شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، آئی جی پی ، ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ اور دوسرے حکام بمبوریت میں پولیس گردی کا سخت نوٹس لے۔شجاع الرحمن کی پریس کانفرنس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، آئی جی پی ، ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ اور دوسرے حکام بمبوریت میں پولیس گردی کا سخت نوٹس لے۔شجاع الرحمن کی پریس کانفرنس

چترال (  نمائندہ چترال آفیئرز) پی ٹی آئی یونین کونسل ایون کے صدر اور بمبوریت وادی میں ایک ہوٹل کے مالک شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے پولیس کو عوام دوست بنانے اور تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے تمام دعوے محض ڈھونگ اور ڈرامہ بازی ثابت ہوئے جوکہ اب بھی رشوت نہ دینے پر مختلف حیلے بہانوں سے غریبوں اور کمزوروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن بمبوریت کے ایس ایچ او ابراہیم شاہ نے رشوت نہ دینے پر ان کا جینا تنگ کررکھا ہے اور ان کے ہوٹل کے ساکھ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ گزشتہ ماہ ان کے ہوٹل کا ایک ملازم ہارٹ اٹیک سے جان بحق ہوگئے تھے جس پر پولیس نے ضابطہ فوجداری کے تحت انکوائری کردی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے طبعی موت قرار دی گئی جبکہ متوفی کے باپ سمیت کسی نے دعویداری نہیں کی کیونکہ وہ پہلے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھا۔ انہوں نے کہاکہ انکوائری کے دوران ایس ایچ او ابراہیم شاہ نے ان سے 50ہزار روپے رشوت طلب کی جسے دینے سے انکار کیاگیا تو بعد میں وہ مختلف حیلے بہانوں سے ان کو تنگ اور ہراسان کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہوٹل میں سی سی ٹی وی نہ رکھنے کی پاداش میں ان کا چالان کردیا جبکہ وادی بمبوریت میں قائم پچاس سے ذیادہ ہوٹلوں میں کسی بھی ہوٹل میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں ہیں۔ شجاع الرحمن نے کہاکہ علاقے کا ایس ڈی پی او اقبال کریم بھی ایس ایچ او کے ساتھ ملا ہوا ہے جس کے بیٹے نے چند دن پہلے پولیس کے چند اہلکاروں کی معیت میں ان کے ہوٹل کے سامنے روڈ پر کھڑے ہوکر گالیاں دینے اور بدتمیزی کرنے کے بعد چلے گئے تھے جس کے بعد ہوٹل میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے اور مہمان یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، آئی جی پی ، ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ اور دوسرے حکام سے اس پولیس گردی کا سخت نوٹس لینے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Facebook Comments