شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / دروش بس اڈہ کو باہر منتقل کرنے پر عوام سراپا احتجاج۔ انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی،پرانا اڈہ برقرار رکھنے کا مطالبہ

دروش بس اڈہ کو باہر منتقل کرنے پر عوام سراپا احتجاج۔ انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی،پرانا اڈہ برقرار رکھنے کا مطالبہ

چترال(نمائندہ چترال آفیئرز)دروش میں علاقے کے عوام اس وقت سڑکوں پر نکل آئے جب مقامی انتظامیہ کے حکم پر دروش پولیس نے ڈرائیوروں (ٹرانسپورٹرز) کوزبردستی اڈہ بند کروایا اور ان گاڑیوں کو شہر سے دور ایک جگہ منتقل کرنے کی کوشش کی۔

اڈہ کے منشی گلزار ولی شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ دروش کا تحصیلدار پولیس لیکر آیا اور گاڑی مالکان کو حکم دیا وہ گاڑی یہاں سے نکالے۔ تھانہ دروش پولیس کے ساتھ ٹریفک پولیس بھی ساتھ تھی اور ہمیں ڈرایا کہ اگر گاڑی نہیں نکالوں گے تو پہلے چھ چھ سو روپے جرمانے کا پرچہ دیں گے پھر دو، دو ہزار روپے جرمانہ اور تین ماہ قید بھی ہوں گا۔سماجی کارکن اور جے یو آئی کے سیاسی رہنما صلاح الدین طوفان نے کہا کہ نیا اڈہ ہسپتال، عدالت، تھانہ، کچہری اور شہر سے بہت دور ہے یہاں آ نے جانے میں تین سو روپے لگتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ شاید اس میں کسی کا ہاتھ ہو کیونکہ یہ تو مارکیٹ ہے اڈہ نہیں ہے۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ نئے اڈہ کے قریب ایک بہت بڑا مارکیٹ حال ہی میں بنایا گیا ہے جن کا مالک بہت بااثر شحص ہے جنہوں نے لاکھوں روپے بھتہ دیکر انتظامیہ کو خوش کیا اور ان کے کہنے پر اڈہ اس کے مارکیٹ کے پاس منتقل ہوا تاکہ ان کا مارکیٹ چل پڑے۔ مقامی لوگوں نے اس موقع پر کہا کہ جب اڈہ اس مارکیٹ کے پاس منتقل ہوا تو پہلے دن مالک نے کرایہ دار سے دو، دو لاکھ روپے ایڈوانس لیکر دکانیں کرایہ پر چڑھائے۔
واضح رہے کہ چترال میں بھی تحصیل میونسپل انتظامیہ نے دنین کے مقام پر کروڑوں روپے کی زمیں اڈہ بنا یا تھا جو کافی عرصے سے بے کار پڑی ہے کیونکہ دنین جانے کیلئے ٹیکسی کو تین سو روپے مزید ادائیگی کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اڈہ ناکام ہوا اور اب بونی کے مقام پر بالائی چترال کا اڈہ ہے جبکہ دروش وغیرہ کیلئے اتالیق بازار میں اڈہ قائم کیا گیا ہے۔
دروش کے عوام نے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ ضلعی اور میونسپل انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دروش کا اڈہ اپنی جگہ قائم رہنے دے کیونکہ وہاں عوام کو بھی سہولت ہے اور ٹریفک کے نظام میں بھی کوئی خلل نہیں پڑتا جبکہ نیا اڈہ شہر سے دور ہے۔

Facebook Comments