شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل چترال نے 478 تنازعات کو افہام وتفہیم سے حل کرانے میں کامیاب۔

ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل چترال نے 478 تنازعات کو افہام وتفہیم سے حل کرانے میں کامیاب۔

 

ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل خیبر پختوانخواہ پولیس کی طرف سے عوام کو کورٹ کچہری اور دیگر قانونی مسائل سے دور رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔آئی ۔جی پولیس خیبر پختوانخواہ جناب ناصر خان درانی کے احکامات پر14جنوری 2014 کو گلبہار پولیس اسٹیشن پشاور میں DRC قائم کی گئی ۔اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور صوبے کے دوسرے اضلاع میں DRC قائم ہوتے گئے ۔ڈسپیوٹ ریزلوشن کونسل کے کم از کم 21 ممبرز ہوتے ہیں۔جن کا چناؤ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خود کرتے ہیں۔DRC ممبرز ریٹائرڈ ججوں ،ریٹائرڈ سول و ملڑی آفیسروں ،ماہر تعلیم ،مذہبی اسکالروں ،صحافیوں ،کاروباری شخصیات اور معاشرے کے مختلف طبقوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ہر ایک تھانے کا کم از کم21 ممبروں پر مشتمل DRC ہوتا ہے۔DRC کے امور کی انجام دہی کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری DRC کے سکریٹری کی ہوتی ہے جس کا چناؤممبرز خود کرتے ہیں۔DRC کے ممبروں کو 7 مختلف پینل میں تقسیم کی جاتی ہے اور ہر پینل 3 ممبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک پینل خواتین پر مشتمل ہوتی ہے۔
صوبہ خیبر پختوانخواہ کے ضلع چترال میں اب تک میں جتنے بھی DRC موجود ہیں ان کی کارکردگی سب سے بہتر ہے ۔ڈی۔آر۔سی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کے معمولی سطح کے تنازعات آپس میں خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوں نہ کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کریں اور کورٹ کچہری کے چکر لگاتے رہیں۔اس حوالے سے ڈی۔آر۔سی چترال ٹاؤن میں544 تنازعات رجسٹرڈ ہوئے جن میں 478 تنازعات باہمی رضا مندی سے حل ہوئے جبکہ 62تنازعات کورٹ کے حوالے ہوئے اور 4 تنازعات ابھی حل طلب ہیں۔2014 سے لیکر اب تک دیکھا جائے تو یہ کافی بڑی تعداد ہے۔ان میں گھریلوناچاقی ،پیسوں کی لین دین، قرض کی عدم ادائیگی،آراضی اور دوسرے مختلف نوعیت کے تنازعات شا مل ہیں۔ڈی۔آر۔سی کا ایک پینل خواتین پر مشتمل ہونے کی وجہ سے گھریلو تنازعات بآسانی حل ہورہے ہیں۔کیونکہ پہلے خواتین تھانہ کلچر سے خائف تھی۔
2015 میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کے بعد ڈی۔آر۔سی کی کارکردگی میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملی ہے۔ ڈی۔آر۔سی کے قیام سے اب چترال میں لوگوں کے مسائل بآسانی حل ہورہے ہیں۔اور اس کی وجہ سے عدالتوں اور تھانوں پر بوجھ بھی کم ہو چکا ہے ۔

Facebook Comments