شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / دانتوں میں درد اورزمانہ قدیم کے معالج ۔ایک دلچسپ تحریر

دانتوں میں درد اورزمانہ قدیم کے معالج ۔ایک دلچسپ تحریر

سنہ1990ء سے پہلے (طنزومزاح) دانتوں کی تکلیف وہ بیماری تھی جو کہ آج کی نسبت ماضی میں خاص وعام کو لاحق ھوتی تھی ۔ جتنی بیماری عام تھی اتنی ہی دانتوں کے معالج ناپید تھے ۔ یاد نہیں پڑتا کہ دانتوں کا کوئی سند یافتہ معالج چترال کے کسی ہسپتال میں تعینات ھوتا تھا بھی کہ نہیں۔ ڈینٹل سرجن یا ڈینٹل کلینک کا کوئی تصور نہیں تھا۔ بس مین بازار میں ایک یا دو دکانوں پر "دندان ساز "کے نام سے تختیاں آویزاں ھوتی تھیں جس میں ایک بتیسی کی تصویر نمایان ھوتی تھی جس کی مشابہت انسانی دانتوں اور مسوڑھوں سے کم لیکن جانورں سے زیادہ ملتی تھی۔ "دندان ساز ” تختی والے دکانوں کےبارے میں عمومی رائے یہی تھی ک وہاں شکستہ دانتوں کی مرمت کی جاتی ہے۔ عام طور پر دانتوں کا واحد علاج ان کا جڑوں سے اکھاڑا جانا ہی سمجھا جاتا تھا۔ یوں دانتوں کے علاج (نکالنے) کے لیے ترکانوں کی خدمات موجود ھوتی تھیں۔ ترکانوں کا فن دانت کشی سے تعلق صرف ان کے ان اوزاروں کی وجہ سے ھوتی تھی جو کہ ان کے پاس ہر وقت موجود ھوتے تھے۔ دانت نکالنے کےلئے ترکان عموماً پلاس نما ایک مخصوص اوزار کا استعمال کرتے جوکہ کیلوں اور میخوں کو کھینچ نکالنے کے کام آتا تھا جس کو مقامی زبان میں’ امبور’ کہا جاتا تھا۔

آمبوروں کی دو اقسام ھوتی تھیں شکل سے دونوں ایک ھی جیسی ھوتی لیکن ھیت, ساخت اور بناوٹ میں جو نسبتا کرخت اورجس کو دیکھتے ہی کراہٹ محسوس ھوتی ہے اسی کو دانتوں پر آزمایا جاتا ۔ ان دنوں کسی کام کو کرنے کا معاوضہ طلب کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ مریض مخصوص ترکان کے پاس محص مرغی کے درجن بھر آنڈے بطور فیس لے کرجاتا اور خاص حالات میں یعنی اگر کسی وجہ سے ترکاں صاحب کی طبع نازک آمادہ نہ ھو تو سالم مرغی سے کام چلتا۔ ترکان دن کے اوقات میں اپنے اصل پیشے سے انصاف کرتے ۔لہزا معائنے کا وقت شام کے کھانے کے بعد کا ہوتا اور مریض سر شام ہی گھر کے باہر باری کے انتظار میں ھوتے۔ مریضوں سے منہ کھلوانے سے لیکر دانتوں کے نکالنے تک کا پورامرحلہ ایک انتہائی وحشیانہ اور تکلیف دہ عمل ھوتا تھا ۔ سب سے پہلے ترکاں مخصوص دانت کا معائنہ ایک چھوٹے سے ہتھوڑے سے ہلکا سا ٹھونک بجا کر اس تسلی کے ساتھ کرتے کہ متاثرہ دانت کونسی ہے۔ اس کے بعد مریض کو فرش پر چت لیٹایا جاتا مریض کے ساتھ آیا ہوا اس کا ایک رشتہ دار آگے بڑھ کر مریض کے ہاتھوں کو کس کر پکڑ لیتا جبکہ دوسرا سر کو پکڑ لیتا ۔ اس کے بعد دانت نکالنے کا عمل شروع ھوتا ۔ ترکان آمبور سے متاثرہ دانت کو زور سے کھینچ لیتے۔ دانت کے جلد اور نسبتا کم تکلیف سے نکلنے کا انحصار متاثرہ دانت کی کمزوری پر ھوتا ۔ یعنی جتنا دانت کمزور ھوتا اتنا ھی جلد نکل جاتا۔ لیکن زیادہ تر دانت مضبوط ھوتے۔ ان کو نکالنے کے لیئے ترکان باقاعدہ طور پر اپنا گھٹنا مریض کے سینے پر رکھ کر کھنچ لیتے۔ اس دوران شدت تکلیف سے مریض کے منہ سے دردناک چیخ بلند ھوتی جن کو کبھی بھی خاطر میں نہیں لے آتا۔ آدھے گھنٹے کی اذیت ناک مشق کے بعد مریض نیم بے ھوشی اور غنودگی کی حالت میں جب باہر نکلتا تو باری کے منتظر بیشتر مریضوں کا درد اس کی حالت کو دیکھ کر خودبخود ٹھیک ھوجاتا۔

Facebook Comments