شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اُسامہ شہید کیرئیر اکیڈمی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور نقشہ راہ متعین کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ جو کہ لائق تحسین و آفرین ہے ۔مولانا عبد الشکورر ضلع نائب ناظم چترال

اُسامہ شہید کیرئیر اکیڈمی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور نقشہ راہ متعین کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ جو کہ لائق تحسین و آفرین ہے ۔مولانا عبد الشکورر ضلع نائب ناظم چترال

چترال ( محکم الدین ) انسانی ترقی کیلئے ذرائع ، رہنمائی اور ماحول کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں ۔ چترال کے طلبہ کو سابقہ ادوار کے مقابلے میں بے پناہ تعلیمی سہولیات حاصل ہیں ۔ اس لئے طلبا ء کو ان سے فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اُسامہ شہید کیرئیر اکیڈمی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور نقشہ راہ متعین کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔
جو کہ لائق تحسین و آفرین ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ضلع نائب ناظم چترال مولانا عبد الشکور نے اُسامہ اکیڈمی سے فارغ ہونے والے طلباء وطالبات میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کے موقع پر منعقدہ ایک پُر وقار تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں پروفیسر ڈگری کالج چترا ل شفیق احمد نے صدر محفل کے فرائض انجام دی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے تربیت اور رہنمائی کی پہلی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے ۔ جس کے بعد اساتذہ اور مسند حکومت پر بیٹھنے والوں کی ذمہ داری آتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کیرئیر اکیڈمی ایک طالب علم کو تراشنے ، نکھارنے اور خوابیدہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس لئے اُسامہ احمد وڑائچ شہید کیریئر اکیڈمی کی کارکردگی قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے طلبہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔ اس لئے اس کی اہمیت کو سمجھیں ، اور فائدہ اُٹھائیں ۔ انہوں نے ضلعی حکومت کی طرف سے اکیڈمی کیلئے دو لاکھ روپے کا اعلان کیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد
الاکرم نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ مسلمانوں کی بدقسمی یہ ہے ۔ کہ انہوں نے علمی اساس کی حفاظت نہیں اور پستی میں چلے گئے ، جبکہ ایک وقت ایسا بھی تھا ۔ کہ یورپ مسلمان سائنسدانوں اور سکالرز کے محتاج تھے ۔ اُس کھوئی ہوئی میراث کو پانے کیلئے مسلمانوں کو علم کی شمع سے شمع جلانے کی ضرورت ہے ۔ ممتاز ماہر تعلیم عالمگیر خان نے کہا ۔کہ زبردست محنت ، اُستاد سے قریبی تعلق اور نقشۂ راہ متعین کئے بغیر مقصد کا حصول بہت مشکل ہے ۔ طلباء کو اپنے دور کے بارے میں جاننا انتہائی لازمی ہے ۔
کہ کونسی صدی اور کس ماحول میں جی رہے ہیں ۔ اُس کے بعد ہی اُس ماحول کے مطابق تیاری کرنی پڑے گی ۔ موجودہ دور انڈسٹریل ایج اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔ اگر ہم موجودہ وقت کے مطابق تعلیم حاصل نہیں کریں گے ۔ تو زندگی گزارنی مشکل ہو جائے گی ۔ قبل ازین پروفیسر تنزیل الرحمن اور فداء الرحمن نے کیرئیر اکیڈمی کے حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر عبدالاکرم کی کو ششوں کو سراہا ، اور اکیڈمی کی ایک سالہ کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ اکیڈمی کی رہنمائی سے کئی طلبہ آغاخان یونیورسٹی ، انجینئرنگ یونیورسٹی اور کیڈٹ کالجوں میں داخلے لینے میں کامیا ب ہو گئے ہیں ۔جبکہ موجودہ سیشن میں طلبہ کو انٹر میڈیٹ کلاسز کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔ اور انگلش لینگویج کورس بھی مکمل کئے گئے ہیں ۔ صدر محفل پروفیسر شفیق احمد نے شہید اُسامہ کے وژن کو داد دی اور کہا ۔ کہ اُنہوں نے پچھلے سال ایک تقریب میں اس اکیڈمی کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ اور اُس کے کچھ دنوں بعد اس کا قیام عمل لایا ۔ جس سے آج طلباء فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی تعلیمی ترقی کیلئے اُسامہ شہید جیسے وسیع وژن اور پُر خلوص آفیسران کی ضرورت ہے ۔ اور اُن جیسے آفیسران کا نام قوم کی زبان پر رہتی دُنیا تک زندہ رہے گا ۔ تقریب میں ڈی او ایجوکیشن شہزاد ندیم بھی موجود تھے ۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ میں اسناد تقسیم کئے گئے ۔
Facebook Comments