شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / بسم اللہ کا سفر۔۔۔

بسم اللہ کا سفر۔۔۔

االلہ رب العزت نے ہمیں بہت سی بے مثال چیزوں سے مالا مال کیاہے ان میں سے سب سے بڑی اہمیت رکھنے والی چیزبسم اللہ ہے ۔ یہ ایک عظیم کلمہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے برکات سے زندگی کے ہر حصے میں کامیابی اپنے آپ چل کے آتی ہے۔اس کلمے کے ذریعے سے اللہ رب العزت نے ہمارے روز مرہ کے کام اپنے برکات سے نوازرہا ہے۔اس کلمے میں ایک بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ اس آیت کے ذریعے سے اللہ کی غیبی مدد حاصل ہوتی ہے۔یہ آیت اس قدر طاقتور ہے کہ عام انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے ۔دیکھا جائے تو ہمارے پاس اس عظیم آیت جیسی قوت و طاقت ہونے کے باوجود اگر پھر بھی ہم مایوس ہوتے ہیں تو یہ ہمارے لیے بہت افسوس کی بات ہے۔نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جوکسی اور نبی پر سوائے حضرت سلیمان علیہ السلام کے نہیں اتری اور وہ آیت بسم اللہ ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تواس دنیا نے عجیب قسم کی تبدیلی اختیار کی بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے ہوائیں ساکن ہو گئیں سمندر ٹھر گیا اور جانوروں نے کان لگالیے شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے ۔پروردگار عالم نے اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرایہ نام لیا جائے گا۔اس میں ضرور برکت عطا ہوگی اس لیے ہمیں چاہے کہ ہم اپنے ہر کام کا آغاز بسم اللہ سے شروع کریں ۔تاکہ اس عظیم اوربابرکت کلمے سے ہمیں فائدہ ہو سکے اس لیے ہمیں چاہیے کہ خیر کو حاصل کیا جائے اورشر سے بچا جائے ۔دیکھا جائے تو روز مرہ زندگی میں اس کو ہمیں فرض عین سمجھ کر پڑھنا چاہے ۔کیونکہ اس کلمے سے شیاطین دور ہوجاتے ہیں دوسرا اس کلمے کی برکات سے ہم خود بھی مستفید ررہیں گے۔ ہمارے پیغمبر ﷺ نے بڑی تاکید کی ہے کہ جس کھانے میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے وہ کھانا شیطان کے لیے حلال ہو جاتا ہے ( مسلم شریف )
یعنی بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں شیطان اس شخص کے کھانے میں شریک ہو جاتی ہے۔آ ج ہم اس معاشرے میں رہ کر اپنے آپ کو دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا ۔کہ ہم نے اپنے ہر کام اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کلمے کو شامل حال کیا ہے کہ نہیں؟ بسم اللہ کی برکات سے علم ، ہدایت اور زندگی کی دلیل ہے بعض دفعہ اس کلمے کا فائدہ اولاد پر بھی ہوتی ہے ۔امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر میں کچھ یو ں لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عیسٰی ؑ کا گزر ایک قبر ستان سے ہوا جس میں میت بہت ہی بھیانک عذاب میں مبتلا تھا۔اور جب آپ ؑ کاپھر وہاں سے گزر ہوا تودیکھا تو حیران و ششدر رہ گئے کہ قبر میں میں رحمت کے فرشتے ہیں ۔قبر میں عذاب اور تاریکی کے بجائے وہاں مغفرت کا نور اور روشنی ہے۔ حضرت عیسٰی ؑ کو تعجب ہو ا اور اللہ رب العزت سے اس واقعے کی حقیقت کو آشکا ر کرنے کی درخواست ہوئی۔تو اللہ رب العزت نے اپنے پیغمبر کی جانب وحی بھیجی ۔کہ یہ بندہ بہت گناہگار تھا جس کی وجہ سے یہ عذاب میں مبتلا تھا مرتے وقت اس کی بیوی امید سے تھی اس کا بچہ پیدا ہوا اور جب بچہ بڑا ہوا تو اس کو ان کی ماں نے مکتب میں داخل کرادیا ۔اس مکتب میں اس کے استاد نے سب سے پہلے بسم اللہ سیکھائی تب مجھے اپنے بندے سے حیا آئی کہ میں زمین کے اندر سے اسے عذاب دیتا ہوں جبکہ اس کا بیٹا زمین کے اوپر میرا نام لیتا ہے ۔
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمیں اپنے زندگی کے ہر حصے میں اس عظیم کلمے کو جوڑنا چاہیےے یہ سفر جو بسم اللہ کا ہے ۔اس طریقے سے ہونا چاہئے جو کہ ہمیں برکات کے ساتھ ساتھ ہمیں حق کی طرف لے جاتی ہے ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس بادشاہ نے عمر فاروق کے نام ایک خط بھیجا خط میں لکھا تھا کہ میرے سر میں بہت درد رہتا ہے کوئی علاج بتائیں ۔حضرت عمر فاروق نے اس کے پاس اپنی ٹوپی بھیجی کہ اسے اپنے سر پر رکھا کرو سر کا درد جاتا رہے گا۔چنانچہ بادشاہ جب ٹوپی سر پر رکھتا تو درد فورا ختم ہو جاتا اور اگر ٹوپی اتارتا تو درد لوٹ آتا ۔بادشاہ کو تعجب ہوا کہ اس ٹوپی میں ایسی کیا چیز ایسی ہے کہ اس کو پہننے سے درد ختم ہو جاتا ہے ؟ تو بادشاہ نے اس ٹوپی کو چیری تو اس کے اندر ایک کاغذ کا تکڑا پایا جس میں بسم اللہ پورا لکھا ہوا تھا ۔یہ بادشاہ کے دل میں گھر کر گئی ۔کہنے لگا دین اسلام کس قدر معزز ہے اور اس کی تو ایک ایک آیت میں باعث شفا ء ہے ۔
بسم اللہ کا سفر ۔۔۔کے بارے میں جتنا لکھوں گا کم ہے کیونکہ میرے ہاتھ اور قلم جواب دینگے مگر پوری زندگی بھی اس عظیم کلمے کے بارے میں لکھنا چاہے تو نہ یہ سفر ختم ہوگی اور نہ ہی اس کے بارے سوچ ۔۔۔کیونکہ اس کلمے سے بہت سے زندگی کے مشکلات تک کا حل موجود ہے ۔اللہ رب العزت ہم سب کو اس کلمے کو ہر وقت ہر لمحہ زبان زد عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Facebook Comments