شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پرنس کریم آغاخان کے دورہ چترال کے موقع پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کی وجوہات

پرنس کریم آغاخان کے دورہ چترال کے موقع پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کی وجوہات

شاید میں یہ سب کچھ میڈیا پہ نہ لاتا اگر اسماعیلی لیڈر شپ پرنس کریم آغاخان کے حالیہ دورہ چترال کے موقع پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات کراتی۔ جس قسم کی بدانتظامی اور دوسرے مسائل جنم لئے ہم نے انہیں باقاعدہ ڈرافت کی شکل میں ریجنل کونسل برائے اپر ولوئر چترال اور ریجنل طریقہ بورڈ برائے اپر ولوئر چترال کے اعلی عہدے داروں کو تھما کر ان سے درخواست کی کہ ان مسائل پر دونوں ریجن کے عہدے داروں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں ہم اس موقع پر پیش آنے والے بدانتظامی اور ناخوشگوار واقعات کی وجوہات پر بریفنگ دینے کے خواہش مند ہے ، جبکہ جہاں جہاں غلطیاں سرزد ہوئی تھی ان کے ذمہ داروں کو اگر سزا نہیں دی جاتی تو ان سے پوچھ گچھ ضرورہونا چاہئے ، تاکہ آئیندہ کے لئے ایسے واقعات رونما نہ ہوسکے ۔لیکن بدقسمتی سے ریجنل کونسل برائے اپر اورلوئر چترال کی قیادت نے میٹنگ بلانے سے معذرت کرلی ۔ جبکہ علیحدہ علیحدہ میٹنگ کے ہمارے مطالبہ پر بھی کسی نے کان نہیں دھرا۔ خیر جن مسائل کی ہم نےنشاندھی کی ہے ان کو باقاعدہ ڈرافت کی شکل میں اپر اور لوئر کونسل اور طریقہ بورڈ کے حوالے کر دیاہے ۔ لیکن آج جس مقصد کے لئے مجھے بھی میڈیا کا سہارا لینا پڑا وہ کچھ یوں ہے کہ چند ہفتے قبل ریجنل کونسل برائے لوئر چترال نے اپنے زیر انتظام علاقوں کے جماعت خانوں میں باقاعدہ سرکلر کیا جس میں ہمیں مینشن کرتے ہوئے جماعت کو متنبہ کیا تھا کہ ایک ایسا گروپ ان دنوں سرگرم ہے جو اداروں کے خلاف غلط فہمیاں پھیلارہی ہے ایسے لوگوں کو جماعت خانوں میں کچھ بھی بولنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ اور پھر یہی سرکلر دو دن قبل اپر چترال کے جماعت خانوں میں بھی بھیجی گئی ۔ ہم نے گزشتہ چھ سات مہینوں سے مسلسل اداروں کے ساتھ رابطہ قائم کرکے مختلف جماعتی مسائل کو اجاگر کرتے آئے ہیں اور ہر مرتبہ حسب روایت لیڈر شپ بھی ہمیں ٹرخاتے رہے ۔ اور اب ہمیں باقاعدہ طورپر اطلاع دی گئی کہ اسماعیلی لیڈر شپ آپ جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ۔ اور نہ ہی پریذیڈنٹ اور دوسرے عہدے داروں کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ آپ کے ساتھ میٹنگ کا اہتمام کرکے اپنا مغز خراب کریں۔ اگر کسی ایشو کو ٹیبل میں لاکر اس پر گفتگو کی دعوت کو بھی لیڈر شپ اپنی توہین سمجھ لیں تو ہمیں مجبورا ان مسائل کو کھلے بازار میں عوام کے سامنے ہی ہائی لائیٹ کرنا پڑے گا۔ پرنس کریم آغاخان کی آمد کے موقع پر سنی اور اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان ،بعض علماء اور ادیبوں نے بین المسلکی ہم آہنگی کے فروع کے حوالے سے جو فضاء تیار کی تھی اس میں اسماعیلی اداروں یا قیادت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امام کی تشریف آوری سے چار پانچ دن قبل ہمیں اطلاع ملی کہ ریجنل کونسل برائے لوئر چترال اور طریقہ بورڈ اس ساری خالص روحانی ایکٹویٹی میں سلیم خان کے لئے گراونڈ فراہم کررہے ہیں کہ جسے وہ اپنی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرسکے۔سلیم خان نے اسماعیلی کونسل اور طریقہ بورڈ برائے لوئر چترال کی اجازت سے اسماعیلی جھنڈے میں بینر اور پوسٹر بنوا کر گرم چشمہ کے بازاروں اور سڑکوں پر آویزان کئے جبکہ باقی لوگوں کو خوش آمدیدی بینر لگانے کی بھی اجازت نہیں دی۔ جس کے خلاف پی ٹی آئی کے کچھ منچلوں نے لیڈر شپ کو دھمکی دی تو بجائے سلیم خان کے پوسٹر ہٹانے کے پی ٹی آئی والوں کو بھی اپنے پوسٹرز لگانے کی اجازت دی گئی ۔ 7دسمبر کی صبح جب میں نے فیس بک ان کیا تو سلیم خان نے وہی پوسٹر اپنی فیس بک آئی ڈی پر لگادی تھی جس پر پریذیڈنٹ ریجنل کونسل لویر چترال کو فون کرکے اس پوسٹر کو فورا ہٹوانے کا کہا تو محترم پریذیڈنٹ صاحب نے جواب دیا کہ میں اس سلسلے میں سلیم خان صاحب سے ڈسکس کرونگا ۔ پھر میں طریقہ بورڈ کے سینئر الواعظ علی اکبر قاضی کو فون کیا جس نے میرا فون اٹینڈ نہیں کیا میں نے ایس ایم ایس میں انہیں اس پوسٹر کو سوشل میڈیا سے ہٹوانے کا کہا تو ان کی جانب سے ‘اوکے تھینکس’ کا جواب آیا۔ اگلے دن 8تاریخ کے دوپہر ہمیں پتہ چلا کہ اس پوسٹ میں غلط کمنٹس کرنے کی وجہ سے چترال میں حالات خراب ہوگئے ہیں جبکہ غلط کمنٹس کرنے والے لڑکے کو پولیس تحویل میں لے لیا ہے ۔ اس دوران بھی لیڈر شپ سے ہماری توقع تھی کہ وہ فورا وضاحتی اور مذمتی بیان دینگے لیکن لیڈرشپ اپنے فون بند کرکے چھپ ہوگئے ۔ خاموشی کا یہ سلسلہ 12دسمبر تک جاری رہا ریجنل کونسل اور دوسرے اداروں کے قیادت اس حوالے سے اپنی وضاحت دینے کی بجائے نیشنل کونسل کو خط لکھ کر وہاں سے جواب کے انتظار میں بیٹھ گئے جبکہ اہل سنت کے اعتدال پسندوں کی جانب سےمسلسل یہ پوچھا جاتا رہا کہ اسماعیلی لیڈرشپ اس حوالے سے چھپ کیوں ہے ؟ آخر کار ہم نے سوشل میڈیا میں اسماعیلی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک وضاحتی پوسٹ لگا دیا ۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!