شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / روداد چمن

روداد چمن

بنتِ حوا کی نہ صرف عصمت دری کی گئی بلکہ عزت و آبرو روندھنے کے بعدزندگی بھی ان سے چھین لی گئی۔نوجوان حافظ قرآن حافظ زکریا اس سوچ میں کہ عیدِ قربان کےمسرت لمحات اپنے ہی آنگن میں والدین اور عزیز و اقارب کے ساتھ دوبھالا ہونگے ۔ان سوچوں میں ابھی چند ہی دن گزارے تھے کہ بے رحم کزن کے ہاتوں لہو لہان ہو کر زندگی کی بازی ہار گئے ۔نسل نو کی فکر سے عاری مال و زر کے حوس زدہ سماج دشمنوں کے ہاتھوں پورا دیس منشیات کےاڈوں سے بھرا ہوا ہے۔ جوان سال بیٹے کے ہاتھوں سب سے عظیم رشتہ ماں باپ زندگی کی بھیک مانگے راہی عدم ہوگئے۔ ابھی چاند رات کا انتظار تھا کہ دخترِ وطن خود کو دریا کے موجوں کی نظر کرتی ہے۔ کئی دختران وطن کی لاشیں ڈبوں میں بند ہر چند ہفتوں میں پہنچ جاتی ہیں اور بھی بہت کچھ سنتے ، دیکھتے آرہے ہیں۔

 

میں یاد دلاؤں تو یہ خبروں کے تراشے کسی قبائلی، پسماندہ اور کسی تھریٹ زون کی نہیں اور نہ ہی ایسے علاقے کی ہیں کہ جہالت جہان کے لوگوں کی تعارف اورشعار ہے۔ نہیں بلکہ یہ خبر پارے اسی دیس کی ہیں جہاں کے باسی اپنی شرافت کی سند تھامے ہر موڑ پر نازاں رہتے ہیں بلکہ ساتھ اپنی شرافت پر فخر کرنے کو قانونی، اخلاقی اور موروثی حق سمجھتے ہیں۔ وہی بستی جسے جابرِ زماں لیکن محسنِ وطن نے تاریخی موقعے پر مثالی اخلاقی معاشرے کا خطاب دیا۔ اور بعد ازاں کوئی سیاسی لیڈر یا سلیبریٹی ایسی نہیں گزری جو اس دیس کی تعریف میں کوتاہی کا ارتکاب کرے۔ ہر مہمان اپنی آمد کے بعد دوبارہ دید کی تمنا لیئے جہاں سے رخصت ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

 

خیر جو بھی ہو ظنو المومنیں خیرا کا مکلف کسی کی نیت پر شک نہیں کر سکتا لیکن حالات حاظرہ اور حقائق سے پردہ کشی کسی حد تک سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کہیں یہ تمام القابات و نوازات سیاسی اور رسمی بیانات اور صوفیانہ کلمات تو نہیں۔ لیکن خیال اگر اس طرف کھینچ کر بھی لے جائے لیکن تفاخر میں بہر تقدیر حق بجانب ہیں اسلئے کہ امن و محبت ، خداترسی ، انسانیت دوستی و ہمدردی میں بہر حال دیگر سے سبقت اب بھی رکھتے ہیں۔ دلی مسرت ہے کہ ہم جنت نظیر وادی چترال کے باسی ہیں جوکئی ایک زاویوں سے ہرخاص و عام کی نظر میں ممتازہے۔ یہان کی اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کا رنگ رنگوں میں نمایاں ہے۔ باسیوں کے لبس و ملابس، طرزِحیات، مذہبی روادای اورٹیلینٹ قابلِ رشک ہے۔ اہل دانش سے یہ سبق ہم نے پڑھا ہے کہ ہماری ثقافت اسلامی روح رکھتی ہے۔ اور تہذیبِ اسلامی کی آمیزش ہی اس محدود رقبے کی ثقافت کو ممتاز بنائے رکھی ہے۔ مردو زن کے پوشاک اور ٹوپی اسلامی شعائر پرنہ صرف پورا اترتی ہیں بلکہ اس ثقافت کے اسلامی پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ انسان دوستی اوربے لوث خاطرِ مدارت نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طرز حیات کی عملی تفسیر ہے۔ مراسم و روابط اور لسانی شائستگی ، چھوٹے بڑے کی توقیر و تعظیم سے ہماری ثقافت نہ صرف قابل داد ہے بلکہ قابل دید اور پیام امن و محبت نہ ہونے میں کوئ گنجائش ہی نہیں رکھتی۔ منفرد بات ہماری ثقافتی چمچ "کیپینی” کے بائیں ہاتھ سے استعمال پر قدرت نہیں رکھی جاسکتی جو قدیم صانعیں کی اسلامی طرزِ صناعت اور تبریکِ یمین اسلامی تہذیب کے مسلم پہلو پر باواز بلند گواہی دیتی ہے۔ ادب و صحافت اور علمی تاریخ بھی اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ علی ھٰذا القیاس کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو تہذیب اسلامی کی آمیزش سے خالی ہو۔مجھے انتہای مشفق استاذ مولانا فاروق غالب صاحب کے الفاظ یاد ہیں جو انکی فرمایش پر چترالی ثقافت کے چیدہ چیدہ اشیاء کے ملاحظہ کے بعد فرمائے تھے۔ کہ حذیفہ آپکی ثقافت چترالی ہے اور تہذیب اسلامی ہے۔

 

تمام ترمشاہدات کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تصویر کے دورخ ہوتے ہیں۔ تغیرکو زمانے میں اثبات کے موافق ہم نہ چاہتے ہوئے بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری ثقافت کا حقیقی رنگ اترتا جاتا ہے جو کہ نہ صرف بیروںِ دنیا میں ہماری پہچان متاثر کررہا ہے بلکہ تاریخ کے ماتھے پے قائم ہماری امیتازی عمارت کو بھی ڈھاتا جارہا ہے۔ آئے روز کے حالات و واقعات اور نسل نو کی تن آسانی و ترجیحات یہ باور کرانے میں لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے ہیں کہ ہمارے وجہِ تفاخر کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔اورقیاس آرائ بھی ممکن ہے کہ ہماری مزید غفلت سے ہماری پہچان ایک قصہ پارینہ بننے کی طرف روبہ سفر ہے۔ارباب علم و دانش اور بڑوں کے بزم سخن میں اس حقیقت کے عوامل کا تذکرہ اگر چہ سوء ادب ہے لیکن یہ عرضداشت تو پیش کی جاسکتی ہے کہ ہمارے آباء کے عظیم ورثے کی گرتی دیوار کو سہارا دیا جائے۔ ثقافت کے نام لیواؤں کو جن کی نظر میں ثقافت رقص و سرور ، زلف و رخسار کے مرصع تذکروں کا نام بن چکی ہے اور اہل قلم قلم و صدائے منابر و محراب اور نوجوان باشعور و تعلیم تافتہ طبقہ کو اس حقیقت کا ادراک ہو، اور یقینا ہماری شاخ نازک پے نازک بننے والے آشیانہ ناپید کو زمین بوس ہونے سے بچانا انکی مساعی کے بغیر ناممکن ہے۔ اب وقت آن پڑا ہے کہ حال کا ادراک کرتے ہوئے مستقبل کو سنوارا جائے۔ اگر غفلت مزید تسلسل کا شکار رہی تو مرقدِ اقبال سے یہ نالہ بے اثر برابر آتی رہے گی

تمہاری داستاں تک نہ ہوگی ، داستانوں میں

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!