شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / انصاف کے دعویدار حکومت میں پانچ بچوں کی ماں نوکری سے محروم۔ شوہر دل کا مریض ہے۔ پانچ بچے فاقہ کشی کا شکار۔

انصاف کے دعویدار حکومت میں پانچ بچوں کی ماں نوکری سے محروم۔ شوہر دل کا مریض ہے۔ پانچ بچے فاقہ کشی کا شکار۔

چترال(نمائندہ خصوصی) چترال کے مضافاتی علاقے فیض آباد سے تعلق رکھنے والی پانچ بچوں کی ماں نصیرہ شیرین کا کہنا ہے کہ سمال انڈسٹریز ڈیویلپمنٹ بورڈ کے زیر نگرانی چلنے والے ایمبرائڈری اینڈ نیٹنگ سنٹر میں 23 جنوری 2007 کو بطور لیڈی سپروائزر بھرتی ہوئی۔ اس کے ساتھ عیدہ بی بی بطور انچارج اسی مرکز میں کام کررہی تھی۔ ان دونوں کو 30 اگست 2016 کو ایک ماہ نوٹس دینے کے بعد نوکری سے فارغ کئے گئے۔ اسی سال ان حالی آسامیوں کیلئے اخبار میں اشتہار آیا۔ نصیرہ شیرین کا کہنا ہے کہ میں نے دوبارہ اسی آسامی کیلئے ٹیسٹ دیا مگر پتہ چلا کہ میری جگہ 100 کلومیٹر دور بونی گول سے ایک بااثر حاندان کی خاتون کو نوکری دلوائی گئی۔

نصیرہ شیرین کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر دل کا مریض ہے اور پانچ بچوں کی واحد کفیل وہ خود تھی جسے نوکری سے محروم کیا گیا۔ اس سلسلے میں جب سنٹر کے انچارج عیدہ بی بی سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی تصدیق کرلی کہ نصیرہ شیرین ان کے ساتھ اکھٹا کام کررہی تھی دونوں کو ایک وقت میں فارغ کیا گیا تھا مگر وہ خود حیران ہے کہ اسے دوبارہ کیوں نہیں لی گئی۔ اس کی جگہ صحت بی بی کو بھرتی کی گئی جن کا تعلق بونی سے ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ شائد صحت بی بی کی کوالیفائشن زیادہ ہونے کی بنیاد پر نوکری بحال کی گئی۔

صحت بی بی سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ میں نے بی اے درس نظامی میں پاس کی ہے اور میرا تعلق بونی سے ہے۔

نصیرہ شیرین کا کہنا ہے کہ اس کا گھر اس مرکز کے بالکل قریب ہے جہاں وہ بیس لڑکیوں کو سلائی کڑھائی وغیرہ سکھاتی تھی جبکہ صحت بی بی کا گھر بالائی چترال بونی میں ہے مگر ان کا تعلق ایک با اثر سیاسی حاندان سے ہے ۔

نصیرہ شیرین نے وزیر اعلےٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک اور سمال انڈسٹریز ڈیویلپمنٹ بورڈ کے ارباب احتیار سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک غریب عورت ہے شوہر دل کا مریض ہے اور پانچ بچوں کا وہ واحد کفیل ہے ان کو چترال مرکز میں دوباری اسی پوسٹ پر تعینات کی جائے جبکہ صحت بی بی کا تعلق بونی سے ہے تو ان کو بونی مرکز میں نوکری دی جائے تاکہ ان کو آنے جانے میں کوئی مشکلات کا سامنا نہ ہو اور میرے بچے بھی فاقہ کشی سے بچ سکے۔

Facebook Comments