شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / شہزادہ مقصود الملک اپنے اثرو رسوخ سے پولیس کو استعمال کرکے کالاش قبیلےکے موروثی ، مملوکہ مقبوضہ جائداد وں اور جنگلات جو کہ صرف سرکاری ملکیت ہیں ،سے محروم کر رہا ہے , کیلاش عمائیدین

شہزادہ مقصود الملک اپنے اثرو رسوخ سے پولیس کو استعمال کرکے کالاش قبیلےکے موروثی ، مملوکہ مقبوضہ جائداد وں اور جنگلات جو کہ صرف سرکاری ملکیت ہیں ،سے محروم کر رہا ہے , کیلاش عمائیدین

چترال ( محکم الدین ) کالاش ویلی بمبوریت کے دو دیہات پڑاوناندہ اور انیژ کے مردو خواتین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے فوری طور پر اُن کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ یہ ناانصافی اگر فوری نہ روکی گئی ۔ تو وہ ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوںگے ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز کالاش قبیلے کی مردو خواتین نے ایک احتجاجی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ایک باثر شخصیت  ۔اورمقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باوجود مقصود المک ڈی پی او سے ملی بھگت کرکے سرکاری چراگاہ و جنگلات سے استفادہ حاصل کرنے سے اُنہیں روک رہا ہے ۔ جبکہ کالاش  کی زقبیلےندگی کا مکمل دارومدار چراگاہوں اور جنگلات پر ہے ۔ مقامی دیہات کی نمایندگی کرتے ہوئے شیر محد کالاش ، منگل خان کالاش ، شواربیگم کالاش ، گالسام کالاش ، شیرین نسہ کا لاش ، ( ر) صوبیدار رحمت کریم ، محمد رفیع ، سراج الدین ،شہاب الدین وغیرہ نے کہا ۔ کہ 1975کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سوختنی لکڑی کا حق مقامی باشندگان کو دیا گیاہے ۔ مگر مقامی پولیس مذکورہ حق کے حصول سے اُنہیں شہزادہ مقصود الملک ساکن ایون اپنے اثرو رسوخ سے پولیس کو استعمال کرکے اُن کو اُن کے موروثی ، مملوکہ مقبوضہ جائداد وں اور جنگلات جو کہ صرف سرکاری ملکیت ہیں ،سے محروم کر رہا ہےمنع کر رہا ہے ۔ جبکہ کالاش ویلی میں سوختنی لکڑی ااستعمال کئے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش پوری دنیا میں منفرد تہذیب کے مالک اور پاکستان کا انتہائی پُر امن اور مجبور قبیلہ ہے ۔ جس کی اقلیت ہونے اور مجبوری کا بااثر شخصیت مقصود الملک اور مقامی پولیس فائدہ اُٹھا رہی ہے ۔ اور اُن کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا
۔ کہ وہ اس حد تک تنگ ہو چکے ہیں کہ اُن کے پاس پاکستان سے ہجرت کرنے کے سوا اور کوئی چارئہ کار نہیں ۔
انہوں نے کہا ۔ کہ مقامی پولیس فریق کا کردار ادا کر تے ہوئے کسی بھی قسم کے ظلم و جبر کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔حالانکہ قانون کی رو سے مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران پولیس کو مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ جبکہ عدالت نے مقامی پولیس کو اختیارات سے تجاوز کرنے سے منع کیا تھا ۔ مگر ڈی پی او چترال کے حکم پر مقامی پولیس عدالتی احکامات کو بھی یکسر نظر انداز کر رہا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پُر زور اپیل کی ۔ کہ کالاش قبیلے کو پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ اور کالاش قبیلے پر چترال پولیس خصوصا ڈی پی او چترال کی ظلم و زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش قبیلے کو چترال کا سب سے قدیم باشندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ لیکن اس کے حقوق و جائداد پر ناجائز قبضہ جمانے اُنہیں علاقہ چھوڑنے کی راہ ہموار کر نے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جو کہ یقینا ایک چھوٹی اور محب وطن اقلیت کے ساتھ سراسر ظلم ہے ۔
Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے