شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سلیم خان کو عوام کی بجائے ذاتی مفاد عزیز ہے ۔محمد حسین ممبر ڈسٹرکٹ کونسل
??????????????????????????????????????????????????????????

سلیم خان کو عوام کی بجائے ذاتی مفاد عزیز ہے ۔محمد حسین ممبر ڈسٹرکٹ کونسل

چترال ( نمائندہ چترال آفیئرز )لٹکوہ سے ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر محمد حسین نے کہا ہے ۔ کہ ایم پی اے سلیم خان پراجیکٹ لیڈر سسٹم کے ذریعے لٹکوہ کے منصوبوں کے نام پر 86کروڑ روپے کے فنڈ ہڑپ کر چکے ہیں ۔ اور علاقے کی پسماندگی اور غربت خود اس کی گواہی دے رہا ہے ۔ اتنی خطیر فنڈ میں سے پانچ کروڑ بھی ارکاری روڈ پر خرچ کرتے تو یہاں کے لوگ آئے روز حادثات کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔ لیکن اُن کو عوام کی بجائے ذاتی مفاد عزیز ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزچترال کے پسماندہ ترین وادی آرکاری میں "شہزادہ امان الرحمن سپورٹس ٹورنامنٹ "کے فائنل کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے بطور صدر محفل خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سلیم خان گذشتہ بیس سالوں کے دوران عوام لٹکوہ مختلف قسم کا جھانسہ دے کر نمائیندگی حاصل کی ۔ لیکن علاقہ لٹکوہ کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ خصوصا ارکاری ، پرسان جیسے پسماندہ علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ۔ جب کہ یہ علاقے اپنی غربت اور پسماندگی کے سبب زیادہ توجہ کے محتاج ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں مذہب اور مسلک کو سیاست کیلئے استعمال کیلئے استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتا ۔ لیکن بعض لوگ بشمول ایم پی اے سلیم خان یہ نسخہ استعمال کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد مُڑ کر بھی اُن کی طرف نہیں دیکھتے ۔ اب دوبارہ یہ وقت آچکا ہے ۔ جس میں یہ لوگ پھر سے حصول اقتدار کیلئے یہ زہر پھیلانے کی کوشش کر یں گے ۔ لیکن عوام کو اُن سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے ۔ محمد حسین نے کہا ۔ کہ وفاقی حکومت نے 8ارب 70کروڑ روپے لٹکوہ روڈ کیلئے منظور کیا ہے ۔ اُس کیلئے ہم وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں لیکن سلیم خان کا اس میگا پراجیکٹ کو اپنی کوششوں کا نتیجہ قرار دینا عوام لٹکوہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ اگر اُن میں اتنی صلاحیت ہوتی ۔ تو پی پی پی دور میں یہ روڈمنظور کرا لیتے ۔ محمد حسین نے ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ کی طرف سے آرکاری روڈ کی تعمیر کیلئے 3کروڑ روپے کے اعلان پر اُن کا شکریہ ادا کیا ۔ اور اس اُمید کا اظہار کیا ۔ کہ اس فنڈ سے سڑک کی تعمیر کے بعد عوام آرکاری کو سردیوں میں راستے کی بندش سے مستقل بنیادوں پر نجات مل جائے گی ۔ انہوں نے آرکاری فیسٹول کو آیندہ ہر سال خوبصورت سیاحتی مقام "اکرم گھاس "میں منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ۔

 

کہ فیسٹول میں اعلی حکومتی وزیروں ، مشیروں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ۔ تاکہ مقامی مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکے ۔ انہوں نے شاندار ٹورنامنٹ منعقد کرنے پر فرینڈز سپورٹس آرگنائزیشن کی تعریف کی ۔ اور اپنی طرف سے ٹیموں کیلئے مجموعی طور پر 20ہزار روپے کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی جنرل سیکرٹری تحریک انصاف چترال اسرارالدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ تحریک انصاف نے کرپشن کے خاتمے کیلئے اعلی حکومتی شخصیات کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونے پر مجبور کیا ہے ۔ اور کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا ، ہم نوجوانوں کو صرف کھیل تک محدود نہیں رکھنا چاہتے ۔ بلکہ ملک کی بھاگ ڈور اُن کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں ۔ اسرار الدین نے کہا کہ صوبائی حکومت ایم پی ایز کو ٹھیک ٹھاک فنڈ دے رہی ہے ۔ لیکن امانت کے طور پر اُنہیں عوام کے مفاد میں استعمال کرنا ایم پی ایز کا کام ہے ۔ انہوں نے تعلیم ، صحت کے فنڈز میں اضافہ ، معیار تعلیم کو بہتربنانے کیلئے مانٹیرنگ سسٹم اور میرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی تقرری کو پی ٹی آئی کا کارنامہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیر پر بڑے پیمانے پر فنڈ خرچ کر رہی ہے ۔ جس میں سے 15کروڑ روپے آرکاری میں 500کلوواٹ بجلی گھر کی تعمیر پر خرچ کئے جائیں گے۔ اس سے علاقے میں ایندھن کی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے سپورٹس گراؤنڈ کی تعمیر کیلئے 20لاکھ روپے ،سپورٹس آرگنائزیشن کیلئے 20ہزار روپے اور علاقے میں فل فلیج ڈسپنسری قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ قبل ازین ٹورنامنٹ کے آرگنائزر محمد ولی چیرمین فرینڈ ز سپورٹس آرگنائزیشن نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اور علاقے کے مسائل بیان کئے ۔ سپورٹس ٹورنامنٹ کا فائنل فٹبال میچ سیاہ آرکاری اور سفید آرکاری نے ایک گول کی برتری سے ٹرنامنٹ اپنے نام کر لی ، اسی طرح کرکٹ میں گورنمنٹ ہائی سکول آرکاری نے رباط آرکاری کو اور کیرم بورڈ میں محمد ولی ٹیم نے غازی ٹیم کو شکست دے کر فائنل جیت لی ۔ بعد آزان کامیاب ٹیموں میں ٹرافی تقسیم کئے گئے ۔ فائنل تقریب میں پی ٹی آئی کے رہنما محمد قاسم اور مقامی عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے