شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / فلاحی ریاست ابھی نہیں تو کبھی نہیں

فلاحی ریاست ابھی نہیں تو کبھی نہیں

*آرزو ئے ناتمام۔
شاعر بے بس نے کارخانہ حیات کے شکنجوں میں خود کو چور چور ہوتا دیکھ کر ایک احتجاجی مگر با وقار شعر وقت رخصت فرما گئے تھے ؂ عمر رواں سے مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں۔
مملکت خداداد نے70 کے پیٹے کو بھی کراس کیا مگر بدقسمتی سے ابھی تک وہ منزل ہم حاصل نہ کر سکے۔ جس عظیم مقصد کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دئے کر یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ملک ابھی تک نہ درست طریقے سے اسلامی بن سکا اور نہ ایک فلاحی ریاست جہاں عوام کی بہبود کے لیے درست سمت کا تعین ہوسکے۔ اب ہمارے چیف جسٹس صاحب آستین چڑھائے ایک فلاحی ریاست کے حصول کے لیے نکلے ہیں اللہ کرے وہ سرخ رو ہوکے نکلیں اگر اس بار بھی وار خالی گیا تو بہت دیر ہوچکا ہوگا۔
* مثالی ادارہ۔
23 مارچ کا پریڈ جو ہم ٹی وی کے ذریعے دیکھنے کی سعادت حاصل کر رہے تھے اسے دیکھ کر اپنی بہادر فوج کی خدمات ، جنگی تیاریوں ،نظم و ضبط اور صلاحیتوں پر بار بار … اللہ اکبر… کے نعرے لگانے پڑے۔ یہی واحد ادارہ ہے پاکستان کا جس کے ذمے جتنے بھی شعبے آئے انہوں نے کمال کر دیکھا۔ دہشت گردوں کا صفایا ، امن کی بحالی، ملک کے چپے چپے کی حفاظت، بری ، بحری، فضائی طاقت میں پورے ریجن میں نمایان مقام۔ایٹمی اور میزیل ٹیکنالوجی میں روز برور مہارت،ڈرون ۔ ٹھنڈر جیسے شہکار ،صحت ، کھیل ، تعلیم، تعمیر،یہاں تک کہ اپنے پنشین ملازمین تک کی فلاح و بہبود کے لیے مثالی اداروں اور سہولیات کا قیام اسے ایک کا میاب با وقار ادرارے کے طور پر پیش کررہا ہے جسے ہم صدق دل سے سلام محبت پیش کر تے ہیں اور حضرت اقبال کی زبانی عقیدت کا یوں اظہار کرتے ہیں۔
؂ شاہین کبھی پراوز سے تھک کر نہیں گرتا پردم ہے اگر توُ تو نہیں خطرہ افتاد
*آئینہ دوست۔
اس کے مقابلے میں سول اداروں کی تاریخ اور کارنامے ہمارے لیے ہمیشہ شرمندگی کا ہی باعث رہے ہیں ۔اگر کہیں سے کوئی گوہر نایاب سامنے آیا بھی تو زیادہ تر اپنی انفرادی کوشیشوں اور محنت سے اور سول اداروں کے وہ لوگ جو اس ملک کو سنوارنے کے جذبے سے سر شار نکلے ان کی راہوں میں ایسی رکاوٹیں حائل ہوئے کہ وہ توبہ استغفار کا ورد کرتے ہوئے سات سمندر پار اترنے میں ہی عافیت محسوس کی اور ہماری مسلمل ناکام پالیسیوں کی بدولت لاکھوں اعلیٰ دماغ دوسرے ممالک کی بہتری مر کھپ گئے اور ان کی صلاحیتوں سے ہمارے پالیسی ساز فائدہ نہ اٹھا سکے۔
آج سوال وہی پرانی ہے کہ کیا پاکستان اسٹیل ، ریلوے، پی ائی اے، وزارت صحت، وزارت سیاحت، وزارت کھیل، وزارت پانی، وزارت تجارت، وزارت خارجہ، وزارت خزانہ، وزارت تعلیم،وزارت قدرتی وسائل، خود پارلیمنٹ، سیاست دان، ہماری سیاسی پارٹیاں اور ان کے ذاتی مفادات اور ان کے … جہنم … سے بڑے ’’ ہل من مزید ‘‘ کا وویلہ کر نے والے شکم … کیا یہ لوگ اور ان کے ادارے اس ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی جانب ایک قدم بھی اٹھانے کی آرزو رکھتے ہیں۔جس بھی فرد کو اٹھاتے ہیں خواہ ہو … تنور… میں روٹی بنانے والا ایک ننبائی ہو یا ریاستی اور حکومتی عہدہ دار … کرپشن کا ایک رستا ہوا ناسور ہے۔ جو چہار سو نظر آتے ہیں۔کوئی الحمداللہ و ماشا اللہ کا ورد کرتے ہوئے اس ملک کو لوٹ رہا ہے، کوئی دستار وجبہ میں لپیٹے تجوریاں بھر رہا ہے، کوئی خیرات و صدقات کے نام پر خزانے بنوارہا ہے۔کوئی انقلاب اور تبدیلی کے نام پر تو کوئی شریعت اور ممبر و محراب کی تقدس کو پامال کر کے اسلام سے زیادہ اسلام آباد کی ریس میں شامل ہیں۔ دشمن رفتہ رفتہ ہماری فضائی ، سمندری، اور جعرافیائی حدود کے گرد مکاری و عیاری سے جال بنا جارہا ہے ۔ اور ہم اور ہماری میڈیا ’’ مجھے کیوں نکلا،کے کھیل سے باہر نکل کر عالمی حالات کا جائزہ لینے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے ۔بدقسمی کی انتہا یہ ہے کہ اب باہر سے زیادہ ہمارے اپنے ہی نمائدے اور ان کے حواری اس ملک کی جڑین کاٹنے کی آوازین … پارلیمنٹ میں بیٹھ کر لگا رہی ہیں مگر ساروں کی آنکھوں میں پٹی باندھی ہوئی ہیں کہ کسی کو نظر ہی نہیں آتے۔
*نسل نو کی جنگ۔
کیا ایسے منتشر قوم کے لیے فلاحی ریاست کا قیام ممکن ہوسکے گا؟ کیا ڈرون کا نام … براق… رکھنے سے … ٹینک کا نام … الخالد.. الضرار… رکھنے سے میزائل کا نام …. ابدالی،غوری، غزنوی، حتف، رکھنے سے یہ قوم متحدہ ہوسکتا ہے ۔ یا جن ہستیوں کے مبارک نام پر یہ ہتھیار بنائے گئے ہیں ان ہستیوں کی سیرت کردار اور عمل کی بھی ضرورت ہے۔اور اندرونی طور پر ملک کو …. قزاقوں کے حوالے کر کے جو خود بھی محترم ناموں سے خود کو مزین کر کے لوٹ کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔کیا ایسے وقت میں …. صرف چیف جسٹس ہی فلاحی ریاست کا خواب پورا کر سکتے ہیں؟ اگر اس جنگ کو جیتنا ہے اور اس ملک کو نسل نو کی مستقبل کے لیے محفوظ بنانا ہے تو اس ملک، ملت اور دین اسلام سے پیار کرنے والے خالص غیر سیاسی لوگوں کو بھی اس جنگ میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے زریعے دونوں … چیف … کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا تب کہیں جاکے یہ … جنگ … جیتی جاسکتی ہے اور پاکستان کو واقعی ایک اسلامی اور فلاحی ریاست بنایا جاسکتا ہے ورنہ کبھی نہیں۔
******

Facebook Comments