شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ڈی سی صاحب کی تشریف آوری

ڈی سی صاحب کی تشریف آوری

 

خد ا خدا کرکے بالآخر نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنرارشاد سودھیر چترال پہنچ کر اپنے عہدے کا باقاعدہ چارچ سنبھالا ۔ جس وقت ارشاد سودھیر کی بحیثیت ڈی سی چترال تعیناتی کی خبر نشر ہوئی ٹھیک اسی وقت سوشل میڈیائی مجاہدین کی جانب سے خوش آمدیدی بینرآویزان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو کم وبیش ایک ہفتے سے زائد عرصہ سے جاری ہے ۔

سرکاری عہدے داروں کا تبادلہ روٹین کا معمول  ہوتا ہے ۔ حکومت جس آفیسر کو جس جگہ اور پوسٹ کے لئے مناسب سمجھے ان کی تعیناتی کردیتے  ہیں ۔اس مرتبہ نئے ڈی سی کی تعیناتی پر جس قسم کا خوش وخرم چترالیوں میں نظر آیا وہ نام نہاد مہذب اور تعلیم یافتہ طبقے کا شاید شایان شان نہ تھا ۔ جب ڈی سی صاحب پشاور سے چترال کی جانب روانہ ہوئے تو چترالیوں کی بڑی تعداد نے ان کے استقبال کے لئے لواری ٹنل تشریف لے گئے تھے وہاں سے قافلے کی صورت میں ڈی سی صاحب   جگہ جگہ استقبالی کیمپوں سے ہوکر چترال پہنچے ۔ راستے میں کئی مقامات پر عوام کے جم غفیر سے خطاب بھی کیا ۔ ان کے لئے” اشپیری ” کا بھی بندوبست کیا گیا تھا ۔سوشل میڈیا سے لے کر چترال کے مین اسٹریم میڈیا تک سب نے پل پل کی خبروں سے عوام کو باخبر رکھا، جس کے لئے ہمارے صحافی دوست اور سوشل میڈیائی دانشور خراج تحسین کے مستحق ہے ۔ آخر ایک انتظامی آفیسر کا اس طرح سے استقبال کیا معنی رکھتا ہے ؟ چترالیوں کا نئے ڈپٹی کمشنر سے کس قسم کے توقعات وابسطہ ہے ؟ اس سارے عمل سے ایک بات واضح ہوگئی کہ چاہے ہمیں ریاستی جبر سے آزاد ہوئے عشرے ہی کیوں نہ بیت گئے ہو لیکن ہم اپنی غلامانہ ذہن  تبدیل کرنے کو تیار نہیں ۔

ہسپتال انتظامیہ کے خلاف تادیبی کاروائی :

ابھی ارشاد سدھیر صاحب چترال پہنچے بھی نہیں تھے کہ اچانک سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو کو دیکھ کر ان کا خون جوش مارا اور ڈسٹرکٹ میڈیکل سپرنڈنٹ سمیت ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کے تین ملازمین کی برطرفی کا حکم صادر فرمایا ۔ وجہ ہسپتال کے کچرے کو دریا برد کرنا تھا ۔یہ کام دراصل ڈی سی کے زیر انتظام چلنے والے تحصیل میونسپل انتظامیہ کا ہوتا ہے لیکن ٹی ایم اے نہ توہسپتال کے کچروں کو اٹھانے کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور نہ ہی کچرہ کنڈی موجود ہے جہاں کچرے کو تلف کیا جاسکے ۔ ان  مشکلات کوکون دیکھتا ہے یہاں تو ہر بندے کی خواہش خود نمائی ہے جس کا مظاہر ہ ڈی سی صاحب نے ہسپتال کے کچروں کے معاملے میں کیا۔ اب لگتا ہے کہ یہ مسئلہ   ان کے گلے کی ہڈی بننے والی ہے ۔

ذرائع ابلاغ میں جاری اشتہاربازی:

گزشتہ دو دنوں سے مین اسٹریم میڈیا میں تسلسل سے ڈپٹی کمشنر صاحب کی اشتہاری مہم جاری ہے۔ صحافت کی دنیا میں کتے کا انسان کو کاٹنا خبر نہیں بلکہ انسان کا کتے کو کاٹنا خبر کہلاتی ہے کیونکہ کتے کا کام ہی کاٹنا ہوتا ہے جبکہ اگر انسان کسی کتے کو کاٹے تو یہ خبر بن سکتی ہے ۔ یعنی خبر وہ ہوتا ہے جو غیر معمولی ہو۔ہمارے ہاں خبر کے نام پر ذرائع ابلاغ پر چند افراد کی اشتہار بازی جاری ہے  ۔ مثلا ڈی سی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا ۔ یہ بھی کوئی خبر ہوئی ؟ پھر ڈی سی صاحب کی جانب سے بیان آیا کہ میں سارے لوگوں کو اپنی ٹیم کا حصہ بناؤں گا۔ بھئی کونسی ٹیم ؟ آپ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ہے برائے کرم اپنی ڈیوٹی درست طریقے سے انجام دے تو آپ کی نواز ش ہوگی ۔ چترال سرزمین بے آئین اور مسائلستان ہے ۔ آپ اپنے اختیارات کو بھر پور طریقے سے استعمال کرکے قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے،تو ننانوے فیصد مسائل خود بخود حل ہونگے ۔ وگرنہ اشتہار بازی کے اس مہم سے قوم کو کچھ ملنے والے نہیں ۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے