شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پیامِ محبت۔۔۔۔بنام اسلامی جمعیت طلبہ

پیامِ محبت۔۔۔۔بنام اسلامی جمعیت طلبہ

برادر شجاع الحق پہلے چترالی طالب علم ہیں جنہیں طلبہ کی ملک گیر، مذہبی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی سطح پر ذمہ داری سونپی گئی۔
حسبِ موقع دعا گو ہوں کہ اللہ عزوجل گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چراغ صبح لئے روبہ منزل عظیم المرتبت کاروان کے اس راہی کو استقامت نصیب فرمائے۔
آمین

توں تو ہرصاحبِ فکر انسان اور ہر سماجی ترقی و بہبود کی فکر لائق تکریم و تحسین ہیں ۔لیکن مذہبی دینی اور خالص اسلامی بنیادوں پر ایک فلاحی معاشرے اور افراد کی تشکیل کیلئے سرگرم عمل تنظیم و افراد یہ حق رکھتے ہیں کہ ہر موڑپر انکا نہ صرف خیر مقدم کیا جائے بلکہ ان کے دست و بازو مضبوط کئے جائیں۔
انہی افراد اور تناظیم کے ضمن میں برادر شجاع الحق (چترالی)  اور اسلامی جمعیت طلبہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
عرصہ دراز تک میری ایک فکر ناپید رہی کہ مذکورہ تنظیم اپنے افکار و کردار ، اور سیاسی پشت پناہی پر کسی طور لائق تحسین نہیں، اور اسی سوچ کی آبیاری سے ایک وسیع حویلی ذہن میں سموئ رہی ۔ لیکن سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کی توسط سے جب سنگ لاخ پہاڑوں کے اس پار دوسری دنیا کے نظارے دیکھنے کو ملے تو اس تنظیم سے عدم دلچسپی اور بے وجہ عِناد کی عمارت دھڑام سے گر گئی ۔ اور فضل خداوندی سے ایک سطحی سوچ سے کنارہ کشی کی توفیق نصیب ہوئ۔
خالص دینی گھرائے میں پیدائش اور راسخ العقیدہ آنگن میں بچپن بیتی کا ثمرہ ، کہ فی الوقت رواج پانے والے غیرشرعی رسومات ، مغربی تہذیب کی پرچاربالخصوص نسلِ نو کی مغرب پسندی پر گہرے دکھ کا احساس ہو رہا ہے۔ جذبات کا اک طوفان اٹھاتا ہے کہ اٹھوں اور نوجون نسل کے سامنے پیش کردہ  اس مرقّع اور ملمّع تہذیب کی دھجیاں اڑا دوں تو کبھی خیال آتا ہے کہ اٹھوں اور "جوانی کر فدا اس پر کہ جس نے دی جوانی کو” اور "جوانوں کو میری آہ سحر دے” کے ترانے سنا کر، حقِ جوانی ادا کروں لیکن بے نصیبی کہ عالمِ سکوت میں یہ سارا منظر دیکھنے پر اکتفا کرتا ہوں ۔۔
کسے نہیں خبر کہ دیگر خرافات غربیہ کی طرح "ڈیٹنگ” کی ناسور بھی ہمارے معاشرے میں بڑھتی جارہی ہے۔ مادر پدر آزادی کی شاہ راہیں کھولی گئی ہیں۔ ساتھ کسی میں ہمت نہیں کہ ان راستوں پر باڑ لگائے اور ہماری نسلِ نوکو اس فکری گراوٹ سے مامون رکھے ۔ اور بڑے افسوس کی بات ہے کہ انہی ایام میں ہمارے ذرائع ابلاغ میں خصوصی ضمیمے ، خریداریوں کی تفصیل اور ایسے جوڑوں سے ان آئیر بات چیت کی صورت میں ترغیبی مہم بھی چلائے جاتے ہیں۔ اور یقین ہے کہ پیمرا کو حسبِ روایت انہیں روکنے کی توفیق نہیں ہوگی۔
بہر کیف یہ معاشرہ ایسے نوجوانوں سے بھی خالی نہیں جو اس قبیح و شنیع رواج سے شدید نفرت ہی نہیں کرتے ، بلکہ روکنے کیلئے زورِ بازو آزماتے رہتے ہیں۔
گئے دنوں کی بات ہے کہ پشاور صدر کے ایک مصروف مقام پر نوجوانوں کی ایک ہجوم دیکھنے کو ملی جو ایک نوجوان کی تقریر سن رہے تھے۔ حاضرین کے سکوت اور نوجوان مقرر کی دلسوزی دیکھ کر میں بھی اس سرِ راہ قائم مجلس کا حصہ بنا۔ معلوم ہوا کہ کرتے قمیص میں ملبوس، ایک خوش پوش نوجوان ، امت مسلمہ کی زبوں حالی بلخصوص نوجوان نسل کی بے رہ روی پر دردِ دل سنا رہے ہیں۔ مجلس پر نظر دوڑائی تو دیکھا اکثر نوجوان مخاطَبین زارو قطار اشکین بہار ہے اور چند ایک عمر رسیدہ بزرگ جھولیاں پھیلا کر دعائیں دے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس نوجوان کے چہرے پر نہ ہی پوری داڑھی تھی، اور عمامہ کیا ٹوپی بھی زیب سر نہیں تھی اور ان کے پائچے بھی کچھ خاص نہیں اٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ کون تھے کہ میرے ہی دل میں موجود جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے ۔ میرے ہی دل کے آواز بنے تھے۔ ڈیٹ کی لعنت کے خلاف صدائے حق بلند کئے تھے اور حیا و پاکدامنی کا علم بلند کئے ہوئے تھے ۔ چند لمحوں بعد دیکھا کہ آنسئوں سے تر ہو چکا ہوں ، غبارِ دل کافی اترا ہے ، اور نوجوان وہاں سے رخصت ہونے والا ہے۔ جی چاہتا تھا کہ اس نوجوان سے لپٹ جائوں ، انکے دست و پا کو بوسہ لیکن ہمت نہیں رہی اسلئے کہ وہ نوجواں خود بھی برابر اشک بہار ہے تھے۔اختتام تقریر کے بعد نوجوان اس ہجوم سے نکل کر اپنی راہ ہولئے تو میں بھی انکے تعاقب میں نکلا ذرا آگے جاکر وہ اپنے منتظر دوستوں سے ملے۔ پاس کھڑی انکے ویگن میں لگے بینرز اور پوسٹرز سے معلوم ہوا کہ وہ تمام اسلامی جمعیت طلبہ پشاور یونیورسٹی کے طلبہ ہیں جو مغرب زدہ طلبہ کے مد مقابل آج حیا ڈے(یومِ حیا) منار ہے ہیں۔۔۔۔
اسی شام سے تا آں دل کی دنیا اس عظیم تنظیم کیلئے بدلی ہے ۔ جہاں ان نوجوانوں کو دیکھتا ہوں دل سے دعا نکلتی ہے ۔
 ہاں ۔۔ امید کی ایک کرن بنے ہیں کہ معاشرے میں تعلیم اور جدت کے نام بڑھتے بے حیائی و بے ضمیری کا سیلِ رواں اگر کوئی روک سکتا ہے تو انہی نوجوانوں کی کھیپ ہے جو تعلیمی تسلسل کے ساتھ عالمگیر سوچ لئے اصلاح احوال کیلئے کمر بستہ ہیں ۔
میری دلی ہمدردیاں اس تنظیم کے ساتھ ہیں ان کے کارکنان وذمہ داراں کے ساتھ ہیں۔ پُر امید ہوں کہ طلبہ کی یہ عظیم مشن مغرب میں دیکھے جانے والے "سیکولر پاکستان اور پاکستانیز” کے خوابوں پر ہمیشہ پانی پھیرتی رہیگی۔ اور ہمارے نوجوان نسل کو خالص دینی فکر و مزاج دینے کے ساتھ ساتھ قومی ، لسانی، علاقائی اور دیگر عصبیات سے آزاد محب اسلام و محب پاکستان طلبہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔۔
روش روش پہ خزاں کے نقیب ہیں یارو!
چمن بچائو ، غمِ آشیاں کا وقت نہیں
بڑھو کہ بڑھتی چلی آرہی ہے شامِ حیات
عمل کا وقت ہے آہ و فغاں کا وقت نہیں
سنو وہ نغمہ,, جو روح ِحیات فرمائے
سکون ہو جس سے اب اُس داستان کا وقت نہیں
                                                   (کیفی)
Facebook Comments