شہ سرخیاں
Home / اکرم خان / مشکلات کیوں درپیش ہوتے ہیں ؟

مشکلات کیوں درپیش ہوتے ہیں ؟

انسان کی فطرت ہمیشہ یہی ہے کہ وہ کسی بھی رنج و تکلیف سے دور ہوکر اور بغیر کسی مشکل کے زندگی بسر کرنے کی خواہش کرتاہے ۔نا چاہتے ہوئے بھی انسان پر بہت سی مشکلات آتے رہتے ہیں اور بے سکونی کے عالم میں انسان ناشکری پہ آتاہے اور اپنے پروردگار سے شکوہ کر گزرتا ہے ۔آج کل کے دور میں اگر دیکھا جائے تو مسلم ممالک ان مشکلات و مسائب پہ اس طرح گھیری ہوئی ہے جیسا کہ اس دنیا کی ساری مصیبتیں مسلم ممالک پر ڈالی گئی ہو۔ ظاہرسی بات ہے کہ یہ ساری مصیبتیں ہماری اپنی اعمال ہی کی وجہ سے آتی ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے جو کچھ مشکلات و مسائب انسان پر آتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہے جبکہ تمہارے بے شمار گناہواں کو ( ویسے ہی ) معاف کردیا جاتا ہے ۔(شوریٰ30 (
یہ مسئلے مسائل جو کچھ بھی ہیں انسان ہی کے اعمال کی وجہ سے ہیں۔اس میں کیا فرق ہونا چاہیے کیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے اعمال کی وجہ سے ہمیں آزمائش میں ڈالا ہوا ہے یا ہم اس کے عذاب میں مبتلا ہیں؟ بات تو ایک ہی ہے ۔آج امت مسلمہ کے حالات زار سے ایک بات واضح ہے ۔کہ ہم سب اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوچکے ہیں۔اور ا س سے بچاؤکا طریقہ واضح ہے کہ ہم سب (مسلم امہ ) توبہ استغفار کرکے اپنے پروردگار کے حضور میں سجدہ ریز ہو کر اپنے کیے ہوئے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے نہ تو اس دنیا میں ہم سرخرو ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں ۔اگردیکھا جائے تو مسلم ممالک کے حالات اس قدر بدترین ہوتے جا رہے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسلم ممالک میں غیر مسلم ممالک کے مداخلت جبرا مارپیٹ حتی کہ عورت اور بچوں کے ساتھ ظلم و نا انصافی ہی نظر آتے ہیں۔وجہ یہی ہے ہم اپنے اللہ کو بھول بیٹھے ہیں ۔اور اس کے نبیْ ﷺ کے سنت کو اپنانے کے بجائے اس سے دور ہوتے نظر آتے ہیں۔اور یہ ہمارے لیے باعث ناکامی کا سبب ہے ۔ مسلم امہ کو دعوت و تبلیغ و اصلاح کا فریضۃ ادا کرنا ہوگا ورنہ ہم ان گنہگاروں کی طرح اللہ کے سخت عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو پھر بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں رہتا لہذا امت مسلمہ کو اللہ کے عذاب سے ہمیشہ درنا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ اپنے کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں ۔بچو اس فتنے سے جس کی شامت خاص کر انہی لوگوں تک نہیں رہی گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہوں ۔اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔
ہم (امت مسلم ) معاشرہ دین سے اللہ اور سیرت مصطفیٰ سے بیگانگی کی بھیانک تصویر بن چکا ہے ۔نمازی دوکاندار کی تجارت اسلامی نہیں حاجی دوکاندار بے رحمی و قساوت میں مشہور ہیں۔غیر محقق صحافی سے روح علم تڑپتی ہے اور واعظ کا ہمسایہ اس سے تنگ ہے ۔الغرض ہم دین و دنیا کے دو الگ الگ خانے بنا کر وقعت اور بے خانماں ہو چکے ہیں ۔
یہ بات واضح ہے کہ امت مسلمہ کو آج کل جتنے بھی مسائل درپیش ہوتے ہیں ۔ ان سے بچاؤ کا واحد ذریعہ اللہ کا خوشنودی حاصل کر نا ہے اور اسے کے آخری نبی الزماںْ ﷺ کے دیئے ہوئے انمول باتوں کو ذہین نشین کرکے اس کے طریقے سے اس دنیا میں زندگی بسر کرنی چاہیے تب ہی ہم ( امت مسلمہ) ان تمام مشکلات ومسائب سے دور ہو سکتے ہیں۔۔۔

Facebook Comments