شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ترکی کا قائدانہ کر دار

ترکی کا قائدانہ کر دار

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س کے مو قع پر نیو یارک میں تقریر کر تے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے واشگاف الفاظ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ دنیا میں اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیزہے عیسائیوں کی دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا یہودیوں کی دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا ہندووں کی دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا بر ما کے بدھ مت کی دہشت گردی کو مذہبی نام نہیں دیا جاتا ہے تو کسی ایک مسلمان کی دہشت گردی کو مذہبی رنگ کیوں دیا جاتا ہے؟ترک صدر کی آواز توانا آواز ہے اس کے پیچھے ترک قوم کی طاقت بھی ہے اس لئے دنیا میں اس آواز کو اہمیت دی جائیگی اس وقت دنیا میں مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس میں دشمن کا کوئی ہاتھ نہیں مسلمان خود اپنے آپ کو ظلم کا نشانہ بناتے ہیں خود اپنے آپ کو بدنام کرتے ہیں اور بدنامی کے داغ دھونے کی جگہ مزید بدنامی کی طرف پیش قدمی کر تے ہیں برما ،کشمیر ،فلسطین ،شام ،یمن ،افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں کو جس طرح ظلم کا نشانہ بنا یا جاتا ہے اس کے پیچھے دشمن سے زیادہ مسلمان ہی کا ہاتھ ہوتا ہے
ماضی قریب میں خصوصاً1978 ؁ء کے بعد آنے والے 39 سالوں میں مسلمانوں کی بہت سرکوبی ہوئی ہے مسلمان ملکوں کو بھی زوال آیا اور مسلمانوں کی قیادت کو بھی زوال آیا اسلامی کانفرنس کی تنظیم دشمن کے ہاتھ میں ربڑکی مہر بن گئی اور پھر اپنی موت آپ مرگئی آپ 39 سالوں کے اخبارات کی فائلین نکالیں اخبارات کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑائیں تو چار بڑی حقیقتیں سامنے آئینگی پہلی حقیقت یہ ہے کہ عرب دنیا پر دشمن کا فوجی قبضہ ہوگیا ہے عراق،مصر ،لیبیا ،سوڈان،شام جیسے قابل ذکر ممالک بھی دشمن کی جھولی میں گرگئے ہیں دوسری حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لئے تباہی اور بربادی کے دروازے کھول دیے دہشت گرد گروہوں کی تربیت کے لئے مسلمانوں نے اپنی زمین ، اپنا ملک ،اپنے بچے، اپنے ادارے دشمن کے حوالے کر دیے آج دشمن ان تمام شواہد کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہا ہے تیسری حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو عرب اور عجم کے دو مخالف گروپوں میں تقسیم کر کے دونوں کے درمیاں دیوار حائل کر دی گئی اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضلیت نہیں مگر تقویٰ کے ذریعے آج اسلام کی اس تعلیم کو پسِ پُشت ڈال کر ایران اور سعودی عرب کو مخالف کیمپوں میں تقسیم کیا گیا چوتھی حقیقت یہ ہے ہمارا دشمن طاقتور ہو گیا ہم کمزور ہو گئے عراق پر ہمیں جو فخر تھا وہ ختم ہوامصر کے ساتھ ہماری تو قعات تھیں وہ خاک میں مل گئیں سعودی عرب کو حرمین شریفیں کی وجہ سے ہم قیادت کا کردار دینے والے تھے وہاں دشمن کی فوج نے چھاونیاں بنا کر ڈیرہ ڈال دیا آج سعودی حکومت امریکیوں کو عجمی نہیں سمجھتی ،خارجی نہیں کہتی ،ایران ، پاکستان ،ترکی ،انڈونیشیا اور مراکش کے شہریوں کو خارجی کہہ کر دھتکار دیتی ہے ان حقائق کو تسلیم کئے بغیر کو ئی چارہ نہیں منطقی طور پر توقعات یہ تھیں کہ سوئیکارنو کا انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک ہے مسلمانوں کی نشاۃثانیہ کے لئے کوئی کردار ادا کر ے گا ، ایران اور ترکی کو اپنی تاریخ پر فخر ہے وہ آگے بڑ ھ کر امت مسلمہ کی قیاد ت کر ینگے ذولفقار علی بھٹو کا پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے اس ملک میں دوسرا بھٹو پیدا ہو گا اور امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے گا مگر یہ توقعات پوری نہیں ہو ئیں اس ما یوسی میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے چند اہم اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کیا کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھائی میانمر (برما) کے مظلوم مسلمانوں کی عملی مدد کی اپنا جہاز بھیجا ،اپنی فوج میا نمر میں اتاری جو مسلمانوں کو محفوظ مقامات پر لے جا نے میں مدد دے رہی ہے اب نیو یارک میں جاکر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُس نے اعلان کیا کہ اگر تم نے اسلامی دہشت گردی کا نام لیا تو ہم عیسائی دہشت گردی ،یہودی دہشت گردی ،ہندو دہشت گردی اور بدھ مت دہشت گردی کی مثالیں دینگے اگر وقت آیا تو رجب طیب اردگان یہ بھی ثابت کر ینگے کہ 1978ء میں افغانستان کے اندر بننے والے دہشت گرد کیمپ عیسائیوں اور یہودیوں نے قائم کئے تھے مسلمانوں نے قائم نہیں کئے آج میا نمر سے کشمیر ،فلسطین ،افغانستان ،پاکستان اور شام میں جو دہشت گرد ی ہو رہی ہے یہ مسلمانوں کی نہیں دشمنوں کی دہشت گردی ہے ول ڈن !ترک صدر زندہ باد۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے