شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ڈاکٹری یا قصائی

ڈاکٹری یا قصائی

یہ کوئی دو سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں فیمل ڈاکٹرز نے ایک خاتون کی دوران زچگی علاج کرنے سے اس لئے انکار کئے تھے کہ اس خاتون نے پہلی ڈیلیوری کیس میں ڈاکٹرز بمع نرس کی حد سے بڑھی لاپرواہی کی شکایت کی تھی.اس وقت متاثرہ خاتون کے حوالے سے ان کے تبصرے اس قدر گرے ہوئے تھے کہ کسی معقول اور مہذب انسان سے اس کی توقع رکھنا ظلم عظیم ہے..کیا یہ ایک کیس ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس طرح کے سینکڑوں واقعات آئے روز ہسپتال میں جنم لیتے ہیں.لوگ روا روی میں اپنے ہونٹ سی لیتے ہیں اور دل پر جبر کرکے ان ترش رویوں سے صرف نظر کرکے اپنے جذبات پہ ہی چھری چلاتے ہیں.
زچہ و بچہ وارڈ میں خواتین کے ساتھ اس قدر بہیمانہ سلوک ہوتے ہیں کہ سن کر دل ڈوبنے لگتاہے..یہاں تک بعض خواتین کو مار پڑتے بھی سنا گیا ہے..اس پر ان کے دل شکن جھڑکیں مستزاد سمجھ لیں..ایک ایسے وقت میں جب احتیاط کی اشد ضرورت ہوتی ہے یہ اسٹاف انتہائی عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں.ان کو اپنے اوقات کار کے ختم ہونے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ بچہ کو رحم مادر سے بے رحم انداز میں کھینچنے کی نوبت تک لے جاتے ہیں..
یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ ڈیلیوری کے وقت عورتوں کے پیٹ پر اپنے گھٹنے رکھ کر دبایا جاتاہے..تاکہ جلدی جان چھوٹ جائے..
پچھلے جمعہ کو میری بھتیجی "ارفع زریاب” کی پیدائش ہوئی تھی اور اس جمعہ تک وہ تڑپ کر بے وقت کی موت مری ہے.اس کی پیدائش میں وہ لاپرواہی برتی گئی کہ پورا ایک ہفتہ اس بےچاری کو سخت تکلیف جھیلنی پڑی.پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ماہر اطفال ڈاکٹر نے ہمارے سامنے اس معصوم بچی کے حوالے سے متعلقہ ڈاکٹرز اور نرسوں کے طریقہ علاج اور مریض کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر ذمہ درانہ رویوں کا بھیانک انکشاف کیا کہ میرا دماغ اب بھی سن ہے
میڈیکل جتنی جدید ہوچکی ہے ہمارے چترال میں اس کا تصور کرنا اس شعبہ کے ساتھ مذاق ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ انسانی جان کی حرمت کو پامال کرتے جائیں.آپ کا یہ تجرباتی سلسلہ کب تک چلے گا!!.کب تک مائیں،بہنیں،بیٹیاں آپ کے تجربات کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی.مجھے گلہ ان لوگوں سے ہے جو یہ سب کچھ ہوتا دیکھتے ہیں مگر تماشہ پر اکتفا کرتے ہیں.مجھے گلہ ہے ایم ایس سےکہ شکایت کرنے پر اس کے کان میں جون تک نہیں رینگتی.مجھے گلہ ہے ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے وہ یہ سب کچھ ہوتا دیکھتاہے مگر ٹس سے مس نہیں ہوتا.مجھے گلہ ہے صوبائی حکومت سے کہ وہ اس طبقہ کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہی.مجھے گلہ ہےمحکمہ صحت کی یونین سے وہ
یہ بچہ جب قیامت کے دن کھڑی ہوگی اور کہے گی "بِاَئیِ ذَنبٍ قُتِلَت” تو آپ سب کیا جواب دیں گے.کیا خدا کی پکڑ سے آپ بچ جائیں گے؟.کیا آپ اللہ کی باز پرس کو سہارنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
 اس ایک شکایت پہ جس پر ایک دن کے لئے..!!جی ہاں،صرف ایک دن کے لئے ان لاڈلی ڈاکٹر اور نرسوں کو ایم ایس کی گوشمالی کا سامنا کرنا پڑا تھا..قارئین..صوبائی حکومت کی صحت کے محکمہ میں اصلاحات کا دعوی ایک بلبلہ ہی ہے آپ ایک دفعہ ذرا ہسپتال کے اندرونی نظام پر نظر ڈالیں تو یہ اصلاحات اپنی وقعت خود بخود کھو دیں گے.ہم گزارش کرتے ہیں کہ ڈاکٹری کے ساتھ ساتھ ان کو مریضوں سے تمیز سے بات کرنے اور تمیز سے پیش آنے کے کورس بھی کرائے جائیں
ان تمام المیوں کا حل موجود ہے.اس پر عمل کرنے سے انسانی جانوں کی ضیاع روکی جاسکتی ہے
پہلا یہ کہ لیبر روم میں اسپیشلسٹ ڈاکٹر کی تعیناتی کو یقینی بنائیں.اور نرس بھی پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ہو
دوسرا یہ کہ لیبر رم میں صفائی کا خاص خیال رکھنا چاھئے.اس کے حوالے سے کافی شکایتیں ہیں. اور کچھ کیسز میں اس پر توجہ نہ دینے سے بچوں میں وائرس منتقل ہونے کی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہیں.حتی کہ میری بھتیجی کے ساتھ یہی معاملہ دہرایا گیا
تیسرا یہ کہ ہر ڈاکٹر کو اپنے متعلقہ فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کرنے کا پابند کیا جائے.جدید طریقہ علاج اور ادویات سازی کے متعلق ورکشاب کا انعقاد ہو اور تمام ڈاکٹر اس میں شرکت کا پابند ہو
چوتھا یہ کہ ایسی بااختیار یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے جو ان چیزوں پر کڑی نظر رکھے اور بھرپور کاروائی کا بھی مجاز ہو
مسیحائی کے شعبہ کو مزید بدنام ہونے سے بچانا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے..دیکھتے ہیں کہ حکومت ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی ہے یا ان کا قبلہ درست کرتی ہے.پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے