شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / علاقہ تورکھو ڈپٹی کمشنر چترال کی آمد کا منتظر

علاقہ تورکھو ڈپٹی کمشنر چترال کی آمد کا منتظر

یوں تو چترال کی تاریخ کے لحاظ سے علاقہ تورکھو بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے ریاست کے زمانے میں ولی عہد تورکھو کا گورنر ہوتا تھا اور وہی ولی عہد چترال کا حکمران یعنی مھتر بنایا جاتا تھا لیکن ریاست ختم ہونے کے بعد حکمران اور انتظامیہ علاقہ توکھو کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر کےآرہے ہیں ,تورکھو چترال شھر سے تقریباً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے تورکھو کا پہلا گاوں استارو اورآخری گاوں ریچ رواہ جبکہ دوسری جانب چترال کا حسین ترین گاوں کھوت یعنی پرکھوت آخری گاوں ہے تورکھو تقریبا47 ھزارآبادی پر مشتمل ہے جبکہ علاقہ تریچ ,نشکو بھی تورکو روڈ سے مستفید ہوتے ہیں اور دونوں کی ابادی ملاکر 70000 ھیں کہنے کو تو گاوں ریچ اور کھوت میں بی ایچ یو ہسپتال جبکہ شاگرام میں آرایچ سی ہسپتال موجود ہیں لیکن تورکھو کے مکین صحت کے بنادی سہولت سے محروم ہے عوام کو مفت ادویات تو دور کی بعد پیسہ دینے سے بھی ادویات نھیں ملتی آر ایچ سی شاگرام آعاخان ہیلتھ والوں کے پاس ہے ابتدا میں وہاں علاج تو کیا جاتا تھا اپ وہاں پر بھی بنیادی سہولت میسر نہیں اس ہسپتال میں نہ اے کے ایچ ایس والوں کی طرف سے کوئی سہولت موجود ہے اور نہ گورنمنٹ کی طرف سے اس پر کوئی توجہ دی گئی ہے غالباً سال 2009 کو بونی تورکھو روڈ پر کام شروع ہواجو ابتدائی سروے کے مطابق 35 کلومیٹر تھا اور 9 سالوں کے بعد ترکول کرنا دور کی بات روڈ ایک دوسرے کے ساتھ Connect ہی نہیں ہوا ہے اور جہاں جہاں لوگوں سے زمینات لی گئی ہے ان کا معاوضہ بھی لوگوں کو نہیں ملی ہے یہ بات شنید ہے کہ تورکھو روڈ کے لیے زمین کا معاوضہ کی رقم ڈی سی صاحب کے اکاونٹ میں جمع ہو چکے ہیں اگر یہ بات حقیقت ہے تو ڈی سی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ رقم فی الفور لوگوں کو ادا کیا جاے اور تاحال توکھو روڈ پر کام بند ہے اور سوشل میڈیا کے مطابق تورکھو روڈ کے لیے کرڑورں روپے کا فنڈ دیا گیا ہے لیکن نو سالوں سے 35 کلیو میٹر روڈ کا 40% کام نہیں ہوا ہے اس سلسلے میں چند دن قبل سابق ڈی پی او اور ممبر تحصیل کونسل محمد سید خان لال نے بونی میں جب ڈی سی چترال سے کام شروع کرنے کی درخواست کی تو ڈی سی صاحب کا جواب انتہائی مایوس کن تھااور میں ایک کا سابقہ ڈی پی اوہونے اور دوسرے کا موجودہ ڈی سی ہونے کی وجہ سے دونوں کا اعلیٰ عہدے کے احترام میں ڈی سی  صاحب چترال کا ہو بہو جواب تحریر میں لانا مناسب نہیں سمجھتا ہوں جند دن قبل علاقہ ریچ میں دو فریقین کے مابین زمین کے تنازعے کے سلسلے میں مولانا عبدلااکبر نے ایک فریق کو لیکر ڈی سی صاحب سے ملاقات کے بعد فیس بک پر پوسٹ کیا تھا کہ ڈی سی, صاحب تورکھو تشریف لارہا ہے تو یہ سن کر ہمیں بڑی خوشی ہوئی ہے اورہم ڈی سی چترال کو تور کھو آمد پر خوش امدید کہتے ہیں کیونکہ ڈی سی صاحب کے آنے پر ہمارے بہت سے مسائل حل ھو نگے اور اجنو ریچ پل جو کہ چند ماہ قبل جل گیا تھا اورعارضی بنیادوں پر پل تعمیر کیا گیا تھا اس کو مستقل طور پر بنانے کی کوشش کریگا ورنہ دو مہنے کے بعد دریا میں طغیانی آنے کی وجہ سے وہ عارضی پل بہ جائےگا اور گاوں ریچ و ہائی سکول اجنو کا واحد راستہ بند ہوگا اور علاقہ ریچ ,طالب,علم ہائی سکول اجنو محسور ہوکر رہ جائنگے ان کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود نہیں لہذا یہ بات بروقت سوشل میڈیا کے زریعے ڈی سی صاحب کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں . ہم ڈی سی صاحب کو تورکھو آمد پر ان پر پھول بھی نچھاور کرنگے آخر میں ڈی سی چترال سے گزارش کرونگا کہ وہ اپنا دورہ تورکھو کو یقینی بناکر تور کھو کے باسیوں کے درینہ مسائل کو حل کرنے کی کو شیش کریں

Facebook Comments