شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اے کے ڈی این کی کارکردگی ایک تنقیدی جائزہ

اے کے ڈی این کی کارکردگی ایک تنقیدی جائزہ

چترال کی تعمیر وترقی اور جدیت پسندی میں آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ یہاں کے دور افتادہ پسماندہ علاقوں کو چھوڑے نسبتا شہری علاقوں میں بھی بنیادی انسانی ضروریات ناپید تھی آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے مختلف ذیلی اداروں نے وادی کے دورافتادہ علاقوں کی ترقی کی جانب توجہ دی یہاں صحت وتعلیم کے مراکز قائم کئے ، سڑکین تعمیر بنائی ۔چترال بالخصوص دوردراز کے علاقوں میں پولیو اور گلہڑ کی بیماری کے خاتمے میں اے کے ایچ ایس پی کا کلیدی کردار ہے، تعمیراتی کاموں میں اے کے آر ایس پی نمایاں نظر آتے ہیں ۔ دور دراز پسماندہ وادیوں میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے لوگوں کو روشناس کرانے والا بھی اے کے ڈی این ہی تھے۔ صاف پانی سے لے کر ٹائلٹ کی سہولیات کی فراہمی تک انہی اداروں کے مرہون منت ہے ۔چترال کے طول وعرض میں کئی بے آب وگیاہ بنجر زمینوں کو آباد اور سر سبز وشاداب بنایاگیا ۔اپنے آغاز میں جہاں اے کے ڈی این نے چترال کی تعمیر وترقی میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں ،وہیں نا تجربہ کاری اور مس منیجمنٹ کی وجہ سے بیسیوں منصوبے ناکامی سے دوچار ہوئے ، جو یقینا ان اداروں میں بیٹھے نااہل افراد کی ناقص منصوبہ بندی اور حقائق سے عدم واقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان منصوبوں میں اگر میں غلط نہیں تو نہر اتھک، نہر شیپھی شون، پرکوسپ کے لئے کھوژ اورکھوتان لشٹ کے لئے نکالی جانے والی نہریں خاصے مشہور ہے ۔ بونی کے اوپر واقع بیابان شیپھی شون کے لئے نہر سازی کے دوران کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن کروڑوں روپے کے خرچ سے بننے والا یہ منصوبہ ناکام رہا جو غلط منصوبہ بندی کا شاخسانہ ہے ۔اسی طرح ہر گاؤں کی سطح پر اکثر منصوبے ناکامی سے دوچار ہوئے ۔ دسیوں بجلی گھر وں ، بیسیوں پائپ لائین کے منصوبے ناکام رہے ۔ ان سب کی بنیادی وجہ اداروں کے عہدے داروں کی غلط منصوبہ بندی اور مالی امور میں ہیرا پھیر ی تھیں ، یا پھر ان منصوبوں کی پراپر نگہبانی نہ ہونے کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئے۔ یہی نہیں اے کے ڈی این کے اداروں نے کمیونٹی موبلائزیشن کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے نتیجہ صفر سے آگے نہ بڑھ سکے ۔چترال کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں آغاخان ہیلتھ سروس کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔ کراچی اور گلگت سے چترال آکر خدمات سرانجام دینے والے ہیڈی ہیلتھ ورکرز اور نرسز خراج تحسین کے مستحق ہے،جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں چترالیوں کی بے لوث خدمات سرانجام دی ۔ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اے کے ایچ ایس پی بھی روایتی ہیرا پھیر ی کا شکار ہوگئی ۔ ادارے کے عہدے داران اپنی شاندار ماضی کو بھول کر مال بنانے میں مصروف ہیں ۔ اے کے ای ایس پی کی بات کی جائے تو خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے میں اسی ادارے نے نمایاں کردارادا کیا۔ اے کے ای ایس پی کے سکولوں سے فارع التحصیل طالب علموں کی اکثریت ماسوائے نرسنگ کے کوئی اور نمایاں پوزیشن حاصل نہ کرسکیں ۔ گو کہ نرسنگ ایک قابل عزت پیشہ ہے ۔لیکن اے کے ای ایس نے اپنے سکولوں میں وہ معیار فراہم نہ کر سکے جس سے طالب علم ڈاکٹری سمیت دیگر اعلی شعبوں میں جاسکے ۔ تبھی تو چترال میں گائنی کالوجسٹ کا شدید بحران ہے جبکہ جنرل فزیشن اور سرجیکل فیلڈ میں بھی ہمارے خواتین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔
آج اے کے آر ایس پی سمیت بہت سارے ادارے چند خاندانوں کی ملکیت بنی ہوئی ہیں ۔ جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد روز بروز ان اداروں سے اٹھتا جارہا ہے ۔ اے کے آر ایس پی نے تین برس قبل صوبائی حکومت سے پچپن بجلی گھروں کی تعمیر کا ٹھیکہ لیا تھا جن کو 18ماہ میں مکمل ہونی تھی لیکن تین برس گزرنے کے باؤجود ان میں سے نصف کے قریب بجلی گھر بھی مکمل نہ ہوسکے ۔ جس سے نہ صرف اے کے آر ایس پی کا امیج بری طرح مجروح ہوا بلکہ اس ناکامی کی وجہ سے خطے میں بجلی کا بحران روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے ۔
آج اگر کہیں ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان کے ویژن اور اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو مراعات یافتہ طبقہ منہ کھولے فتووں کے انتظار میں رہتے ہیں یا سماجی بلیک میلنگ پر اتر آتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان نے جس ویژن کے تحت اداروں کا قیام عمل میں لایا تھا ،اگرہنزہ میں اس ویژن کے مطابق کام ہورہا ہے تو چترال پہنچ کر اس ویژن کو کیا ہوگیا ہے؟

Facebook Comments