شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ریٹرننگ آفیسر نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد این اے ون چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے ۔

ریٹرننگ آفیسر نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد این اے ون چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے ۔

چترال ( محکم الدین ) چترال میں الیکشن 2018کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئے ۔ اور این اے ون چترال کے 18امیدواروں میں سے دو کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ۔ جن میں سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کانام بھی شامل ہے ۔ پیر کے روز ریٹرننگ آفیسر این اے ون چترال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال محمد خان نے کئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی نمٹائے ۔ جن میں ضلعی صدر اے پی ایم ایل چترال سلطان وزیر ، آزاد امیدوار این اے ون شہزادہ تیمور خسرو ، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبد اللطیف اور ممبر تحصیل کونسل لٹکوہ عبد القیوم وغیرہ شامل تھے ۔ ریٹرننگ آفیسر نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد این اے ون چترال سے اُس کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے ۔ جس میں پرویز مشرف کے سابقہ کیسز اور اُس کی عدالت میں عدم حاضری اُس کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے موجب بنے ۔ پرویز مشرف کاغذات مسترد ہونے کے بعد اُس کے وکیل وقاص احمد ایڈوکیٹ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ پرویز مشرف کے پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے تاحیات نااہلی کا فیصلہ ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی بنچ کی طرف سے پرویز مشرف کو غاصب قرار دینے اور آئین معطل کرنے کے سلسلے میں اُن کے خلاف فیصلے اور اُن کی عدم حاضری کی وجہ سے اُن کے کاغذات ریٹرننگ آفیسر نے مسترد کئے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پرویز مشرف کو پہلے ہی مشروط طور پر سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کیلئے پاکستان آنے کی اجازت دی تھی ۔ لیکن اُن کی عدم حاضری کی وجہ سے فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے ۔ پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ۔ کہ پرویز مشرف کو کسی بھی عدالت سے سزا نہیں ہوئی ۔ اس لئے فیصلے پر ہمیں اختلاف ہے ۔ اس لئے ہم بالائی ٹریبونل یا عدالت سے رجوع کریں گے ۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا ۔ کہ آرٹیکل 6 صرف اُس شخص پر لاگو ہو سکتا ہے ۔ جو آئین کو مکمل طور پر معطل کر چکا ہو ۔ چونکہ پرویز مشرف نے آئین کو معطل نہیں کیا ہے اور یہ صرف اُ ن پر الزام کی حد تک ہے ۔ کیونکہ تمام صوبائی ، قومی اسمبلی ، سینٹ ، وزراء اعلی ، گورنرز آئین کے تحت کام کر رہے تھے ۔ اور وزیر اعظم ، وزیر قانون و دیگر حکام کی طرف سے ججز کو ہٹانے کی حد تک ایڈوائز دینے پر صدر نے اگر حکم صادر کیا ہے ۔ تو آئین پاکستان کے تحت صدر وزیر اعظم کے ایڈوائز کا پابند ہے ۔ صرف آئین کے آرٹیکل 209کے تحت جو کہ ججز کو ہٹانے سے متعلق ہے ۔ اُس کو معطل کرنا کبھی بھی مکمل آئین کی معطلی میں نہیں آتا ۔ ایڈوکیٹ وقاص احمد نے کہا ۔ کہ پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی کی طرف سے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ جو کہ آئین کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ لہذا پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کا مقدمہ نہیں بنتا ۔ اگر مقدمہ بنتا ہے ۔ تو تمام ممبران صوبائی و قومی اسمبلی ،گورنرز ، وزراء اعلی اور وزراء کے خلاف بھی اس آرٹیکل کا مقدمہ بننا چاہیے تھا ۔ لہذا تمام آئینی اداروں کا آئین کے تحت کام کرنے کے باوجود اُن پر آرٹیکل 6کا نفاذ سمجھ سے باہر ہے ۔ ریٹرننگ آفیسر این اے ون چترال محمد خان نے جانچ پڑتال کے بعد 18 امیدواروں میں سے 16کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے ۔ جن میں مولانا عبد الاکبر چترالی ، محمد یحی ، سید الرحمن ، محمد امجد ، حزب اللہ ، عیدالحسین ، نثار دستگیر ، سلیم خان ، شہزادہ تیمور خسرو ، وجیہ الدین ، ہدایت الرحمن ، سلطان وزیر ، تقدیرہ اجمل ، شہزادہ افتخار الدین ، عبد اللطیف اور شاہ ابوالمنصور شامل ہیں ۔ اسی طرح ریٹرننگ آفیسر PK-1چترال عابد زمان نے 27امیدواروں میں سے 25کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے ۔ جن میں امیرا للہ ، عبد الرحمن ، سید سردار حسین شاہ ، سعادت حسین مخفی ، مولانا سراج الدین ، مولانا عبد الاکبر چترالی ، سردار احمد خان ، سہراب خان ، حزب اللہ ، اسرار الدین ، عطاء اللہ ، وزیر خان ، غلام محمد ، شہزادہ امان الرحمن ، ہدایت الرحمن ، رضیت باللہ ، عبدالصمد خان ، وجیہ الدین ، مصباح الدین ، سلطان وزیر خان ، محمد امیر الحسنات الدین ، شفیق الرحمن ، امیر اللہ ، عبدالولی خان عابد اور شاہ ابوالمنصور شامل ہیں ، جبکہ محسن حیات شاداب کے کاغذات تحصیل ممبر شپ سے استعفیٰ نہ دینے اور تقدیرہ اجمل کے کاغذات صوبہ ( چترال ) کے انتخابی فہرست میں نام درج نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کئے گئے ۔

Facebook Comments