شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چند دن ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں

چند دن ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں

پچھلے دنوں چھوٹے بھائی کے اپنڈکس اپریشن کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ھسپتال میں کچھ دن گزارنے کا اتفاق ھوا۔اس سے پہلے بھی مختلف اوقات میں وھاں انا جانا تو لگا رھتا ھے۔ فیسبکی دنیا سے یکسر مختلف وھاں تو سب کچھ ضابطے اور قائدے کے مطابق نظر ایا۔صفائی ستھرائی سے لے کر دوسرے انتظامی امور تک میں کوئی خامی نظر نہیں ائی۔زیر علاج مریض اور ان کے ورثاء سٹاف کے مشفقانہ روئیے سے مطمئن اور مفت دواوں کی فراھمی پر انتھائی خوش تھے۔ حسن اتفاق یہ کہ اس نادر اور شاھکار ایمبولینس کو بھی قریب سے دیکھنے کا بھی موقع ملا کہ جس کے چرچے اقتدار کے ایوانوں میں بھی ھوئے تھے۔ کوئی بھی گاڑی مینوفیکچرنگ کے وقت بطور ایمبولینس تیار ھوتی اور نہ ھی کسی ایمبولنس پر لکھا ھوا ھوتا ھے کہ اس نے تمام عمر مریضوں کی منتقلی کے کام ھی اناھے۔ یہ تو ھم سب کو معلوم ھے کہ مختلف اداروں میں خاصی بہتر حالت میں گاڑیاں کباڑ بنی پڑی ھیں۔اب ھسپتال انتظامیہ کسی ناکارہ گاڑی رنگ و روغن کرکے کام میں لا رھی تھی تو ان کو شاباش دینا چائیے تھا۔ جب سے اپنے ڈی سی صاحب نے اس مسلئے پر نوٹس لیا ھے۔سبھی ھاتھ دھو کر ھسپتال انتظامیہ کے پیچھے پڑ گئے ھیں۔کسی بھی ادارے کی کارکردگی پر نظر رکھنا سر انکھوں پر لیکن سزا کے ساتھ جزا کا بھی کچھ اھتمام ھوجاے تو کسی کو امتیازی سلوک کا احساس نہیں ھوگا۔ لگے ھاتھوں یہ بھی عرض کریں ۔کہ جن دنوں اسامہ شہید اپنی ٹیم کے ساتھ راتوں کو بارہ بجے تک جاگ کر زلزلے کے متاثریں کے کام نمٹا رھے تھے۔تب بھی ان ” اینگری فیسبکی” دوستوں نے ان جیسے باکردار شخصیت کے خلاف محاذ بنالیا تھا۔دو لفظ ان کی بے مثال خدمت اور کارکردگی پر لکھنے کے بجائے الٹا نازیبا قسم کے الزامات لگارھے تھے۔ گزارش اتنی ھے کہ اداروں اور سٹاف کو دلجمعی سے اپنا کام کرنے دیا جائے،بے جا تنقید کے مثبت نتائج کبھی نہیں نکلتے۔

Facebook Comments