شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / فکری یلغار اور ہماری ذمہ داریاں

فکری یلغار اور ہماری ذمہ داریاں

حق و باطل کی کشمکش کوئی صدی دو صدی کی تاریخ نہیں رکھتی بلکہ اسکی ابتدا خلقتنی من نارو خلقتہ من طین کی بازگشت سے ہوئی ہے۔ اور اس میں کوئی کلام نہیں کہ معرکہ حق و باطل پوری آب و تاب سے تا قیامت جاری رہیگا۔اس آفاقی جنگ کے تاریخ کا ہر صفحہ جاء الحق و زھق الباطل کے نظائر سے پر ہو چکی ہے۔اور حال ہی میں بھی اہل کفر ہر محاذ پر اپنی ذلت و پسپائی و رسوائی کا رونا روتے دستیاب ہیں
ہر دور میں اُس دور کے موافق جنگی ترتیب، حربے و ہتھکنڈے ، پیش قدمی کے طرق ، دفاع اور اقدامی کے طریقے متنوع رہے ہیں ۔ بدایہً تلوار، نیزہ ، خنادق، آگ و پتھر سے محاذ آرائیان ہوتی رہیں۔ اور عصرِ نو کی جدید سائنس اورٹیکنالوجی نے آبدوزیں، جنگی جہازیں ، مشین گنیں اور کیمیائی ہتھیار متعارف کیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں ان کے توسط سے غبلہ و تسلط کی اندھی جنگیں جاری ہیں ۔ اس حقیقت سے بھلا کوئی کیسے انکار کرے کہ ہر دور میں مسلح اور منظم قوم تمام تر وسائل کے ہوتے ہوئے بھی اہلِ حق کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکی ہے ، بھلا اس قوم کو بندوق کی نوک پرکیسے شکست دی جا سکتی ہے جو سینے پہ زخم کھا کر آہ کے بجائے صدائے واہ اور اظہارِ مسرت سے دنیا کو الوداع کہتی ہے اور انکی موت کو اہل دنیا قابلِ رشک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
اہل باطل تمام تر جنگی حربوں سے مایوسی اور پے در پے شکستوں کے بعد ایک نئے گھاٹ سے اہل حق پر ضر ب لگانے کی جستجو میں ہیں ۔ جو مادی حملوں سے کہیں بڑھ کر تباہ کن اور فیصلہ کن ہے۔ دنیا اس نئے طریقہ واردات کو فکری جنگ سے تعبیر کرتی ہے۔ فکری جنگ کی اصطلاح اگر چہ سننے میں نئی ہے لیکن اسکی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ مادی جنگ اس کے مقابلے میں محض تکملیلِ شوق اور تسکینِ دل کے روپ دھار چکی ہے۔ مادی جنگ ایسی ہے کہ اس میں دشمن کی پہچان رہتی ہے ، ساتھ حملے کی نوعیت کا بھی ادراک رہتی ہے لیکن فکری جنگ میں دشمن کیا ، اپنے اور پرائے تک کی تمیز باقی نہیں رہتی ہے ۔ بس زبان و بیاں یہ بالہ بے کسی کہنے پر مجبور ہوتی ہے کہ
ًّّؔ ؂ دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپن ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
ہر زمانے کے مصلحینِ امت نے امت مسلمہ کو فکری یلغار کے خلاف نہ صرف بیدار کی ہیں بلکہ اس کا جواب دینے کیلئے بھر پور رہنمائیاں بھی بہم پہنچائی ہیں۔ وائسرائے ہند لارڈ میکالے کے تاریخی الفاظ ’ ’ہمارے نظامِ تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا جو رنگ و نسل سے ہندوستانی ہوں لیکن فکرو نظر کے لحاظ سے انگلستانی ( انگریز) ہوں‘‘ اسی سلسلے کی کڑی تھیں ۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ علمائے دیوبند نے محض قوتِ ایمانی اور اطاعت محمدی سے اس للکار کا نہ صرف جواب دیا بلکہ سامراج کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا ۔بظاہر سامراج ایشیا سے تو چلا گیا اور ہندوستان کے باسی انکے بندوقوں کے حملوں سے محفوظ ہوئے لیکن فکری میدان میں مسلمانوں پر ان کے حملے بدستور جاری ہیں بلکہ ایسے افرد کی کھیپ تیارکی گئی ہے جو شاہ سے زیاد ہ اور دن رات انکی خدمت میں مصروف ہیں اور بدستور اہل حق بھی مد مقابل سیسہ پلائی دیوار بنے ڈٹے ہیں۔
آج اہل مغرب ، جدید تعلیم ، روشن خیالی ، انسانی حقوق ، جدت و وسعت نظری کے نت نئے ناموں اور خوشکن نعروں کی آڑ میں اپنی فکری جنگ میں مکمل یکسوئی سے مصروف ہیں ۔
ایسے میں طالبانِ علومِ نبوت کے ذمہ داری بنتی ہے کہ انفرادی و اجتمای زنگیوں میں انقلابی تبدیلیوں کے ساتھ امتِ مسلمہ کو فکری یلغار سے آگاہ کریں ۔ انفرادی طور پر ایمان و یقین کی ایسے اصلاح کی ضرورت ہے کہ ہمارا ایمان نو مسلم کے ایمان کی طرح غیر متزلزل ہو اسلئے کہ فکری للکار کا مقابلہ ڈگمگاتی ایمان سے ممکن نہیں ۔خصوصاً اجتماعی طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ الموء من کجسدٍ واحدٍ اور رحماء بینہم سے لبریز معاشرہ تشکیل دی جائے۔ انا پرستی ، خود غرضی اور تعصبات کے جامے اتار کر اسلامی تشخص کے جھنڈے تلے جمع ہوکر اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلینگے تو وہ دن دور نہیں کہ باطل حسبِ سابق ناکام ہوگا اور ہر سُو حق کا بول بالا ہوگا۔

Facebook Comments