شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال شہر میں سکول کی طالبہ نے کیبل کار سے دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر خودکُشی کی کوشش کی

چترال شہر میں سکول کی طالبہ نے کیبل کار سے دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر خودکُشی کی کوشش کی

چترال ( محکم الدین ) چترال شہر میں سکول کی طالبہ نے کیبل کار سے دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر خودکُشی کی کوشش کی ۔ لیکن سکول کے چوکیدار اور ایک نوجوان نے جان پر کھیل کر اُسے ناکام بنا دیا ۔ طالبہ کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں داخل کر دیا گیا ہے ۔ جہاں اُس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح دنین چترال سے تعلق رکھنے والی آٹھویں جماعت کی طالبہ ذائبہ سید دُختر (ر) صوبیدار سیدالرحمن سکول جانے کیلئے گھر سے نکلی ۔ اور راستے میں سکول جانے کی بجائے اُلٹ راستے کا انتخاب کیا اور دنین میں کوسٹر اڈہ کے پاس لگائے گئے کیبل کار میں بیٹھ کر پہلے دریاء عبور کی اور واپس جاتے ہوئے کیبل کار سے دریاء میں چھلانگ لگائی اور خود کُشی کی کوشش کی ۔ تاہم طالبہ کے سکول کے چوکیدار اکبر نبی نے ایک اور نوجوان کی مدد سے جان پر کھیل کر اُسے بچا نے میں کامیاب ہو گئے ۔ طالبہ ذائبہ کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کے آئی سی یو میں داخل کردیا گیا ہے ۔ جہاں اُن کا علاج جارہی ہے ۔ ہسپتال کے ڈاکٹر اسرارالدین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا۔ کہ بچی کو فوری طور پر علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ اور وہ اب خطرے سے باہر ہے ۔ انہوں کہا ۔ کہ یہ اچھی بات ہے ۔ کہ چھلانگ لگانے کے باوجود بچی کو چوٹیں نہیں آئی ہیں ،تاہم پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ٹھنڈ کے باعث ابتدائی طور پر اُن کی حالت بہت خراب تھی ۔ جبکہ علاج کے بعد اُس کی حالت بہت بہتر ہو چکی ہے ۔ بچی کے والد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کو مسترد کیا ۔ کہ گھریلو نا چاقی یا کسی تشدد کی وجہ سے یہ واقع پیش ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بچی ذہنی مریضہ ہیں ۔ جس پر اس قسم کا اثر ایک مرتبہ پہلے بھی ہوا تھا ۔ اور اب کے بار بھی خودکُشی کی یہ کو شش ذہنی تناؤ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ معمول کے مطابق اپنی سکول یونیفارم میں گھر سے نکلی ،لیکن راستے میں انہوں نے خود کُشی کا ارتکاب کیا ۔ جس میں خدا کے فضل سے وہ کامیاب نہ ہو سکی ۔ چترال میں جوانسال لڑکیوں کی خودکُشی کے واقعات تشویشناک صورت اختیار کر گئے ہیں ۔ جس کے تدارک کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کی شدید ضرورت ہے

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے