شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پرویز خٹک اور عمران نیازی کا یہ اعلان صرف اعلانیہ ہی رہا عملی طورپر اپر چترال الگ ضلع نہیں ہوا۔ ایم پی اے سلیم خان

پرویز خٹک اور عمران نیازی کا یہ اعلان صرف اعلانیہ ہی رہا عملی طورپر اپر چترال الگ ضلع نہیں ہوا۔ ایم پی اے سلیم خان

پشاور(چترال  آفیئرز) 8نومبر2017کوپولو گراونڈ چترال میں ایک بڑے جلسہ عام میں عمران خان پرویز خٹک نے اپر چترال کو الگ ضلع بنانے کا اعلان کیا تھا مگر تاہم7مہینے گزرنے کے باوجود اپر چترال کو الگ ضلع بنانے کا نوٹفیکیشن جاری نہیں ہوسکا۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ یہ نوٹفیکیشن صر3دن کے اندر اندر چترال پہنچادونگا مخالفین کے منہ دے مارو جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پرویز خٹک کا اعلان زبان جمع خرچ ہوگا عملی طورپر وہ چترالیوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار ایم پی اے سلیم خان نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔اُنہوں نے کہا کہ آج پرویز خٹک اور عمران نیازی کا یہ اعلان صرف اعلانیہ ہی رہا عملی طورپر اپر چترال الگ ضلع نہیں ہوا۔لہذا تمام چترالی قوم عمران خان اور پرویز خٹک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چترالی قوم سے سفید جھوٹ بولنے پر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔اور اگر ان دونوں جھوٹوں نے چترالی قوم سے میڈیا کے سامنے آکر معافی نہیں مانگی تو ہم ان کے خلاف دھوکہ دہی ،فراڈ کرنے اور جھوٹ بولنے پر دفعہ420کے تحت مقدمہ دائر کریں گے۔اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کھبی زندگی میں سچ نہیں بولے ہیں مگر ہمیں افسوس اس بات پرہورہا ہے کہ وہ چترال میں آکر بڑا جلسہ کرنے کیلئے یہ ڈرامہ کیوں رچایاکہ جب سارے چترال کے لوگ پولو گراونڈ میں جمع ہونگے تو ہم ان کیلئے اہم اعلان کریں گے۔ان کے اس جھوٹے اعلان کی وجہ سے چترال کے صوبائی اسمبلی کانشست بھی ختم ہوگیا۔اگر اپرچترال کے الگ ضلع ہونے کا نوٹفیکیشن جاری ہوتا تو ہمارے ایک صوبائی اسمبلی کا سیٹ بھی بچ جاتا ۔ اب صوبے کے سب سے بڑے ضلع میں صرف ایک صوبائی اسمبلی کا حلقہ رہ گیا ہے۔تبدیلی کے دعویداروں نے پسماندہ علاقوں کو اور بھی پسماندہ کردیا اور اس غریب صوبے کو300ارب روپے کا مقروض کردیا۔حالانکہ عمران خان بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ اگر مجھے حکومت ملی تو ملک کے سارے قرضے اتارونگا۔آج ایک غریب صوبے کو مذید مقروض کردیا۔اُنہوں نے کہا کہ عمران کے90دن کا ایجنڈا بھی جھوٹ کا پلندہ ہے اس کو قوم نے مسترد کیا ہے۔سلیم خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چترالی قوم سے جھوٹا وعدہ کرنے اور دھوکہ دہی کے کے پاداش میں عمرن خان اور پرویز خٹک کو سیکشن 62-63کے تحت نااہل قراردے دیں۔اُنہوں نے کہا کہ میں آج میڈیا کے سامنے چترال کے عوام سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر2018کے الیکشن کے بعد صوبے میں ہماری حکومت بنی تو اپر چترال کو الگ ضلع بناکر ہی دم لیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ ہمیشہ چترال کے لوگوں کے ساتھ مخلص رہا ہے۔اور انشاء اللہ ہم ہی اپر چترال کو ایک الگ ضلع بناکر ترقی یافتہ ضلعوں کے برابر لائیں گے۔اُنہوں نے کہا کہ بلاول بھٹوہی اس اُمید کی واحد کرن ہے جوکہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس ملک میں جب بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت آئی ہے تو ہمیشہ غریبوں کے حقوق کو تحفظ ملی اور پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی گئی۔انشاء اللہ آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہے ہم انشاء اللہ صوبے اور مرکز میں اپنی حکومت بنائیں گے۔

Facebook Comments