شہ سرخیاں
Home / پاکستان / نظریہ پاکستان اور اسلام

نظریہ پاکستان اور اسلام

بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم دانشور ،مفکر و مصنف علامہ محمد اسد اپنے معروف جریدہ عرفات کے فروری 1947 کے شمارے میں رقم طراز ہیں۔کہ تحریک پاکستان ایک نئے اسلامی نظام کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے بشرط یہ کہ ہم مسلمان محسوس کریں اور قیام پاکستان کے بعد بھی محسوس کرتے رہیں کہ اس تحریک کی حقیقی اور تاریخی جواز یہ نہیں ہے کہ ہم اس ملک کے دوسرے باشندوں سے مختلف لباس پہنتے ، مختلف زبان بولتے یا مختلف انداز میں علیک سلیک کرتے ییںیا یہ کہ ہم دوسری قوموموں سے کچھ شکایات ہیں ، یا یہ کہ ہمیں زیادہ معاشی مواقع کی خواہش ہے یا یہ کہ ان لوگوں کے لئے جو خود کو محض عادت کے طور پر مسلمان کہلواتے ہیں ، زیادہ کشادہ جگہ کی طلب ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے مطالبہ پاکستان کا اگر کوئی جواز ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ ایک سچی اسلامی مملکت قائم کی جائے،دوسرے لفظوں میں یہ کہ عملی زندگی میں سلامی احکام و شعائر رائج کئے جائیں۔
تحریک پاکستان کا مقصد ہی اسلامی نظام کا نفاذ تھا۔ تحریک پاکستان کا پہلا نعرہ ہی ” لا الٰہ الا اللہ” مقرر ہوا تھا۔ اور اس کلمے کوبنیا د بنا کر مسلمان رہنماؤں نے ایسی ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا کہ جہاں ایک نظریاتی، اسلامی ہیئت حاکمہ کا قیام ممکن ہو۔ جہاں ایک ایسا معاشرتی و سیاسی نظام قائم ہو جس میں اسلمای نظریہ و اعتقاد (شریعت) وہاں کے مسلم قومیت میں نمایاں دکھائی دے۔
نظریہ پاکستان دراصل میں نظریہ اسلام)ہی تھاجو مسلمانان ہند کو طویل گراں خوابی سے بیدار کیا تھا ۔ جو انہوں نے ایک عظیم مقصد کیلئے اتنا زبردست اتحاد و اتفاق حاصل کر لیا کہ اس سے پہلے ہندوستان کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ یہ نظریہ پاکستان ہی تھاجو مسلمانوں کو اپنا جداگانہ ثقافتی تشخص قائم کرنے کا شعور دیا تھا۔ یہ نظریہ پاکستان ہی تھا جو فرقہ واریت اور مسلکیت کے امتیاز کو مٹاکر ایک مسلمان قوم کے طور پر ایک جھنڈے تلے جمع کیا۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم ؒ کے دست راست لیاقت علی کان نے بڑے زور دار طریقے سے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ تحریک پاکستان کے محرکات کا اصل سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ لہٰذا ہم جس اسلامی ریاست کے قیام کے لئیے جدوجہد کر رہے ہیں وہ اپنی سند اختیار و مجاز صرف شریعت سے حاصل کرے گی۔
نومبر 1945ء میں قائدعظم نے پشاور کے ایک جلسے میں کہا ۔ آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کون سا قانون ہو گا۔ مجھے آپ کے سوال پر سخت ا فسوس ہے۔ مسلمانون کا ایک خدا، ایک رسول ﷺ اور ایک کتاب ہے۔ یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس۔۔۔۔۔۔۔ اسلام پاکستان کے قانون کی بنیاد ہو گا۔ اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف کوئی نہیں ہو گا۔
صد افسوس! پاکستان میں ایک انڈیا نوازطبقہ ہمیشہ امن کی آشا کے آڑ میں نظریہ پاکستان کو ایک احمقانہ سوچ کی پیداوار قرار دے رہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ نظریہ پاکستان کا انکار کرنے والے نظریہ اسلام کے بھی منکر ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ الکافرون میں واضح فرمایا ہے کہ آپ (مسلمانوں ) کیلئے آپ کا دین اور ان (کافروں) کیلئے ان کا دین۔
مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ بعض مسلمانوں کو بھی نظریہ پاکستان کا سخت مخالف بنا رکھا ہے۔ خدکرے نجم سیٹھی صاحب کی ہندوستانی بولی بولنے والی چڑیا کی زبان کو چپ لگے۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے