شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پیرا گلائڈنگ یعنی چھتری بردار چترال کا پسندیدہ شعل۔مگر حکومتی سطح پر ابھی تک اسے کوی پذیرائی نہیں ملی۔

پیرا گلائڈنگ یعنی چھتری بردار چترال کا پسندیدہ شعل۔مگر حکومتی سطح پر ابھی تک اسے کوی پذیرائی نہیں ملی۔

چترال(گل حماد فاروقی) پیرا گلائڈنگ یعنی چھتری برداری چترال کا بہترین کھیل اور عوام کا پسندیدہ شعل ہے۔ چترال کی جغرافیائی ساحت قدرتی طور پر پیرا گلائڈنگ کیلئے نہایت موزوں ہے۔ یہاں ماضی میں امریکہ اور دیگر بیرون ممالک سے پیر ا گلائڈر آکر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں۔ چترال ک پائلٹ نہ صرف چترال میں تمام قومی دنوں، میلوں، کھیلوں اور اہم مواقع پر پیرا گلائڈنگ کا مظاہرہ کررہے ہیں بلکہ چترال سے باہر بھی جاکر اپنا لوہا منواتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس فن کو جو اب ایک صنعت کی شکل احتیار کرچکی ہے حکومت کی طرف سے کوئی پذیرائی نہیں ملی۔
ہندوکش ایسوسی ایشن فار پیراگلائڈنگ HIKAP کے ٹیم نے گزشتہ روز ایبٹ آباد میں آل پاکستان پیرا گلائڈنگ مقابلے میں حصہ لیا تھا جس میں محمد ناظم خان سکنہ بونی نے پورے پاکستان کی سطح پر مقابلہ میں تیسری پوزیشن لیکر پچاس ہزار روپے نقد انعام اور شیلڈ بھی حاصل کیا۔
HIKAP کے پیراگلائڈر ٹنڈم فلائٹ بھی کراتے ہیں جس میں ایک پائلٹ اپنے ساتھ پیرا شوٹ میں ایک سیاح کو بھی بٹھا کر اڑان بھرتے ہیں اور فضا کی سیر کرکے واپس زمین پر اترتے ہیں۔ نیپال اور دیگر ممالک میں اسی ٹنڈم فلائٹ سے سالانہ لاکھوں ڈالر کمایا جاتا ہے مگر یہاں اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔
سید مظفر حسین بھی ایک پیراگلائڈنگ پائلٹ ہے ان کا کہنا ہے کہ پیرا گلائڈنگ چترال کا نہایت مقبول کھیل ہے اور چترال واحد جگہہ ہے جہاں دو مرتبہ عالمی ریکارڈ بن چکا ہے مگر بدقسمتی سے پیراگلائڈنگ کے فن جو اب ایک سیاحتی صنعت کا درجہ رکھتی ہے اس کو کبھی حکومت کی طر ف سے کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ بونی سے تعلق رکھنے والے ایک پائلٹ محمد ناظم نے پاکستان کی سطح پر مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی مگر چترال میں ان کا کسی نے پوچھا تک نہیں۔محمد ناظم خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پیراگلائڈنگ کی کھیل پر توجہ دے اور ہمارے ساتھ مالی تعاون کرے اور بیرون ممالک سے پراگلائڈر اور پائلٹوں کی آمد اور ان کو ویزا دینے میں آسانی پیدا کرے تو چترال ان پیرا گلائڈرز پائلٹوں کیلئے جنت کا درجہ رکھتا ہے اور دنیا بھر سے پیراگلائڈ پائلٹ چترال کا رح کریں گے جس سے نہ صرف اس صعنت اور کھیل کو فروغ ملے گا بلکہ ہماری معیشت پر بھی نہایت مثبت اثرات پڑیں گے۔
HIKAP کے پائلٹوں نے چترال کے بالائی علاقے قاقلشٹ کے میدان میں ایک بار پھر چھتری برداری کا مظاہرہ کرکے تماشائیوں کو محظوظ کرایا۔

Facebook Comments