شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / لواری ٹینل کا اصل کریڈیٹ ممبر مرحوم اتالیق جعفر علی شاہ کو جاتا ہے ۔ اسمبلی میں ایم۔این۔اے صاحباں جعفر علی شاہ صاحب کو مسٹر سرنگ کہا کرتے تھے۔امیر اللہ خان یفتالیؔ

لواری ٹینل کا اصل کریڈیٹ ممبر مرحوم اتالیق جعفر علی شاہ کو جاتا ہے ۔ اسمبلی میں ایم۔این۔اے صاحباں جعفر علی شاہ صاحب کو مسٹر سرنگ کہا کرتے تھے۔امیر اللہ خان یفتالیؔ

بونی(ذاکر ذخمی)سابق ممبر ضلع کونسل چترال اور چیف آرگنائزر متحدہ یوفت یونین چترال امیر اللہ خان یفتالیؔ نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ محترم بلاول بھٹو زردری نے اپنے حالیہ دورہِ چترال میں سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے لواری ٹینل کے افتتاح پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے ۔شہید بھٹوصاحب نے تیسری دنیا کے اتحاد اور پاکستان کے لیے ایٹم بم بنانے کا ارادہ کیا تھا ۔بدقسمتی سے ان کا خواب پورا نہیں ہوا ۔امریکہ سرکارنے بھٹو صاحب کا عدالتی قتل کروایا۔بھٹو نے لواری ٹینل کا آغاز کیا تھا مگر اس منصوبے پر قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے ۔مخصوص فنڈز تھے وہ ختم ہوئے تو منصوبہ جوں کا توں رہ گیا ۔پھر سابق فوجی حکمران نے ٹینل پر کافی کام کیا تھا ۔بعد میں پی۔پی۔پی کی حکومت آئی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے چار سالہ دَور میں ایک پیسہ بھی ٹینل پر خرچ نہیں کیا اور کام وہی کہ وہی رہ گئے ۔ بعد میں نواز شریف حکومت 25 ارب روپے خرچ کرکے منصوبے کو تکمیل تک پہنچا دیا جس کی وجہ سے ٹینل کا افتتاح اس کا حق بنتا ہے اس پر بات کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی ۔
نواز شریف نے ایٹم بم کا تجربہ کرکے اپنے ہی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔بھٹو شہید کی طرح ان کو بھی عدالتی قتل کیا جا رہا تھا ۔مگرکسی عرب دوست کی وجہ سے بچ گئے۔لواری ٹینل کا اصل کریڈیٹ ممبر مرحوم اتالیق جعفر علی شاہ کو جاتا ہے ۔یہ اس کی تجویرز تھی ۔چار سالوں تک اس نے لواری سرنگ کے علاوہ کوئی بات نہیں کی ۔ اسمبلی میں ایم۔این۔اے صاحباں جعفر علی شاہ صاحب کو مسٹر سرنگ کہا کرتے تھے۔بھٹو شہید کے چترالیوں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا ہم سے قرض ادا کیا گیا۔اس کی مثال نہیں ملتی مگر چترال کی کوئی خدمت نہیں ہوئی۔لواری ٹنل چترالیوں پر احسان ہے ۔ہم غیر مشروط طور پر پاکستان میں شامل ہوئے ہیں ۔جانوں کا نذرانہ پیش کرکے سکردو فتح کرکیا جو کہ کوئی کم بات نہیں۔میں اے۔این۔پی کی جماعت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ چترال میں ان کا ایک بھی کونسلر نہ ہونے کے باوجود اربوں روپے چترال پر خرچ کیے۔ ہائیر سیکنڈری سکولز ، بائی پاس روڈ اور دوسرے ترقیاتی کاموں کا جال بِچھا یا۔ہمارے منتحب نمائندوں کی انتہائی قدر دانی ہوئی تھی ۔اپنے دورِ حکومت میں سابق وزیر اعلیٰ حیدر خان ہوتی نے پانچ سے چھ مرتبہ چترال کا دورہ کیا ان کے احسان کا بدلہ چترالیوں کو ادا کرنا چاہیے اور یہ ہی وقت ہے ہم نے کسی کا ٹھیکہ نہیں لیا ہے۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے