شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / بروز میں محکمہ واپڈا ٹرانسمیشن لائن کیلئے تین ہزار سے زیادہ کامیاب درختوں کو کاٹ رہے ہیں

بروز میں محکمہ واپڈا ٹرانسمیشن لائن کیلئے تین ہزار سے زیادہ کامیاب درختوں کو کاٹ رہے ہیں

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے مضافاتی علاقے بروز میں محکمہ واپڈا ٹرانسمیشن لائن کیلئے تین ہزار سے زیادہ کامیاب درختوں کو کاٹ رہے ہیں ان درختوں میں اخروٹ، ناشپاتی اور شاہ بلوط کے نایاب قسم کے درخت بھی شامل ہیں۔
میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے بروز کے رہائشی نصرت آزاد، سہراب خان، انجینئر فخر اعظم وغیرہ نے بتایا کہ واپڈا کی مین ٹرانسمیشن لائن کے نیچے تین خاندانوں کی ذاتی جنگلات اور زرعی زمین بُی طرح متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین نے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے ان کی حق میں فیصلہ دیا تھا مگر اس پر نہ تو ضلعی انتظامیہ عمل درآمد کرتی ہے نہ واپڈا حکام۔

انہوں نے کہا کہ سروے ٹیم نے صرف ٹھیکہ ڈار کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنجر زمین ، دریا کا کنارا اور پہاڑی علاقوں کو چھوڑ کر جان بوجھ کر زرعی زمین کے اوپر سے لائن گزار رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس متبادل کے طور پر بنجر زمین بھی پڑی ہے اور دریا کے کنارے کافی غیر آباد اراضی بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کررہی ہیں کہ وہ صوبے میں اربوں کی تعداد میں نئے پودے لگار ہے ہیں جبکہ دوسری طرف بروز اور چترال کے دیگر مقامات پر تیار درخت کاٹے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف بروز ہی میں 3600 درخت کاٹے جارہے ہیں جن میں شاہ بلوط جیسے سدا بہار نایاب قسم کے درختوں کے علاوہ اخروٹ، ناشپاتی ، سیب اور دیگر پھلدار درخت بھی موجود ہیں۔
اس سلسلے میں جب چیف کنزرویٹر محکمہ جنگلات مشتاق احمد، ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرلی کہ صوبائی حکومت نے اخروٹ کی درخت کاٹنے پر پابندی لگائی ہے اور جب کسی کی ذاتی زمین میں بھی اخروٹ کا درخت کھڑا ہو اور اس میں کوئی بیماری موجود ہو تو اس کے کاٹنے سے پہلے ڈائریکٹر زراعت کو تحریری درخواست دینا پڑے گا اس کے بعد ڈویژنل فارسٹ آفیسر اس کی خود ہی معائنہ کرکے تصدیق کرے گا کہ واقعی میں وہ درخت بوسیدہ حالت میں ہے یاخراب ہے تو پھر NOC جاری کرے گا اس کے بعد اس درخت کو کاٹا جاسکتا ہے ۔ان کے کہنے پر سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر محمد یوسف فوری طور پر متاثرہ جگہ پہنچ گئے جہاں ہزاروں کی تعداد میں سینکڑوں سال پرانے شاہ بلوط کے نایاب درختوں کے علاوہ اخروٹ کے بھی تین سو درخت کاٹے جارہے ہیں۔
ڈویژنل فارسٹ آفیسر محمد یوسف نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ بطور فارسٹ آفیسر ان کو یہ دیکھ کر بہت دُکھ ہوا کہ یہاں کافی تیار اور کامیاب درخت کاٹے جارہے ہیں مگر چونکہ یہ واپڈا کی لائن کیلئے کاٹے جارہے ہیں جس میں محکمہ جنگلات کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
گولین گول پراجیکٹ واپڈا کے ریذیڈنٹ انجینئر سردار بہادر سے بھی اس سلسلے میں واپڈا کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے اس سلسلے میں کوئی رائے دینے سے معذرت کرلی اور کہا کہ وہ واپڈا کی پالیسی میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا ہے۔
قانونی ماہرین سے بھی رائے لی گئی جن کا کہنا تھا کہ واپڈا ایکٹ کے تحت عام لوگوں کا کم سے کم نقصان ہونا چاہئے اور ان کو معاوضہ بھی دینا چاہئے۔ناصر آزاداور سردار نعیم نے بتایا کہ ان کے خاندان نے حاصل خان ولد توکل خان کو مفت زمین دی تھی تاکہ وہ اس میں گھر بناسکے جو نہایت غریب اور نادار شخص ہے مگر واپڈا حکام نے اس کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ اپنے گھر کے چھت سے ٹین کے چادر ہٹا کر اسے RCC یعنی کنکریٹ سے بنادے جبکہ اس کی بس سے باہر ہے۔
متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں ان کی درختوں کو بے دریغی سے کاٹنے سے روکا جائے اور وزیر اعظم پاکستان اور واپڈا کی اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے کہ ایک ہی شخص کنسلٹنٹ اور ٹھیکہ ار بھی خود ہے اور ان کو فائدہ پہنچانے کیلئے لوگوں کی کروڑوں روپے مالیت کی زرعی زمین اور تیار درختوں کو کاٹے جارہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے اوپر ہونے والے اس ظلم کو نہیں روکا گیا تو وہ راست قدم اُٹھانے اور پر تشدد احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائدہوگی۔
Facebook Comments