شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ایئر پورٹ روڈ مرمت ، توسیع اور ارباب اختیار ۔۔۔

ایئر پورٹ روڈ مرمت ، توسیع اور ارباب اختیار ۔۔۔

(طنزیہ الفاظ کے استعمال پر پیشگی معزرت خواہ ہوں، اس پوسٹ کا مقصد کسی کی دل آزاری ہرگز نہیں ہے)
بلچ اور سنگور کا شمار چترال کے سب سے پوش علاقوں میں ہوتا ہے۔بلچ روڈ جس کو عرف عام میں ایئر پورٹ روڈ کا نام دیا جاتا ہےکی حقیقی مرمت
اور توسیع شاید ارباب اختیار کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ دانستہ اس سڑک کو بطور آثار قدیمہ کےلیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ سڑک پر جا بجا وہ قدیم اور تاریخی گڑھے اور کھڈے جوں کے توں موجود ہیں جن پر سے گزر کر سکندر اعظم کبھی دنیا فتح کرنے نکلے تھے۔
کافی عرصے سے سڑک کے کناروں پر خندقیں کھو دی گئی ہیں جن کا مقصد اتنا معلوم ہوسکا کہ بارش کے پانی کو جتنا بھی ہو سکے سڑک کی حدود سےباھر نہیں نکلنے دینا ہے، چنانچہ جب بھی بارش ہوتی ہے سڑک تالاب کا منظر پیش کرتا ہے۔ محکمہ ماھی پروری والوں سے گزارش ہے کہ تجرباتی طور پر افزائش نسل کے لئے مچھلی کے انڈے بھی اس میں ڈال دئیے جائیں۔
چونکہ اسی سڑک پر سے ہو کر اہم شخصیات ایئر پورٹ سے شہر تشریف لاتے ہیں ۔لہذا ایسے موقوں پر  سڑک کی عارضی مرمت اس احتیاط سےکی جاتی ہے کہ سڑک کی تاریخی اور قدیمی حیثیت کو مبادا کوئی نقصان نہ پہنچے۔چنانچہ ان شخصیات کی آمد کے موقوں پر بیلچہ بھر مٹی ان گڑھوں پر ڈال دی جاتی ہے۔
وادی خظار سے تعلق رکھنے والے وہ ڈرائیور حضرات جن کو پرسان، سوسوم اور آرکاری جیسے دنیا کے مشکل ترین راستوں پر گاڑی چلانے کا وسیع تجربہ ہوتا ہے اس سڑک پر پہنچتے ہی ان کے ہاتھ بھی کپکپا اٹھتے ہیں۔
پچھلے سال انتظامیہ نے اس سڑک کی پختگی اور مرمت کی سوجھی، فنڈ کا اجراء ہوا تو خوش قسمتی سے ٹھیکدار بھی آثارقدیمہ کے حد درجہ قدردان نکلے،دوران پختگی اس بات کا خاص خیال رکھا کہ جتنا بھی ہو سکے تارکول کا استعمال کم سے کم کیا جائے ،پتلے ریت کی موٹی تہہ بچھا کر اوپر تارکول کا سپرے بس اتنی مقدار میں کی گئی کہ سڑک پر سے گزرنے والوں کو محص اس کی بو محسوس ہو سکے۔
بچھائے گئے ٹھوس مادے کی سطح کو ہموار بنانے کے لئے رولر کی ضرورت پیش آئی تو دستیاب جدید مشینری کے بجائے سو سالہ پرانی ہتھ گاڑی کا بندوبست کیا گیا ۔اکیسویں صدی عیسوی میں چار آدمیوں کے پیچھے باندھ کر جب رولنگ کا آغاز کیا گیا۔تو بدقسمتی سے  (چترال ٹائمز ) والوں کی نظر پڑی فورا سے پیشتر انہوں نے خبر چلا کر اس غیر انسانی عمل کو رکوا دیا۔
 مرمت کے بعد انتظامیہ کو اس سڑک کی توسیع کا شوق پیدا ہو گیا۔چنانچہ سڑک سے ملحقہ پہاڑی کو کاٹنے کے بجائے دریا کی سطح سے ایک اضافی پشتے کی تعمیر شروع کی گئی لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد جب اس ترچھے دیوار کی تکمیل ہوگئی تو مجال ہے کہ سڑک کی کشادگی میں گز بھر کا بھی اضافہ ہو سکا ہو۔
Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے