شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پیپلز پارٹی تاریخ کے مشکلات ترین دور میں

پیپلز پارٹی تاریخ کے مشکلات ترین دور میں

ذوالفقار علی بھٹو نے احساس محرومی کی گود میں پرورش پائی چونکہ سر شاہنواز بھٹو کی دوسری بیگم ایک ہاری کی بیٹی تھی اور اس احساس نے ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ کو اور فکر کو ایک عام آدمی کی سوچ اور فکر بنا دیا ناز و انم میں پلے اور دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے تعلیم مکمل کرنیوالے ذوالفقار علی بھٹو کی نظر ہمیشہ معصوم‘ مظلوم اور پسے ہوئے طبقہ کی طرف دیکھتی رہی۔ 60ء کی دہائی میں کم عمر ترین وزیر کی حیثیت سے فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ میں خدمات انجام دیں اور جلد ہی ایوب کی کچن کیبنٹ کے واحد ممبر بن گئے لیکن جب پاکستان کی بات ہوئی عوام کے حقوق کی بات ہوئی سندھ طاس معاہدہ اور 65ء کی جنگ پر ایوب سے اصولی اختلافات ہوئے تو تاشقند سے سیدھا لاہور عوام میں آگئے پہلی دفعہ قیام پاکستان کے بعد کسی نے عوام کے حقوق کی بات کی تھی اسلئے پاکستان کے طول و عرض میں بسنے والے غریب اور لوئر مڈل کلاس طبقے نے بھٹو کو اپنے خوابوں کا شہزادہ بنا لیا اور یہ عوام ہی کی پذیرائی کی وجہ تھی کہ 70ء میں ہونیوالے الیکشن میں جواں سال بھٹو نے کلین سویپ کیا۔ روٹی کپڑا اور مکان کے معاشی سلوگن سوئے ہوئے غریب کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا عشروں سے سوئے ہوئے عوام بیزار ہو چکے تھے پارلیمنٹ کے ایوانوں میں پہلی دفعہ وہ طبقہ پہنچا جو ملتان اور لاہور سے بذریعہ گورنمنٹ بس سروس اسلام آباد پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچتا تھا۔ ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوچوان‘ ریڑھی بان‘ نان بائی اور کام کرنیوالی لیبر کلاس مزدور‘ کسان‘ کلرک‘ طالب علم ان سب طبقات نے پیپلز پارٹی اور بھٹو کے افکار کو ایک مسلک کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ پھر 77ء کے الیکشن اور انکے نتائج کے آنے کے بعد سامراجی قوتوں کو ایک بہانہ مل گیا کہ وہ اس پروان چڑھتی ہوئی ایٹم بم کی دیوانی قوم کو نکیل ڈال سکیں۔ آمر ضیاء الحق کو سپورٹ کرکے سامراج نے بھٹو کو تو عجلت میں پھانسی چڑھا دیا لیکن وہ کروڑوں عوام کے دلوں سے بھٹو کو ختم نہ کر سکے انسانی چشم نے یہ نظارہ کیا کہ ایک انسان کیلئے درجنوں لوگوں نے خود سوزی کر لی تاریخ گواہ ہے کہ 17 اگست 1988ء کو آمر جل کر راکھ ہو گیا مگر بھٹو تب بھی زندہ تھا اپنے عوام کے دلوں میں 1986ء میں بی بی محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان جلاوطنی ختم کرکے تشریف لائیں تو 12 لاکھ لوگ لاہور کی سڑکوں پر موجود تھے۔ بھٹو کی بیٹی کی آمد پر کچھ باقی ہوس اقتدار کے طالب بے نظیر کو لیڈر ماننے کیلئے تیار نہ ہوئے اور ’’انکلز‘‘ گردانے جاتے ہوئے پارٹی سے فارغ ہوئے 1986ء سے 2007ء تک ان 22 سالوں میں بے نظیر بھٹو نے پارٹی کو نہ صرف دوبار اقتدار میں لانے میں کامیاب ہوئی۔ اس دوران بے نظیر بھٹو کو اپنی سماجی زندگی کو مکمل کرنے کیلئے ماں کے مجبور کرنے پر آصف علی زرداری جیسے ایک عام آدمی سے شادی تک بھی کرنا پڑی جس نے ان 22 سالوں میں گیارہ سال کرپشن کے سکینڈلز کی وجہ سے جیلوں میں گزارے 89ء اور 96ء دونوں دفعہ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرائے جانے کا سبب بھی موصوف بنے۔ 1999ء سے اکتوبر 2007ء تک طویل جلاوطنی کے بعد بے نظیر بھٹو کو ایک سازش کے تحت وطن واپس لاکر شہید کر دیا گیا اور پھر بی بی کی ایک ملازمہ کے دراز سے ایک وصیت برآمد ہوتی ہے اگر اس وقت ناہید خاں اور صفدر عباسی‘ مخدوم امین فہیم‘ رضا ربانی‘ جہانگیر بدر‘ یوسف تالپور اس وصیت کی کریڈیبلٹی کو چیلنج کر دیتے تو آج قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے افکار اور ان کی شہید بیٹی کی محنت ضائع نہ ہوتی پیپلز پارٹی کی قیادت اور جیالے ان مذکورہ افراد کو پیپلز پارٹی کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں شاید خدا تو ان لوگوں کو معاف کر دے مگر جیالے انہیں روز قیامت تک معاف نہیں کرینگے۔ بھٹو کے حقیقی وارث ہونے کا دعویٰ کرنے والے باپ بیٹے کی سیاست کی ایک جھلک دیکھئے کہ بی بی کی شہادت کے بعد سوگ کے بہانے خود کو بلند دیواروں کے پیچھے مقید کر لیا اور پوری الیکشن مہم کے دوران پورے ملک میں کوئی ایک بھی ایسا اجتماع نہ کر سکے جس میں شرکاء کی تعداد 500 سے زیادہ ہو بی بی کی شہادت کے صدقے اقتدار میں تو آ گئے اور پھر ایسی لوٹ مار مچائی کہ الحفیظ الامان 5 سال کے قلیل عرصہ میں صدر مملکت ان کے دو وزرائے اعظم اور کچن کیبنٹ کے درجنوں لوگوں نے (جن میں خواتین لٹیروں کی ایک خاصی تعداد شامل تھی) ملکی خزانے کو سو ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا آج وہ فرزانہ راجہ‘ رخسانہ بنگش‘ فوزیہ حبیب‘ فریال تالپور اور وفاقی کابینہ کے مشہور سابقہ وزراء کہیں نظر نہیں آتے لے دے کے ایک شرمیلا فاروقی اور قمر زمان کائرہ شلجموں سے مٹی جھاڑتے ٹی وی پر نظر آتے ہیں پورے ملک میں پیپلز پارٹی کی تنظیمیں غیر فعال ہو چکی ہیں فیڈرل کونسل و سینٹرل ایگزیکٹو کونسل آج ہوا میں معلق ہے۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب عوام میں جانے کی بجائے فیس بک‘ سوشل میڈیا اور ٹویٹر پر ٹوویٹ کرتے رہتے ہیں ان سے کوئی پوچھے کوچوانوں‘ ریڑھی بانوں‘ سبزی فروشوں‘ ہاریوں‘ کسانوں اور مزدوری کرنے والوں کی اپروچ سوشل میڈیا تک ہے؟ کاش کوئی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بتا دے کہ پاکستان‘ امریکہ‘ کینیڈا یا انگلینڈ کے کسی صوبے کا نام نہیں یہاں کی 77 فیصد آبادی آج بھی قلم سے آشنا نہیں باقی 23 فیصد طبقہ میں سے پی پی پی کے حصے میں جو آتا ہے اسکو بے شک ٹوویٹ کر لیا کریں ایک عام آدمی کی پارٹی سے لیکر ٹویٹر پارٹی تک کا سفر پارٹی قیادت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

Facebook Comments