شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ کی جانب سے ایک بار پھر چترالیوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ۔۔۔

محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ کی جانب سے ایک بار پھر چترالیوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ۔۔۔

پشاور ( نمائندہ چترال آفیئرز)
محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ نے ایک بار پھر چترالیوں کے ساتھ تعصب کا بھرپورمظاہرہ کرتے ہوۓ امسال بھی چترال کے پرائمری،مڈل اور ہائی سکولز کے لئے دوسرے اضلاع کی بہ نسبت بہت کم اسامیاں رکھی ھیں۔ خیبر پختونخواہ کے پرائمری سکولز کے لئے ٹوٹل 4317 اسامیوں کی منظوری دی گئی ہے جن میں چترال کا حصہ صرف 31 جی ہاں صرف ایکتیس ہے ۔۔۔۔جبکہ دیر اپر کے لئے 530 ، دیر لوئر کے لئے 351 ، سوات کے لئے 416 ،ملاکنڈ 143،پشاور 696 وغیرہ ۔۔۔۔۔ اسی طرح سی ٹی کی 3675 اسامیوں میں سے چترال کے لیے  92 اسامیاں مختص کیں ھیں ۔جبکہ دیر اپر 148 ،دیر لوئر 482 ،سوات 278، ملاکنڈ 214 ، مردان 402 ،صوابی 530 باقی اضلاع میں بھی یہی تناسب۔۔۔۔ ایس ایس ٹی کی اسامیوں کی تقسیم میں بھی اسی طرح کا ظلم ھوا ہے ایسے چترال کے لئے 48 ، دیر اپر 119، دیر لوئر 349 ، سوات 94، ملاکنڈ 97، چارسدہ 113 ، صوابی کے لئے 148 اسامیاں رکھی گئی ھیں ۔
یہ ظلم پہلی بار نہیں ھوا ہے بلکہ بار بار ہوتا چلا آ رہا ہے اس  نا انصافی میں صوبے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس چترال کی نا اہلی بھی شامل ہے جو ہمیشہ سے پروپوزل بناتے ہوۓ بز دلی کا مظاہرہ  کرتی رہی ہے ۔  کوئی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی تاکہ ہم ان متعصب عناصر کو بے نقاب کر سکیں ۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے