شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ہمارا معاشرہ کس طرف جارہاہے؟

ہمارا معاشرہ کس طرف جارہاہے؟

زندگی کب پلٹتی ہے کچھ بھی اندازہ نہیں ہوتا.زندگی کے سفر میں اونچ نیچ ساتھ ساتھ چلتے ہیں.اسی زیر و بم کا نام ہی تو زندگی ہے.زندگی کے بارے میں ایک مقولہ زبان زد عام ہے کہ یہ بڑا بےرحم استاد ہے جو سیکھانے پہ آجائے تو کسی سے کوئی رعایت نہیں برتتی..کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ زندگی کے تالاب میں بڑا سکون رہتا ہے اور پھر کوئی واقعہ کوئی المیہ پتھر بن کر اس تالاب میں ارتعاش پیدا کرجاتا ہے. ہماری زندگی میں یہی زیر و بم ایک بیماری کی صورت میں آیا.زندگی اچھی خاصی جارہی تھی..کسی بیماری سے کافی عرصہ تک سامنا نہیں ہوا تھا..سچ بتاؤں تو ہسپتال کا عملہ اور معالجوں کے بارے میں ہمارے سماج میں جو منفی تاثر ابھر رہاہے اس کے حوالے سے کسی بھی ایسے تلخ تجربہ سے ابھی تک محروم تھی..یکایک صحت ایسی بگڑی کہ لگنے لگا گویا اس نے مجھے آزمانے کی ٹھان لی ہو.طبیب کو ہمارے ہاں مسیحا کہا جاتا ہے.اور سچ بھی یہی ہے کہ یہ شعبہ مسیحائی سے کم نہیں.انسان کے زخموں پر پھایا رکھنا،درد سے کسی کو نجات دلانا،زندگی کی رگوں میں تازہ خون دوڑانا..یہ کسی بھی طرح سے مسیحائی سے کم نہیں..مگر ناس ہو مادیت پرستی کی کہ اِس نے اس شعبہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیکر معالج کو اس کے مرتبہ اور مقام سے گرا دیا ہے.اور مشاہدہ بتا رہاہے کہ اس بگاڑ میں مزید شدت آئے گی. ایک دن بیٹھے بیٹھائے سر میں درد کی ایسی لہر اٹھی.لگنے لگا کہ کھوپڑی میں سیسہ پگھلا کے ڈالا گیا ہو اور وہ اُبل کے باہر آنا چاھتا ہے..اسی کیفیت میں پتہ ہی نہیں چلا کہ کب بے ہوش ہوئی..ہوش میں آتے آتے کافی لمحہ بیت چکا ہوگا کیونکہ جب آنکھ کُھلی تو میں نے خود کو ہسپتال کے بیڈ میں پایا..آنکھیں سر درد کی وجہ سے بوجھل ہوئی جارہی تھیں اس لئے کچھ لمحہ تک سمجھ نہیں آئی کہ میں کہاں ہوں..تھکاؤٹ سے بدن کا انگ انگ جیسے ٹوٹ گیا تھا..سستانے کی غرض سے پاؤں پھیلایا ہی تھا کہ ساتھ میں کسی دوسرے کی موجودگی کا احساس ہوا..اب جو منظر تھا وہ یوں تھا کہ ایک ہی بیڈ میں تین تین مریض لٹائے اور بیٹھائے گئے تھے..وارڈ میں تمام بیڈز کا تقریباً یہی حال تھا.دو چار ایسے مریض بھی نظر آئے جن کو کرسی اور بینچ پر بیٹھا کر ڈرپ لگایا گیا تھا.میری عجیب حالت ہورہی تھی اور اوپر سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھ کر مزید طبعیت خراب ہوگئی..ستم بلائے ستم یہ کہ ابھی تک میں میرے پاس کوئی نہیں آیا تھا..سفید یونیفارم میں ملبوس ہماری بہنیں ایکدوسرے کے کپڑوں اور موبائل پر لٹّو ہوئی جارہی تھیں..میری سیہلیوں کے احتجاج پر ان کے جواب نے مزید مایوس کیا..وہ جلی کٹی سناتے ہوئے کوسنے لگی کہ ہم مشین تھوڑی ہیں جو پلک جھپکنے میں ہر کام نمٹائیں.ڈاکٹر کو آنے دو وہ آکر دیکھ لے گا.اب پتہ نہیں اس "صاحب”نے آنے میں اور کتنی دیر لگانی تھی.کیونکہ مجھے آئے ہوئے آدھا گھنٹہ سے اوپر ہوا تھا مگر اس کا دیدار ابھی تک نصیب نہیں ہوا تھا. انتظار تو خود ایک جان لیوا کیفیت ہے اوپر سے بیماری میں اس حالت کو سہنا..صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور میں بیڈ چھوڑ کر طبی عملہ کو کھری کھری سنا کے باہر جانے لگی مگر نرس صاحبہ جو ابھی تک فیشن پر تبصرے میں شغل فرما رہی تھیں کہ اچانک راستہ روکے کھڑی ہوئی.اس نے شاید میرا ارادہ بھانپ لیا تھا کہ میں کیا کرنا چاھتی ہوں.ہم غریب لوگوں کے پاس سوائے احتجاج کے اور کوئی چارہ بچا کہاں ہے..لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے”اس دن اس ضرب المثل کی سمجھ آگئی.بس منٹوں میں ڈاکٹر صاحب بھی نازل ہوگئے. معالجیں کی اس بےحسی اور روکھے رویوں کو دیکھ کر میں سوچ رہی ہوں کہ ہم معاشرے کے کن کن المیوں کا رونا روئیں.اس لاپرواہی کا جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ سب کے سامنے ہے.کیا کوئی ایسا نہیں ہے جو اس طبقہ کا قبلہ درست کر سکے..جو ان کو ذمہ داری کا احساس دلائے.نہیں تو ہر روز ایک سے بڑھ کر ایک تماشہ دیکھنے کو ملے گا.

Facebook Comments