دائرہ میں لانے میں پولیس کی مدد کرینگے ۔ اپ نے موقع پر موجود اینجینئر کو پُل کی فیزیبیلٹی بناکر جلد پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ جلد از جلد وہاں پُل تعمیر کرکے علاقے کے لوگوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے ۔ اجلاس سے تحصیل ناظم مولانا یوسف اور دوسرے حاضرین نے بھی خطاب کیا اور مختلف تجاویز پیش کیے بعد میں گرفتا رتمام افراد کو۱۰۷ کی ضمانت رہائی دی گئی ۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!