شہ سرخیاں
Home / مضامین / ارشاد اللہ شاد / نقل کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔ ذمہ دار کون؟

نقل کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔ ذمہ دار کون؟

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ جس ملک کے صدر اور وزیر اعظم بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں ہم ایک استاد اور طالبعلم کو بدعنوان ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں ۔ مگر معاملے کی سنگینی کو اگر محسوس کیا جائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ صدر یا وزیر اعظم بدعنوان ہو تو ہمارا آج برباد ہوتا ہے لیکن اگر آج کا استاد اور طالبعلم بدعنوانی کا مرتکب ہو تو ہمارا صرف آج اور کل ہی نہیں بلکہ کئی نسلیں تباہی کے راستے کی مسافر بن جاتی ہیں۔ کل اخبار کے ایک ٹکڑے پر نظر گزری جس میں لکھا تھا کہ قوم کے بربادی کیلئے ایٹم بم، میزائیل کی ضرورت نہیں ہوتی ، اس کیلئے صرف تعلیم کا خراب معیار اور امتحانات میں طلبہ کو نقل کی اجازت دینا ہی کافی ہے ۔ تعلیم کے شعبہ میں ایک بڑی رکاوٹ اور سبب امتحانات کا شفاف نہ ہونا اور نقل کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کرنے میں نقل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ علم و ادب کے ایک ممتاز دانشو ر کہتے ہیں کہ ’’ بے ایمانی، کم ہمتی، نقب زنی اور گیدڑ کی زندگی‘‘ جب یہ چار عناصر صورت پذیر ہوکر ایک ہیولا کی شکل اختیار کرتے ہیں تو عرف عام میں اسے ’’ نقل ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا روگ ہے جو ملک و ملت کی جڑیں کھوکھلی کرکے رکھ دیتا ہے ، یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو زنگ آلود ، اس کے ارادوں کو کمزور، اس کے عزائم کو پست اور اس کی خودی کو ملیامیٹ کرکے قومی ترقی کی جڑپر خنجر چلا دیتا ہے۔
گزشتہ کی طرح امسال بھی مارچ کے مہینے میٹرک کے امتحانات شروغ ہورہے ہیں ۔ مختلف جماعتوں کے امتحانات سال بھر ہوتے رہتے ہیں ۔ قوم کے نونہالاں امتحان دے رہے ہیں ۔ سچ پوچھئے ! تو جیسے قوم کا امتحان لے رہے ہیں ۔ نقل کی وہ بھرمار ہے کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیا یہ اقبال ؒ کے شاہین ہیں جو ستاروں پر کمند ڈالیں گے ؟ جس قوم کے نونہال نقل کے ذریعے میٹرک پاس کریں گے وہ پھر گریجویشن اور ماسٹرز میں کیا جوہر دکھائیں گے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا سب کا بنیادی حق ہے ، کسی بھی طالبعلم کی پڑھائی میں تشخیص کیلئے امتحانات لئے جاتے ہیں جس کے ذریعے اس کی قابلیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے، لیکن ہمارے یہاں گزشتہ کئی برس سے امتحانات میں نقل کے رجحان میں کافی حد تک اضافہ ہورہا ہے جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ کچھ طالبعلم نقل کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں ، جو طالبعلم نقل سے پاس ہوتا ہے یقیناََ ڈگری تو حاصل کرتا ہے لیکن علم کی دولت اور تربیت کے فیضان سے یہ لوگ ہمیشہ محروم رہتے ہیں ۔ امتحانات میں نقل کرنا اور کرانا ایک گناہ اور جرم ہے ایک برائی اور لعنت ہے اور چوری بلکہ ڈاکہ ہے ایک بے انصافی بلکہ انصاف کا قتل ہے۔ امتحانات میں مختلف طریقوں سے نقل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے جس میں موبائل فون کے ذریعے معاونت ، کتاب یا کاپی کو چھپا کر امتحان گاہ میں لے جاناشامل ہیں ۔ ان سمیت امتحان میں نقل کے تمام طریقے پورے معاشرے، ملک و قوم ، حکمرانوں ،تعلیمی اداروں،اساتذہ اور والدین کیلئے لمحہ فکر یہ ہے۔
نقل کے ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کیلئے یہاں چند گزارشات پیش خدمت ہیں جو اس پر عمل سے انشاء اللہ نقل کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہیں۔ امتحانات کے انعقاد سے پہلے امتحانات دینے والے طلباء سے نقل نہ کرنے اور ممتحن سے نقل نہ کرانے پر حلف نامے لئے جائیں ۔ اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے امتحانی مراکز کو مانیٹر کیا جائے ، نقل روکنے کیلئے ہر سطح اور ہر طرح کے قابل عمل بنیادی اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔نقل کرنے اور کرانے کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور ان کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔اگر ان کوششوں کی پذیرائی عوامی سطح پر کی جائے تو مجموعی بہتری کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے ۔ حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ تعلیم توجہ دے تو تعلیمی بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ دریں حالات میں میرے نزدیک سب سے بھاری ذمہداری اساتذہ کرام پر عائد ہوتی ہیں۔ اساتذہ اپنے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ نقل سے نفرت پیداکریں ، کیونکہ ہمارے پیارے نبیؐ خود اپنے آپکو معلم کہتے تھے اور آپؐ نے اپنی تعلیم کے ذریعے پورے عرب معاشرے کی بگڑی ہوئی حالت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ آج اگر نبی کریمﷺ کی سیرت کے مطابق تعلیم و تربیت کا کام کریں تو اساتذہ ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ پاکستان کا روشن مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ہی وابستہ ہے ان کی اچھی تعلیم و تربیت ہی سے ملک ترقی کر سکتا ہے اور ملک وقوم کو اساتذہ کرپشن سے پاک لیڈر شپ فراہم کرسکتے ہیں، اساتذہ کے اندر اتنی صلاحیت ہوتی ہیں کہ وہ اپنے شاگردوں کو جس روپ میں چاہے ڈال دیں ۔ اسلئے میرے نزدیک اگر اساتذہ اپنا کردار صحیح ادا کریں تو آنے والی نسلوں کو بہترین قیادت مل سکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں سے نقل کے ناسور کو اساتذہ ہی بہتر طریقے سے ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد والدین کی ذمہ داری بنتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو نقل کے نقصانات بتانے کے ساتھ ساتھ اس سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ یہی نہیں بلکہ صاحب منبر و محراب حضرات کو بھی اس پر خصوصی توجہ دینی چاہئے کہ وہ اس موضوع کو اپنی تقریروں کا حصہ بنائیں ، وہ معاشرے کو بتائیں کہ حکومت کے جائز اور مصلحت پر مبنی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جب کہ ایسے قوانین کی پابندی نہ کرنا شرعاََ بھی گناہ ہے۔ اسلامی نقطہ نظر یہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے ، نقل کرنا بھی خیانت ہے بالکل۔ اگر امتحان دینے والے طالبعلم امتحان کے دوران نقل کرے تو یہ اس کی طرف سے خیانت ہے ، کیونکہ اس کے ذمہ ضروری تھا کہ خاموشی اور دیانتداری کے ساتھ اپنی معلومات پرچے میں لکھ لیتا اور اگر خدانخواستہ ممتحن یا ہال نگران بھی اس عمل میں شریک ہوتا ہے تو یہ دوسرا گناہ ہے، امتحان دینے والوں نقل سے روکنا اس کی ذمہ داری تھی جس میں اس نے خیانت سے کام لیا۔ بعض موقعوں پر بلکہ بکثرت یہ سننے کو ملتا ہے کہ طلبہ کی طرف سے ممتحن کیلئے نقد یا چاہے وغیرہ دعو ت کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ دوران امتحان ان طلبہ کی نقل سے چشم پوشی کرتا رہے ، اور ان کو کوئی روک ٹوک نہ کرے، یہ لین دین رشوت میں داخل ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے۔ اس عمل سے قوم و ملت کا جو کچھ عظیم نقصان ہوتاہے وہ کسی ذی شعور انسان سے مخفی نہیں ہوسکتا۔ نااہل لوگ نقل و خیانت کے ذریعے ڈگری حاصل کرکے مختلف عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کے ماتحت ادارے عضو معطل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے ان تمام باتوں کا حاصل یہ ہے کہ امتحانات میں نقل کرنا دینی و عقلی، قانونی اور اخلاقی ہر لحاظ سے ایک جرم اور نہایت قبیح حرکت ہے، جس سے خود بچنا اور اپنے حلقہ اثر کو بچانے کی بھرپور کوشش کرنا عقل اور وقت کا تقاضا ہے۔
صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے ماضی اور حال میں اقدامات کر رہی ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی صورت نقل جاری ہیں۔ محنت کرنے والے طالبعلم کا حق مارا جاتا ہے۔ نقل کے ناسور کو ختم کئے بغیر نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ اساتذہ ،والدین سمیت میڈیا اور کمیونٹی اس ناسور کے خاتمے کیلئے کردار ادا کریں۔ نقل معاشرتی ناسور ہے جو نئی نسل کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں جس کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضروت ہے اس وجہ سے بھی کہ اس سے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ارباب اختیار،ممتحنین اور متعلقہ اداروں اور ان کے ذمہ دار حضرات کی خدمت میں عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس مرض کو روکنے کی اپنی بساط بھر کوشش کریں ورنہ یہ صرف آخرت ہی کا نقصان نہیں بلکہ مادی دنیا میں بھی اقتصادی، سیاسی،عسکری وغیرہ مختلف سطح پر ملک کی کمزوری کھوکھلا پن اور بدنامی کا باعث ہے۔ اور ساتھ میں محکمہ تعلیم سے التماس ہے کہ وہ امتحانات کے نظام میں ایسی تبدیلیاں لائیں کہ طلبہ نقل کی بجائے اپنی ذہانت اور علم کے مطابق پرچہ حل کر سکیں اور ایک روشن مستقبل کی شروعات کر سکیں۔
تحریر کو سمیٹتے ہوئے آخر میں ضلعی انتظامیہ کی خدمت میں گزار ش ہے ۔ امتحانات کے سیزن شروغ ہوتے ہی بُک سٹالز اور بُک شاپس والے پاکٹ گائیڈ ز اپنے دکانوں کی زینت بنائی ہوئی ہیں جو طلبہ کیلئے زہر کے مترادف ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ دوران امتحان پاکٹ گائیڈز کے استعمال اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگائیں ۔ بک سٹالز اور بک شاپس کی چیکنگ کی جائے اور پاکٹ گائیڈز کی موجودگی پر دکاندار کو بھاری جرمانہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ امتحانی مراکز کا دورہ بھی کرے تو انشاء اللہ ہمارا تعلیمی نظام پہلے سے کئی گنا بہتر ثابت ہوگا۔
قلم ایں جا رسید و سر بشکست…….!!!

Facebook Comments