شہ سرخیاں
Home / آس پاس / دریائے کابل میں چترال کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب !

دریائے کابل میں چترال کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب !

چترال خاص (بلچ اور دنین) کے درمیان سے ہو کر گزرنے والا یہ دریا, دریائے چترال ہرگز نہیں بلکہ "دریائے کابل” ہے. جی ہاں! اپنی ستاسٹھ سالہ تاریخ میں ہم نے اس دریا کو افغانستان ہی کا ثابت کرنے کے لیئے اپنی درسی کتب سے لیکر سرکاری اور عسکری نقشون تک کونسی کسر چھوڑی ہے.ورنہ تو قیام پاکستان سے قبل یہ اپنے اصل دریائے چترال نام سے مشہور تھا. چترال کے علاقے بروغل سے شروع ہونے والا یہ دریا اپنے دامن میں چھوٹے بڑے دریاؤں ندی نالوں اور قدرتی چشموں کو سمیٹ کر جب سیکڑون کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ارندو کے مقام پر ارضیاتی نشیب وفراز کی وجہ افغانستان میں داخل ہو کر فوری طور پر جب واپس پاکستانی علاقے میں داخل ہوتا ہے تو حیرت انگیز طور پر اس کا نام دریائے چترال سے تبدیل ہوکر دریائے کابل پڑ جاتا ہے.دلچسپ بات یہ کہ خود شہر کابل اس دریا کے کناروں سے میلوں دور ہے. نہ صرف یہ بلکہ کچھ سال پہلے تک خود افغانی اس کو دریاے چترال کا نام دیتے تھے. . جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے دریائے کابل افغانستان کا ہے.چاہے وہ اس پر ڈیم بنائے یا اس کا رخ موڑ کر اپنے بنجر علاقوں کو آباد کرے ہمیں تشویش کس بات کی. ویسے بھی اس دریا سے فائدہ اٹھانا تو دور کی بات ہم نے تو اس کو دہشت کی علامت بنا کر رکھ دیا ہے.روز خبر آتی ہے چادسدہ اور نوشہرہ میں اتنے مکانات ڈوب گیے ,اتنےایکڑ اراضی زیر اب آگئے.. ساری ستم ظریفیاں ایک طرف پچھلے سال تو سرکاری ٹی وی نے تو یہ کہہ کر الٹی گنگا بہا دی تھی کہ دریائے کابل میں چترال کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے.

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے